Episode 1
#Cousins_Based_Funny_Romantic_Novel
#تیری_آہٹوں_کا_منتظر
#حورین_فاطمہ
قسط نمبر:1
ممانی جان ممانی جان،،، کدھر ہیں آپ ۔۔۔۔
وہ اونچی اونچی آواز میں شمائلہ بیگم کو آوازیں دیتی لاؤنج تک آئی تھی اور پھر کچن سے آتی آوازیں سن کر اس طرف بھاگی تھی ۔۔۔۔
ممانی جان کدھر ہیں آپ اب سامنے آ بھی جائیں یا میں اللہ دین کا چراغ لے کر ڈھونڈوں آپ کو۔۔۔۔
اف اللّٰہ ،تھک گئی میں آپ کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے اور آپ ادھر کچن میں ہیں ۔۔۔۔
شمائلہ بیگم اس کی گوہر افشانیاں سن کر بس مسکرائے جا رہی تھیں ۔۔۔۔
واؤ میری پیاری ممانی جان بریانی بنا رہی ہیں ،، بریانی کی خوشبو ہی اتنی پیاری آ رہی ہے تو کھانے میں تو اور بھی زیادہ ٹیسٹی ہوگی، پریہا جسے سب پیار سے پری کہتے ہیں شمائلہ بیگم کے گال چٹا چٹ چومتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔
چل ہٹ بے شرم نہ ہو تو، شمائلہ بیگم مسکرا کر بولیں۔۔۔۔
اب جلدی جاؤ اور یہ کافی کا مگ عادل کو اس کے روم میں دے کر آؤ۔۔۔۔
کیااااااااااا،، عادی بھائی آگئے اور آپ نے مجھے بتایا بھی نہیں،میں اتنی دفعہ پوچھ بھی چکی ہوں آپ سے۔۔۔۔
جاؤ شمی ڈارلنگ آپ کا بھی کوئی حال نہیں۔۔۔۔
پری اپنے ماتھے پر ہاتھ مار کر افسوس کرنے والے انداز میں بولی۔۔۔۔
اے بے شرم لڑکی تھوڑا صبر تو کر بس بولے جا رہی ہے۔۔۔۔
ابھی آیا ہے وہ ۔۔۔
اچھا اب مجھے باتوں میں تو نہ لگائیں آپ اور دیں کافی میں انہیں دے کر آتی ہوں۔۔۔۔۔
وہ شمائلہ بیگم سے چائے کا کپ لیتی عادل کے کمرے کی جانب چل دی۔۔۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
وہ شاور لے کر بلیک ٹراؤزر پہنے اور کندھوں پر ٹاول پھیلائے آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر اپنی شرٹ پہننے لگا تھا۔۔۔۔۔
وہ دبے دبے قدموں سے چلتی ہوئی اس کے کمرے میں داخل ہوئی ۔۔۔۔۔۔
شرٹ پہن کر نیچے جھک کر وہ ڈریسنگ ٹیبل کے دراز سے کنگھا اٹھانے لگا تھا اور وہ بغیر آواز پیدا کیے کافی کا مگ ٹیبل پر رکھ کر اس کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔
یہ تم چوروں کی طرح میرے کمرے میں کیوں آ رہی ہو۔۔۔۔
اور آپ یہ پولیس والوں کی طرح انویسٹیگیشن کرنا کب چھوڑیں گے جب آپ کو پتا ہی ہے آپ کے کمرے میں میرے علاوہ ایسے کون آسکتا ہے ۔۔۔۔۔
وہ کون سا کسی سے کم تھی عادل کو اسی کی زبان میں ہی جواب واپس لٹا دیا۔۔۔۔۔۔
تم کبھی نہیں سدھر سکتی ہیں نا۔۔۔۔۔
آپ بلکل ٹھیک سمجھے ہیں جی ،،وہ اپنے دوپٹے کا پلو منہ میں ڈال کر شرمانے والے انداز میں بولی اور عادل اس کی حرکت پر سر جھٹک کر رہ گیا اور ہلکا سا مسکرا دیا۔۔۔۔۔
چلیں آج میں آپ کو ایک راز کی بات بتاتی ہوں وہ زرا سا اس کی طرف جھکتی ہوئی دھیمی اور رازدارانہ انداز میں بولی ۔۔۔۔۔۔
اگر میں کہوں مجھے تمھارا راز نہیں سننا تو کیا تم نہیں سناؤ گی ۔۔۔۔
لے بھائی یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے پھر تو میں زبردستی سناؤں گی ۔۔۔۔۔
پری کی بات پر عادل ہلکا سا مسکرا دیا۔۔۔۔۔
چلو بتاؤ ایسی کونسی بات ہے جس نے تمھارے پیٹ میں اودھم مچا رکھی ہے ۔۔۔۔۔
آپ کو پتا ہے میں ایسے آپ کے کمرے میں دبے پاؤں کیوں آتی ہوں؟؟؟
نہیں مجھے نہیں پتہ آپ خود ہی بتا دیں میڈم کہ یہ عزیم کارنامہ آپ کیوں کرتی ہیں ۔۔۔۔۔
ارے پتا بھی کیسے ہوگا آپ کونسا میری طرح انٹیلیجنٹ ہیں ۔۔۔
پری اپنے چہرے پر آنے والی آوارہ لٹوں کو کان کے پیچھے اڑستے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔
اور اس کی بات پر عادل بس اسے گھور کر رہ گیا۔۔۔۔۔
بول تو آپ ایسے رہے ہیں جیسے مجھ پر کوئی احسان کر رہے ہوں ۔۔۔۔۔
ہی ہی ہی ہی ہی ہی ہی ۔۔۔۔۔عادی بھائی ویری فنی کبھی کبھی آپ کتنے سستے جوک مارتے ہو نا۔۔۔۔۔
وہ ماتھے پر ہاتھ مار کر بولنے کے ساتھ ساتھ کھلکھلا کر ہنس بھی رہی ہوتی ہے اور وہ اس کی ہنسی میں ہی کہیں کھو سا جاتا ہے ۔۔۔۔۔
اچھا اب آپ اتنا انسسٹ کر ہی رہے ہیں تو سنیں بتا ہی دیتی ہوں آپ کو۔۔۔۔۔
میں آپ کو رنگے ہاتھوں پکڑنے آپ کے کمرے میں آتی ہوں ۔۔۔۔۔
کیا مطلب ہے تمھارا ؟؟
میں کوئی چور ہوں۔۔۔۔
عادل ماتھے پر انگنت بل لاتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
اف او عادی بھائی ،،پری اپنے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔
میں نے کب کہا آپ کوئی چور ہیں ۔۔۔۔
وہ تو میں آپ کو اپنی گرل فرینڈز سے چھپ چھپ کر باتیں کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔
پری آنکھیں مٹکاتے ہوئے بولی۔
اور عادل پری کی بات سن کر عش عش کر اٹھا۔۔۔۔۔
اووووو، عادل اپنے ہونٹوں کو او شکل میں کرتے ہوئے بولا ۔۔۔
اوہو میڈم جی اس کام کے لیے تو آپ کو بہت ساری محنت درکار ہے ۔۔۔۔۔
کیونکہ میں اپنی گرل فرینڈز کے بارے میں ایسے ہی تو کسی کو بھی بھنک نہیں لگنے دے سکتا نا ۔۔۔
عادل کے منہ سے گرل فرینڈز کا نام سن کر پری کی آنکھیں صدمے سے پوری کی پوری کھل گئیں ۔۔۔۔
عادی بھائی آپ جھوٹ تو نہیں بول رہے کہیں ۔۔۔۔
سچ مُچ میں آپ کی گرل فرینڈززززز ہیں کیا ،،، پری گرل فرینڈز کو ذرا کھینچتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔
میں ابھی ممانی جان اور مامو جان کو پتا کر آتی ہوں اپنا عادی ہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔
مس پری دی گریٹ سپائے آپ ان سب فضول باتوں کو چھوڑیں اور مجھے یہ بتائیں آپ کی سٹڈیز کیسی جا رہی ہیں ۔۔۔۔۔
نیکسٹ منتھ سے آپ کے ایگزامز سٹارٹ ہیں تو کیا پریپریش کر لی آپ نے۔۔۔۔۔
عادل نے کافی کا مگ اٹھا کر ہونٹوں سے لگاتے ہوئے پری سے اس کی سٹڈیز کے بارے میں دریافت کیا۔۔۔۔۔
کام دیکھو ان جناب کے کیسے اپنی گرل فرینڈز کو فضول بول رہے ہیں اور کہیں میں ان کی گرل فرینڈز کا پتا نہ لگا لوں اس لیے کیسے بات ہی بدل ڈالی ۔۔۔
ہونہہ ،، پری ہنکارا بھرتے ہوئے دل ہی دل میں بڑبڑائی ۔۔۔۔۔
اب آپ کن سوچوں میں گم ہوگئی ہیں مس پریہا۔۔۔۔عادل پری کو سوچوں میں گم دیکھ کر تھوڑی اونچی آواز میں بولا ۔۔۔۔
عادی بھائی وہ تو ایک دم زبردست ہے ۔۔۔۔۔
فلحال تو میں جب پڑھتی ہوں تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے مجھے پوری کتاب حفظ ہوگئی ہو لیکن بعد میں جب پیپر میں لکھنے بیٹھتی ہوں تو سب کچھ اڑن چھو ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔
پری کی بات سن کر عادل ہلکا سا مسکراتا ہے اور اسے بکس لے کر آنے کا بولتا ہے تاکہ خود پاس بیٹھ کر اس کی پریپریش کروا سکے ۔۔۔۔۔
پری جلدی سے بکس اٹھانے کے لیے کمرے سے باہر دوڑ لگا دیتی ہے اور عادل اس کی پھرتی دیکھ کر مسکرا دیا۔۔۔۔۔
پاگل نہ ہو تو ۔۔۔۔
پتا نہیں اس پاگل کو میرے دل کی حالت کبھی سمجھ بھی آئے گی یا میں ایسے ہی ساری زندگی بھائی بھائی سنتا رہ جاؤں گا ۔۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
شاہ ولا میں دو فیملیز مقیم تھیں ۔۔۔۔
بڑے بھائی ندیم شاہ اور ان کی بیگم فاطمہ شاہ ۔۔۔۔
جو ایک کار ایکسیڈنٹ میں اس دارفانی سے کوچ کر گئے ۔۔۔۔۔
اس کے بعد ولید شاہ اور ان کی بیگم شمائلہ شاہ جن کا ایک بیٹا عادل شاہ تھا جسے سب پیار سے عادی عادی کہتے تھے ۔۔۔۔۔
اور سب سے چھوٹی نائلہ شاہ جن کی شادی ان کی پسند سے ان کے کلاس فیلو سے ہوئی تھی ۔۔۔۔
پریہا کی پیدائش کے دو سال بعد ہارٹ اٹیک ہونے کی وجہ سے وہ بھی اس دنیا سے رخصت ہوگئے ان کے جانے کے بعد نائلہ بیگم بلکل اکیلی ہوگئی تھیں اس لیے ان کے بھائی اپنی بہن کو واپس اپنے گھر لے آئے ۔۔۔۔۔
نائلہ بیگم کی بھی ایک ہی بیٹی تھیں پریہا جسے سب پیار سے پری پری کہتے تھے ۔۔۔۔
جو کہ ایک ہنس مکھ لڑکی تھی اور پورے شاہ ولا کی جان تھی ۔۔۔۔۔
اگر اسے عادل کی جان بھی کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہوگا ۔۔۔۔۔
اور آج کل ہماری پری کے سر پر عادل کی شادی کا بھوت سوار ہے اس کا کہنا ہے کہ کہیں منڈا ہاتھوں سے نہ نکل جائے اس لیے جلدی جلدی اسے گھوڑی چڑھا دیا جائے ۔۔۔۔۔۔
Episode 2
#تیری_آہٹوں_کا_منتظر
#حورین_فاطمہ
قسط نمبر:2
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
عادی یار تجھے آنٹی کھانے پر بلا رہی ہیں ۔۔۔۔
زریاب اپنے ہی دھیان چلا آ رہا ہوتا ہے کہ اس کی نظر سامنے عادل کے ساتھ کتابوں میں منہ دیے بیٹھی پری پر پڑتی ہے تو اس کی زبان میں کھجلی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔
اچھا تو نالائق لوگ بھی یہاں بیٹھے ہوئے ہیں ۔۔۔۔
میں بھی کہوں میرا دوست نالائق کیوں ہوتا جا رہا ہے آج کل نالائق لوگوں کے ساتھ جو بیٹھ رہا ہے،زریاب تاسف سے سر ہلاتا ہوا بولا اور عادل کے ساتھ ہی بیٹھ گیا ۔۔۔۔
پری کی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر وہ دونوں ہی پری کی طرف دیکھتے ہیں جو ایسے ری ایکٹ کر رہی تھی جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہ ہو۔۔۔۔۔
اور یہ بات ان دونوں کے لیے کسی صدمے سے کم نہ تھی کہ مس پریہا نے زریاب کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا ایسے کیسے ۔۔۔۔۔
عادی یار بات کچھ ہضم نہیں ہو رہی ۔۔۔۔۔
زریاب عادل کے کان کے پاس سرگوشی کرنے والے انداز میں بولا ۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ عادل کچھ کہتا شمائلہ بیگم کمرے میں داخل ہوئیں۔۔
زریاب بیٹا میں نے آپ کو ان دو نالائقوں کو بلانے بھیجا تھا اور آپ بھی ان کے ساتھ یہاں آ کر بیٹھ گئے ہو ۔۔۔۔۔
شمائلہ بیگم کافی دیر ان لوگوں کا ڈائننگ ہال میں انتظار کرنے کے بعد ان کے کمرے میں آ کر بولیں ۔۔۔۔۔
ماما ہم لوگ بس آ ہی رہے تھے پری کا بس تھوڑا سا کام رہتا تھا سوچا ایک ہی دفعہ کمپلیٹ کروا دوں ۔۔۔۔۔
عادل محبت سے اپنی ماں کے گلے میں باہیں ڈالتے ہوئے انہیں بتانے لگا۔۔۔۔
ممانی جان مجھے تو اتنی دیر سے بھوک لگی ہوئی تھی میں کب سے ان دونوں کو بول رہی تھی پہلے کھانا کھا لیتے ہیں بعد میں پڑھ لیں گے لیکن یہ دونوں مجھے پڑھانے کا بہانا بنا کر زریاب کی گرل فرینڈ سے بات کر رہے تھے،،پری آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو لا کر بولی۔۔۔۔۔
پری کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر شمائلہ بیگم تڑپ ہی تو گئی تھیں۔۔۔
پری کی بات پر زریاب جو کہ سائیڈ ٹیبل سے جگ اٹھا کر گلاس میں پانی ڈال رہا تھا گلاس اس سے چھوٹتے چھوٹتے بچا اور دونوں لفظ پر عادل کا منہ بھی صدمے سے پورے کا پورا کھل گیا۔۔۔۔۔۔
نہیں آنٹی ایسی کوئی بات نہیں ہے پری جھوٹ بول رہی ہے کیوں عادی زریاب نے اپنی بات کے درمیان میں عادل کو گھسیٹنا بھی ضروری سمجھا۔۔۔۔
جی ماما ایسی کوئی بات نہیں ہے،پری مذاق کر رہی تھی۔۔۔۔
کیوں پری ۔۔
شمائلہ بیگم کو بتانے کے بعد عادل نے پری کی طرف دیکھا۔۔۔۔
توبہ توبہ عادی بھائی کیسے بھائی ہیں آپ اپنی معصوم سی بہن سے جھوٹ کیوں بلوا رہے ہیں۔۔۔۔
میں جھوٹ نہیں بولوں گی۔۔۔۔
عادل تو بہن لفظ پر ہی استغفار پڑھ کر رہ گیا اور دل میں سوچنے لگا یہ لڑکی نہیں سدھر سکتی۔۔۔۔۔
میں نہ کہتی تھی یہ لڑکے ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں اسی لیے جب بھی شادی کا پوچھو منع کر دیتے ہیں لیکن یہاں میری سنے کون،، شمائلہ بیگم بڑبڑاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئیں۔۔۔۔۔۔
ہونہہ،،آئے بڑے دی گریٹ پری کو نالائق بولنے والے۔۔۔۔
پری اپنے ماتھے پر نہ آنے والی بالوں کی لٹ کو پیچھے کرتے ہوئے بولی اور ان دونوں کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر جلدی سے وہاں سے نو دو گیارہ ہو گئی۔۔۔۔۔
یار عادی کسی دن تیری یہ کزن پلس کبھی نہ ہونے والی بہن میرے ہاتھوں سے ضائع ہو جائے گی کتنی صفائی سے آنکھوں میں موٹے موٹے ٹیسوے لا کر جھوٹ بولا ہے کہ آنٹی کو اس کی باتوں پر یقین ہوگیا۔۔۔۔
اب کہیں ماما کو فون کر کے نہ بتا دیں وہ ماما نے مجھے ویسے ہی رات کو گھر میں گھسنے نہیں دینا۔۔۔۔۔
عادل نے زریاب کو ایک گھوری سے نوازا اور وہ دونوں بھی ڈائننگ ہال کی جانب چل دیے۔۔۔۔۔
جہاں باقی سب ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے ان کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔۔
زریاب اور عادل بچپن کے دوست اور ایک دوسرے کے ہمسائے تھے جس کی وجہ سے زریاب کا ان کے گھر آنا جانا لگا رہتا تھا۔۔۔۔۔
پری کو تنگ کرنا زریاب کا فیورٹ مشغلہ تھا لیکن پری بھی بھر پور اپنا بدلہ اس سے لیتی تھی۔۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
پری جتنی تیزی کے ساتھ کھانا کھا رہی تھی اتنی ہی تیزی کے ساتھ اس کی زبان بھی چل رہی تھی۔۔۔۔۔
ماموں جان آپ کو نہیں لگتا ہمارے گھر میں کوئی ہلا گلا رونق شونق ہونی چاہیے۔۔۔۔۔
اتنا عرصہ ہوگیا ہے ہم سب لوگوں نے انجوائے بھی نہیں کیا ۔۔۔۔۔
کیوں نہ گھر میں گانا بجانا کیا جائے ،،، کیوں زریاب ۔۔۔۔
پری اپنی باتوں کے بیچ زریاب کو بھی گھسیٹ لیتی ہے ۔۔۔۔
یہ اپنی باتوں کے بیچ ہر دفعہ مجھے کیوں گھسیٹتی ہے۔۔۔۔
زریاب بس سوچ کر رہ گیا ۔۔۔۔
زریاب کی طرف سے کوئی جواب آتا اس سے پہلے ہی عادل بول پڑا ،،جی پاپا پری بلکل ٹھیک بول رہی ہے ۔۔۔۔۔
عادل کی بات پر سب گھر والوں کے چہروں پر خوبصورت سی مسکراہٹ چھا جاتی ہے ۔۔۔۔
تھوڑی دیر کے لیے پری کو تو صدمہ ہی لگ جاتا ہے کیسے شادی کے نام سے بھاگنے والا عادل آج اتنی جلدی مان گیا۔۔۔۔
لیکن بعد میں اپنی ساری سوچوں کو جھٹک کر ایک دم سے اٹھ کر ڈانس کرنا سٹارٹ کر دیتی ہے ۔۔۔۔
بھیا میرا پیارا بھیا گھوری چڑھے گا ۔۔۔۔
مجھے لہنگا مسکارا ملے گا ۔۔۔۔
کتنا مزا آئے گا ۔۔۔۔۔
یہ پاگل ہوگئی ہے کیسے سونگ پر ڈانس کر رہی ہے زریاب اور عادل ایک دوسرے کے کان میں بڑبڑائے ۔۔۔۔۔
شمائلہ بیگم آگے بڑھ کر عادل کا ماتھا چوم ڈالتی ہیں ۔۔۔۔۔
میری پیاری بیٹی بلکل ٹھیک کہہ رہی ہے ۔۔۔۔۔
اب عادل کے سر پر سہرا سج ہی جانا چاہیے ۔۔۔۔۔
اپنے پاپا کی بات سن کر کھانے کی طرف جاتے اس کے ہاتھ رک جاتے ہیں اور اسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوتا ہے ۔۔۔۔۔
لگتا ہے عادل بیٹا تو جلدی میں کچھ غلط بول گیا ہے،،عادل دل ہی دل میں بڑبڑاتا ہے ۔۔۔۔
عادل بیٹا تمھارے پاپا تم سے کچھ پوچھ رہے ہیں ۔۔۔۔۔
اپنے پاپا کو جواب دو۔۔۔۔۔
شمائلہ بیگم عادل کو سوچوں میں گم دیکھ کر بولیں ۔۔۔۔
ماما پاپا مجھے لگا تھا پری گھر میں کوئی پارٹی شارٹی رکھنے کی بات کر رہی ہے اس لیے میں نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی تھی ۔۔۔۔۔
میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا پلیز آپ لوگ مجھے مجبور مت کریں ۔۔۔۔۔
وہ کرسی پیچھے کی طرف دھکیل کر اٹھ کر کھڑا ہو گیا تو سب لوگ بے بسی سے اسے دیکھ کر رہ گئے ۔۔۔۔۔
وہ ہمیشہ شادی کے نام پر ایسے ہی بھاگ جایا کرتا تھا ۔۔۔۔
اس کی ہر بار شادی والی بات سے بھاگ جانے والی بات صرف ایک انسان کے علاوہ کوئی بھی نہیں جان پایا تھا۔۔۔۔۔
فضول بکواس کرنے کی کیا ضرورت تھی تمھیں تھوڑی دیر کے لئے تم اپنی گز بھر لمبی زبان کو بند نہیں رکھ سکتی کیا ۔۔۔۔دیکھو بچہ کھانا کھائے بغیر ہی چلا گیا۔۔۔۔۔۔
عادل کے اس طرح سے بغیر کھانا کھائے چلے جانے کی وجہ سے نائلہ بیگم نے پری کی اچھی خاصی عزت افزائی کر کے رکھ دی ۔۔۔۔
جن کی باتوں پر پری منہ بسور کر رہ گئی ۔۔۔۔
گرل فرینڈززززز رکھنے کا شوق ہے موصوف کو شادی کرنے کا نہیں ۔۔۔۔۔
ایویں ای فضول میں ماما سے انسلٹ کروا دی ابھی تو میری بریانی کی آدھی پلیٹ پڑی ہوئی تھی اب ماما وہ بھی نہیں کھانے دیں گی بس گھورتی رہیں گی، لیکن اگر میں بریانی کو چھوڑ کر جاؤں گی تو یہ تو اس بیچاری کی توہین ہوگی نا کھا ہی لیتی ہوں ویسے بھی ماموں جان کے ہوتے ہوئے ماما مجھے کچھ نہیں کہہ سکتیں۔۔۔۔۔۔
پری بیٹی نے کچھ غلط نہیں کہا نائلہ اسے مت کچھ بھی کہو ۔۔۔۔۔
اپنے ماموں جان کی طرف سے طرف داری پا کر وہ اور چوڑی ہوگئی ۔۔۔۔۔
بھائی صاحب آپ اس سے پیار سے بات کریں اور پوچھیں آخر وہ شادی کیوں نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔۔۔
اگر آپ کہیں تو میں اس سے بات کر کے دیکھوں ۔۔۔۔
نہیں نائلہ میں خود بات کروں گا اس سے اگر وہ کسی کو پسند کرتا بھی ہے تو بتا دے بیٹا ہے وہ ہمارا ہم اس کی پسند کو اہمیت دیں گے لیکن وہ کھل کر بتائے تو سہی ۔۔۔۔۔
آپ سب لوگ سکون سے کھانا کھائیں ولید صاحب کے کہتے ہی سب کھانے کی طرف متوجہ ہوگئے ۔۔۔۔۔۔۔
ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے دو لوگ اپنی اپنی سوچوں میں گم تھے ۔۔۔۔۔
آخر عادل سب کو سچائی بتا کیوں نہیں دیتا ،، خود بھی ہر دفعہ اذیت سہتا ہے اور اپنے گھر والوں کو بھی اذیت دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔
یہ سب اتنا مشکل بھی نہیں ہے جتنا وہ سمجھ رہا ہے جب انکل آنٹی بول رہے ہیں وہ اس کی پسند کو فوقیت دیں گے تو پھر پروبلم کیا ہے۔۔۔۔۔
مجھے آج عادل سے بات کرنی ہی ہوگی ۔۔۔۔۔
زریاب عادل سے بات کرنے کا آج پکا ارادہ کر چکا تھا۔۔۔۔
ویسے یہ عادل بھائی کو مسئلہ کیا ہے،،، اتنی تو گرل فرینڈززززز ہیں ان کی، کسی بھی ایک اچھی گرل فرینڈ سے شادی کر لیں۔۔۔۔
لگتا ہے دال میں ضرور کچھ کالا ہے۔۔۔۔
کہیں نہ کہیں تو کچھ مسنگ ہے،آخر کیا ہوسکتا ہے۔۔۔
مجھے پتا لگانا ہی ہوگا اور بات کی تہہ تک جانا ہوگا،،،،پری بریانی کی پلیٹ میں چمچ ہلاتے ہوئے سوچنے لگی ۔۔۔۔۔
اب تمھارے ساتھ کیا مسئلہ ہے کھا کیوں نہیں رہی ،، پری کو سوچوں میں گم دیکھ کر نائلہ بیگم بولیں ۔۔۔۔۔
میرا ہوگیا ماما ۔۔۔۔اب میں اپنے کمرے میں چلتی ہوں۔۔۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
عادل کمرے میں آنے کے بعد اپنا لیپ ٹاپ اٹھاتا ہے اور اسے آن کرتا ہے اور اس میں سے پری کی تصویریں نکال کر انہیں جی بھر کر دیکھنے لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
بلیک کلر کی فراک پہنے لمبے بالوں کو ایک سائیڈ پر گرائے ہاتھوں میں مہندی لگائے کھڑی وہ کسی لڑکی کو دیکھا رہی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔
اور اس کے چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ ہوتی ہے جسے عادل اپنے موبائل کے کیمرے میں قید کر لیتا ہے ۔۔۔۔۔۔
یہ تصویر ان کے کسی رشتے دار کی شادی کی تھی ۔۔۔۔۔
میں تمھارے علاوہ کیسے کسی سے شادی کر سکتا ہوں پری۔۔۔۔
میں تو خوابوں میں بھی تمھارے علاوہ کسی کو اپنی زندگی میں شامل نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔۔
پھر سب لوگ سمجھتے کیوں نہیں ہیں پری ، نہ ہی تم سمجھتی ہو نہ ہی باقی سب گھر والے ۔۔۔۔۔۔
میں کیا کروں پری ۔۔۔۔
تمھارے علاوہ کسی اور کے بارے میں سوچنا بھی میں گناہ سمجھتا ہوں ۔۔۔۔۔۔
عادل پری کی تصویروں کے ساتھ باتیں کر رہا تھا کہ اتنے میں کمرے کا دروازا بج اٹھا۔۔۔۔۔
عادل نے جلدی سے لیپ ٹاپ کو شٹ ڈاؤن کیا اور آنے والے نفوس کو کمرے میں آنے کی اجازت دی ۔۔۔۔۔
یس کم ان۔۔۔۔۔
Episode 3
#تیری_آہٹوں_کا_منتظر
#حورین_فاطمہ
قسط نمبر:3
وہ اپنے کمرے میں ٹہلتی ہوئی تھوڑی پر انگلی جمائے کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی کہ اچانک کچھ یاد آنے پر چونک گئی ۔۔۔۔
اووووو تیری پری توں بھی نہ کتنی پاگل ہے عادی بھائی نے تو کھانا کھایا ہی نہیں ۔۔۔۔
اب کیا کروں ایک کام کرتی ہوں پہلے ان کے لیے کھانے کو کچھ اچھا سا بناتی ہوں انہیں روم میں دے کر آتی ہوں اور ساتھ سوری بھی کرتی آؤں گی اور کہہ دوں گی میں تو ایویں ای شوگل میلہ لگا رہی تھی آپ تو سیریس ہی ہوگئے ۔۔۔
ہاں یہ اچھا آئیڈیا ہے ،، پری مسکراتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
واؤ پری تم کتنی انٹیلیجنٹ ہوں ،،پری اپنے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔
لیکن پتا نہیں ٹیچر کو کیوں میں نکمی لگتی ہوں ،،،خیر سب کی اپنی اپنی سوچ ۔۔۔۔۔
پری جلدی سے سیڑھیاں پھلانگتی ہوئی نیچے کی جانب گئی اور کچن کی جانب بڑھ گئی ۔۔۔۔
جلدی سے پاستا بنایا اسے اچھی طرح ٹرے میں سیٹ کیا ایک گہری سانس ہوا میں خارج کی اور عادل کے روم کی جانب چل دی۔۔۔۔
ایک ہاتھ سے کھانے کی ٹرے پکڑے دوسرے ہاتھ سے دروازے کا ہینڈل گھمانے ہی لگی تھی کہ اندر سے آنے والی آواز پر فوراً سے رک گئی ۔۔۔۔
یار عادی تم اسے بتا کیوں نہیں دیتے آخر ۔۔۔۔۔۔
ایسا کب تک چلے گا میرے یار ۔۔۔۔
نہیں زریاب یار تم مجھے سمجھ کیوں نہیں رہے ہو۔۔۔۔
ابھی سہی وقت نہیں ہے ۔۔۔۔
کیوں نہیں ہے سہی وقت ۔۔۔۔
سہی وقت تب آئے گا جب تمھاری یا اس کی شادی ہوگئی ۔۔۔۔
انکل اور باقی سب گھر والے خاص طور پر تمھاری وہ چہیتی تمھاری شادی کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی ہوئی ہے ۔۔۔
کیسے روکو گے تم ان سب کو ۔۔۔۔
اس دفعہ تو انکل نے بھی دو ٹوک طریقے سے بات کرنے کی ٹھانی ہوئی ہے ۔۔۔۔
اس دفعہ تو وہ تم سے ہاں کروا کر ہی دم لیں گے تم سمجھ کیوں نہیں رہے ہو ۔۔۔۔
کم از کم اسے ہی بتا دو جس کے انتظار میں آج تک بیٹھے ہوئے ہو ۔۔۔
کم از کم اسے تو آپ کے جذبات کا علم ہونا چاہیے۔ ۔۔۔
نہیں یار وہ ابھی چھوٹی ہے۔۔۔۔
میں یہ سب باتیں ابھی اس کے دماغ میں نہیں ڈالنا چاہتا ۔۔۔۔
تم اس آفت کی پوری کو چھوٹی سمجھ رہے ہو ۔۔۔۔
کوئی چھوٹی ووٹی نہیں ہے وہ ۔۔۔۔
اب تم اسے سب کچھ سچ سچ بتا رہے ہو یا میں بتاؤں ۔۔۔
ہیں یہ لوگ کس کی بات کر رہے ہیں ،،، اور عادی بھائی کس کے عشق میں اوپر سے نیچے تک ڈوبے ہوئے ہیں ۔۔۔۔
باہر کھڑی پری کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ دونوں آخر بات کس کی کر رہے تھے ۔۔۔۔
اوہ ،تو کسی لڑکی شڑکی کا چکر ہے ۔۔۔۔۔
میں کیوں پیچھے رہوں ، پری کچھ سوچتے ہوئے دروازہ کھولنے کے ہاتھ بڑھاتی ہی ہے کہ اپنا نام سن کر ٹھٹھک کر رک جاتی ہے ۔۔۔۔۔
خبردار زریاب اگر تم نے پری کو کچھ بھی کہا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔۔
اب اگر تمھیں پتا چل ہی گیا ہے تو اس کا کیا مطلب ہے تم سب کو بتاتے پھرو گے ۔۔۔۔۔
یہ سب جاننے کا حق ہے اسے تو پھر میں اسے کیوں نہ بتاؤں ۔۔۔۔
اسے بھی تو پتا چلے جسے وہ سارا دن بھائی بھائی کہتی پھرتی ہے وہ اسے اپنے دل میں بسائے بیٹھا ہے ۔۔۔۔
وہ انسان اس کے عشق میں نا جانے کب سے ڈوبا ہوا ہے ۔۔
یہ سب سنتے ہی باہر کھڑی پری کے قدم لڑکھڑا جاتے ہیں اور وہ ڈبڈبائی نظروں سے بند دروازے کو دیکھتی ہے جس کے اس پار وہ انسان بیٹھا تھا جو اس سے ناجانے کب سے محبت کرتا تھا ۔۔۔
آج اس کے سامنے اتنا بڑا انکشاف ہوا تھا کہ سہی معنوں میں اس کی بولتی بند ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
مجھے خود بھی نہیں پتا یار یہ سب کب اور کیسے ہوا۔۔۔۔۔
اس کا پاگل پن ۔۔۔
اس کا مجھے تنگ کرنا ، فرمائشیں کرنا ۔۔۔۔
ہنسنا ،رونا۔۔۔۔
سب مجھے اچھا لگنے لگا۔۔۔
یہ تو تم جانتے ہی ہو وہ بچپن سے ہی میری زندگی کا ایک اہم حصہ رہی ہے ۔۔۔۔
مجھے اس کی اتنی زیادہ ہے کہ اس سے دوری کا سوچتے ہوئے ہی میری جان نکل جاتی ہے ۔۔۔۔
یار میں اس سے دور کیسے رہوں گا ۔۔۔
میں اس کی دوری کیسے برداشت کروں گا ۔۔۔۔
جب تک میں اسے اپنی نظروں کے سامنے نہ دیکھوں مجھے سکون نہیں ملتا ۔۔۔۔۔
وہ ابھی نا سمجھ ہے یار ،،، میں ڈرتا ہوں اگر اسے سب کچھ سچ پتا چل گیا تو وہ کیا سوچے گی میرے بارے میں ۔۔۔
کہیں وہ مجھ سے دور ہی نہ چلی جائے ۔۔۔۔۔
پتا نہیں وہ پھر کبھی مجھ پر یقین کرے گی بھی یا نہیں ۔۔۔۔
اگر اسے مجھ سے نفرت ہوگئی تو میں کیسے اس کی نفرت برداشت کروں گا ۔۔۔۔
وہ کانچ کی گڑیا میری وجہ سے کہیں ٹوٹ بکھر ہی نہ جائے۔۔۔۔۔
میں اسے اس حالت میں نہیں دیکھ پاؤں گا یار ۔۔۔۔۔
میں اسے سب کچھ بتا دوں گا لیکن سہی وقت آنے پر ۔۔۔۔
فلحال میں چاہتا ہوں وہ اپنی سٹڈیز پر فوکس کرے ،،،تھوڑی سمجھدار ہو جائے ۔۔۔۔
وہ مجھے اور میری محبت کو محسوس کرے۔۔۔۔
جیسے میں اس سے محبت کرتا ہوں وہ بھی مجھ سے محبت کرے ۔۔ وہ مجھے اور میری محبت کو دل سے محسوس کرے ۔۔۔۔
پھر میں اس کی طرف اپنی محبت کا ہاتھ بڑھاؤں اپنی محبت کا اظہار کروں اور اس کانچ کی گڑیا کو ہمیشہ کے لیے اپنا بنا لوں۔۔۔۔۔
میں بس اسے خوش دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔
لیکن یار۔۔۔۔۔
لیکن ویکن کچھ نہیں ۔۔۔۔
تو پری کو کچھ نہیں بتائے گا اب یہاں سے دفع ہوجا۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے یار فلحال میں اسے کچھ نہیں بتا رہا لیکن زیادہ دیر چپ بھی نہیں رہوں گا ۔۔۔۔۔
مجھے تم دونوں کی خوشیاں عزیز ہیں بس میں تم دونوں کو ہمیشہ خوش دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔
تو فکر نہ کر یار انشاء اللہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔
اسے ایک نہ ایک دن میری ہی ہونا ہے کیونکہ وہ میری ہے۔۔۔۔۔
اس کے لہجے میں پری اور اس کی محبت کو پا لینے کا ایک عزم تھا ۔۔۔۔۔
اسے وہاں اپنے پیروں پر کھڑے رہنا دو بھر لگ رہا تھا ۔۔۔۔
اتنا سب کچھ سننے کے بعد اس کی سماعتیں جیسے کام کرنا چھوڑ دیتی ہیں ۔۔۔۔
اس کے کان سائیں سائیں کرنے لگتے ہیں ۔۔۔۔
اسے اپنے دل پر بوجھ سا پڑتا محسوس ہوتا ہے اور وہ لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ بمشکل اپنے کمرے میں بھاگ جاتی ہے اور منہ پر ہاتھ رکھ کر سسکیوں کو دباتی ہے ۔۔۔۔
اس کے جانے کے بعد زریاب بھی اپنے گھر کی راہ لیتا ہے ۔۔۔۔
اس بات سے وہ دونوں دوست انجان تھے کہ جس سے وہ سب کچھ چھپانے کا عہد کر رہے تھے اسے تو سب کچھ معلوم ہوچکا تھا۔۔۔۔
اب پتا نہیں ان لوگوں کی زندگیوں میں کونسا طوفان آنے والا تھا۔۔۔۔۔۔
اپنے کمرے میں آنے کے بعد پری نے جلدی سے کمرے کا دروازا لاک کیا اور وہیں دروازے کے پاس گھٹنوں کے بل نیچے گرتی چلی گئی۔۔۔۔
ضبط سے اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں،،، کرب کے مارے اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔۔۔۔
اسے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔۔۔۔۔
اپنی قسمت ہنسے یا روئے۔۔۔۔۔
جس انسان کو بچپن سے لیکر اب تک اس نے اپنا بھائی سمجھا ہی نہیں مانا بھی تھا اس انسان نے تو کبھی اسے اپنی بہن مانا ہی نہیں۔۔۔۔۔
اس کی قسمت اسے کس موڑ پہ لے آئی تھی۔۔۔۔
تو کیا عادی بھائی اس لیے شادی نہیں کر رہے تھے کہ وہ مجھے سے محب،،،،،،کہتے کہتے اس کی زبان لڑکھڑا جاتی ہے۔۔۔۔
عادل کی زندگی میں اپنی اہمیت تو اسے اچھے سے معلوم تھی۔۔۔۔۔اس نے ہمیشہ خود سے زیادہ بڑھ کر اس کا خیال رکھا،،،اس کی ہر خواہش کو پورا کیا۔۔۔۔
میں آپ کی اس قدر محبت کا بدلہ کیسے چکاؤں گی عادی بھائی۔۔۔۔
آپ نے مجھے یہ کس چوراہے پر لا کر کھڑا کر دیا ہے۔۔۔۔
آپ مجھ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور میں کبھی آپ کی محبت کو سمجھ ہی نہیں پائی۔۔۔۔
کتنی بڑی بیوقوف ہوں نا میں۔۔۔۔
میری وجہ سے آپ ناجانے کب سے اتنی زیادہ اذیت میں ہیں۔۔۔۔
آپ نے ہمیشہ مجھے خوشیاں ہی دی ہیں اور میں نے سوائے دکھ اور اذیت کے کچھ نہیں۔۔۔۔
اب میں آپ کا سامنا کیسے کروں گی ۔۔۔
میں تو آپ سے نظریں ملانے کے قابل بھی نہیں رہی عادی بھائی۔۔۔۔۔
اف میرے خدایا،،اب میں کیا کروں۔۔۔
روتے ہوئے وہ آہستہ آہستہ بڑبڑاتی ہے اور آہستہ سے اٹھ کر جا کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔۔
اور اپنا سر گھٹنوں میں گرا لیا۔۔۔۔
مجھے اتنی تکلیف کیوں ہو رہی ہے۔۔۔۔
کیوں میرے دل میں درد سا اٹھ رہا ہے۔۔۔۔۔
کیوں انہیں اذیت میں دیکھ کر مجھے بے چینی محسوس ہو رہی ہے۔۔۔۔۔
وہ چاہتے ہیں میں ان کی محبت کو جانوں،،سمجھوں محسوس کروں۔۔۔۔۔
لیکن میں یہ سب کیسے کر پاؤں گی۔۔۔۔
مجھے انہیں یوں بے بس دیکھ کر شرمندگی اور دکھ ہو رہا ہے۔۔۔۔
سب کچھ جاننے کے باوجود بھی وہ چاہ کر بھی مجھے کچھ نہیں کہہ سکتے۔۔۔۔۔
میری خوشی کی خاطر وہ مجھ سے دور ہیں۔۔۔۔
کہیں ان کی کانچ کی گڑیا ٹوٹ بکھر ہی نہ جائے۔۔۔۔۔
لیکن پھر بھی میں تو ٹوٹ بکھر رہی ہوں۔۔۔۔
مجھ سے یہ سب برداشت نہیں ہو رہا۔۔۔۔۔
پلیز عادی بھائی،،،پلیز مجھے بچا لیں۔۔۔۔
میں مر جاؤں گی۔۔۔۔۔
میرا دماغ آپ کی محبت کا بوجھ برداشت نہیں کر پا رہا۔۔۔۔
مجھ میں یہ سب برداشت کرنے کی ہمت نہیں ہے۔۔۔۔
وہ اپنے ہاتھوں سے سر کو پکڑے بیڈ پر گرتی ہے اور ہوش و حواس سے بیگانہ ہوتی چلی جاتی ہے۔۔۔۔۔
Episode 4
#تیری_آہٹوں_کا_منتظر
#حورین_فاطمہ
قسط نمبر:4
پری بیٹا دروازہ کھولو ۔۔۔
بیٹا کالج نہیں جانا کیا تم نے ،،، اور کتنا سونا ہے بیٹا اب اٹھ بھی جاؤ ۔۔۔۔
نائلہ بیگم کب سے دروازے کے باہر کھڑی دروازے کو کھٹکھٹا رہی تھیں لیکن پری دروازہ کھولنے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔۔۔۔
پری میری جان دروازہ کھولو کالج کے لیے تمھیں دیر ہو رہی ہے ۔۔۔۔
میری جان ماما کو یوں تنگ کرنا آپ کو اچھا لگتا ہے کیا۔۔۔۔
بولنے کے ساتھ ساتھ نائلہ بیگم مسلسل دروازہ بھی کھٹکھٹا رہی تھی ۔۔۔
لیکن اندر سے کوئی جواب نہ آتا دیکھ کر وہ پریشان سی ہوگئی تھیں ۔۔۔
السلام علیکم! ایوری ون ،، وہ سب کو سلام کرتا چیئر کھینچ کر اس پر بیٹھ جاتا ہے ۔۔۔۔
ماما پری اور پھوپھو جان نہیں آئیں ابھی تک ۔۔۔
ان لوگوں نے ناشتہ نہیں کرنا کیا ۔۔
بیٹا تمھاری پھوپھو گئیں ہیں پری کو جگانے بس وہ لوگ آتے ہی ہوں گے ۔۔۔۔
ہاں میں سر ہلاتے ہوئے وہ ابھی اپنا ہاتھ کافی کے مگ کی طرف بڑھاتا ہی ہے کہ نائلہ بیگم کی آواز پر چونک جاتا ہے ۔۔۔۔
بھائی صاحب ، بھابی آپ لوگ جلدی اوپر آئیں ،میری پری اپنے دوم کا دروازہ نہیں کھول رہی مجھے بہت ٹینشن ہو رہی ہے ۔۔۔۔
نائلہ بیگم کی آواز سنتے ہی سب اوپر کی جانب بھاگ پڑتے ہیں اور سب سے پہلے پری کے روم تک پہنچنے والا عادل شاہ ہوتا ہے ۔۔۔۔
پری ، دروازہ کھولو ۔۔۔۔
عادل پری کو پکارنے کے ساتھ ساتھ مسلسل دروازہ کھولنے کی کوشش بھی کر رہا ہوتا ہے ۔۔۔
لیکن اندر سے پری کا جواب نہ آتا دیکھ کر سب پریشان ہو جاتے ہیں ۔۔۔
پھوپھو جان اگر آپ کے پاس اس روم کی ڈپلیکیٹ کی ہے تو جلدی سے لے کر آئیں ایسے ہم سے دروازہ نہیں کھلنے والا ۔۔۔۔
کہیں ہم دروازہ کھولنے کے چکروں میں لیٹ ہی نہ ہو جائیں ۔۔۔۔
عادل کی بات سنتے ہی نائلہ بیگم اپنے روم کی جانب بھاگتی ہیں اور پری کے روم کی ،کی لے کر آتی ہیں ۔۔۔۔۔
پری بیٹا ،پری ماموں کی جان دروازہ کھولو سب پریشان ہو رہے ہیں ۔۔۔۔
یہ لو عادی بیٹا جلدی سے دروازہ کھولو میرا دل بیٹھا جا رہا ہے ،،،،
یا اللّٰہ میری بچی ٹھیک ہو۔۔۔۔۔اب تو نائلہ بیگم کی آواز بھی رونے والی ہوگئی تھی۔۔۔۔
عادل نے نائلہ بیگم سے کی لے کر دروازہ اوپن کیا تو سب بیتابی سے اندر داخل ہوئے ۔۔۔۔
اور بیڈ کی طرف بڑھے جہاں پری آڑی ترچھی بیڈ پر لیٹی دنیا و مافیہا سے بے خبر سوئی ہوئی تھی ۔۔۔
ٹانگیں اسکی بیڈ سے نیچے ہی لٹک رہی تھی ،،،دوپٹہ بھی نیچے دروازے کے پاس گرا ہوا اپنی بے قدری پر رو رہا تھا ۔۔۔۔
بکھرے ہوئے بال ،سرخ ناک اور چہرے پر آنسوئوں کے مٹے مٹے سے نشان اس کی اجڑی ہوئی حالت دیکھ کر سب لوگ دنگ ہی رہ گئے تھے ۔۔۔۔
پری کی یہ حالت دیکھ کر عادل کا دل بھی کٹ رہا تھا ،،،عادل نے ضبط کے مارے اپنی آنکھیں بند کی اور جلدی سے خود کو کمپوز کرتا ہوا پری کی طرف بڑھا اور جلدی سے اس کا بازو پکڑ کر اس کی نبض چیک کی جو کہ بہت ہی مدھم چل رہی تھی ۔۔۔۔
بھائی صاحب جلدی سے ڈاکٹر کو فون کریں آپ کو میری بیٹی کی حالت نہیں دیکھائی دے رہی کیا۔۔۔
نہیں پھوپھو اسے ہاسپٹل لے کر جانا ہوگا ۔۔۔۔اس کی نبض بہت ہی مدھم چل رہی ہے ۔۔۔۔
پاپا آپ جلدی سے گاڑی نکالیں میں پری کو لے کر آتا ہوں ۔۔۔۔
عادل کی بات سن کر ولید شاہ بھی جلدی سے باہر کی جانب جانب بھاگتے ہیں ۔۔۔۔
عادل پری کو اپنے بازوؤں میں اٹھاتا ہے اور جلدی سے باہر کی جانب بھاگ جاتا ہے جہاں ولید شاہ پہلے ہی گاڑی میں بیٹھے اس کا انتظار کر رہے تھے ۔۔۔۔
حوصلہ کرو نائلہ کچھ نہیں ہوگا ہماری پری کو ۔۔۔۔
شمائلہ بیگم نائلہ بیگم کو گلے لگا کر انہیں حوصلہ دیتی ہیں ۔۔۔۔
بھابھی رات تک تو میری بچی بلکل ٹھیک تھی پھر اچانک سے ایسا کیا یوگیا جو میری بچی کی یہ حالت ہوگئ ،،،مجھے تو کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے بھابھی ۔۔۔۔
کچھ نہیں ہوتا نائلہ تم بس اللّٰہ سے دعا کرو ہماری پری جلدی سے ٹھیک ہوجائے ۔۔۔۔
وہ سب بھی جلدی سے گاڑیوں میں سوار ہوتے ہاسپٹل کی جانب روانہ ہوگئے ۔۔۔۔۔
ہاسپٹل میں جاتے ہی پری کو جلدی سے ایمرجنسی وارڈ میں لے جایا گیا ۔۔
وہ سب باہر کھڑے اس کی صحت یابی کیلئے دعا گو تھے ۔۔۔
زریاب کو جب پتا چلا تو وہ بھی جلدی سے ہاسپٹل آگیا ۔۔۔۔۔
زریاب عادل کے پاس آتا ہے اور اسے حوصلہ دیتا ہے جس کے چہرے پر سوائے تکلیف و اذیت کے کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔۔
یار ہمت کر کچھ نہیں ہوگا اسے وہ جلدی ہی ٹھیک ہو جائے گی ،، زریاب عادل کو حوصلہ دیتے ہوئے بولتا ہے ۔۔۔۔۔
زریاب یار اگر اسے کچھ ہوگیا تو میں جی نہیں پاؤں گا،،میں بھی جیتے جی مر جاؤں گا۔۔۔۔۔
لیکن عادی یار یہ سب ہوا کیسے۔۔۔۔اس کی یہ حالت کیسے ہوگئی ایسا کیسا ہوا ہوگا اس کے ساتھ۔۔۔۔
مجھے بھی کچھ نہیں پتا یار یہ سب کیسے ہوا ہے۔۔۔۔۔
وہ ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح دیوار کے ساتھ رکھے بینچ پر سر ہاتھوں میں گرائے بیٹھ جاتا ہے اس کی آنکھیں ضبط کے مارے لال انگارا ہو رہی تھی۔۔۔۔
اور لبوں پر بس ایک ہی دعا تھی۔۔۔۔
یا اللّٰہ میری پری کو کچھ نہ ہو۔۔۔۔اسے جلدی سے صحت یاب کر کے۔۔۔۔
اتنے میں ڈاکٹر بھی باہر آجاتی ہیں۔۔۔۔
عادی ڈاکٹر،،،زریاب اسے ڈاکٹر کی جانب متوجہ کرتا ہے تو وہ دیوانا وار ڈاکٹر کی جانب بھاگتا ہے۔۔۔۔
باقی سب بھی ڈاکٹر کی جانب بڑھ جاتے ہیں۔۔۔
ڈاکٹر صاحب کیسی ہے میرے بچی،،نائلہ بیگم نے بیتابی سے پوچھا۔۔۔۔
دیکھیں میم کیا پیشنٹ میرڈ ہیں۔۔۔۔
نہیں ڈاکٹر صاحب آپ ایسے کیوں پوچھ رہی ہیں۔۔۔
نائلہ بیگم کے ساتھ ساتھ باقی سب بھی حیران نظروں سے ڈاکٹر کی جانب دیکھتے ہیں۔۔۔
اگر پیشنٹ میرڈ نہیں ہیں تو پھر اتنی کم عمر میں انہوں نے کس بات کی اتنی ٹینشن لی ہے کہ ان کا نروس بریک ڈاؤن ہوگیا۔۔۔۔
ڈاکٹر کے کہے گئے الفاظ ان سب کے سروں پر کسی بم کی طرح برسے تھے۔۔۔۔۔
نائلہ بیگم سے تو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا مشکل ہوگیا تھا۔۔۔۔
یہ آپ کیا بول رہی ہیں ڈاکٹر پر،،،،،، تکلیف کے مارے عادل سے بولا نہیں جاتا تو وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس تکلیف کو برداشت کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اس وقت اس کی پری محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے اب پیشنٹ بلکل ٹھیک ہیں ابھی ان کو نیند کا انجیکشن دیا گیا ہے وہ جتنا آرام کریں گی اتنا ہی ان کی صحت کے لیے اچھا ہوگا۔۔۔
تھوڑی دیر میں انہیں روم میں شفٹ کر دیا جائے گا پھر آپ سب لوگ ان سے مل سکتے ہیں اور پھر اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ دوبارہ کسی بھی قسم کی ٹینشن نہ لیں۔۔۔۔۔
جتنا ہوسکے انہیں خوش رکھیں یہی ان کی صحت کے لیے بہتر ہے ڈاکٹر پیشہ ورانہ انداز میں کہتی وہاں سے چلی گئیں۔۔۔۔
ڈاکٹر کے جانے کے بعد نائلہ بیگم نے سب کی طرف ایسی نظروں سے دیکھا جیسے پوچھ رہی ہوں ایسی کیا وجہ ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے ان کی بیٹی کی یہ حالت ہوئی۔۔۔۔
اپنے شوہر کو کھونے کے بعد وہ کسی بھی صورت اپنی بیٹی کو نہیں کھو سکتی تھیں۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
پری کے روم میں شفٹ ہوتے ہی سب اس سے ملنے کے لیے اس کے روم میں داخل ہوتے ہیں۔۔۔۔
پری کی ایسی حالت دیکھ کر سب کی ہی آنکھیں اشک بار تھیں۔۔۔۔
شمائلہ بیگم نے بہت مشکل سے نائلہ بیگم کو سنبھالا ہوا تھا۔۔۔۔
ماما، بابا ، پھوپھو آپ سب لوگ گھر جائیں اب آپ سب کو بھی ریسٹ کی ضرورت ہے یہاں پری کے ساتھ میں ہوں اور سب کچھ سنبھال لوں گا۔۔۔۔
لیکن عادل بیٹا پری۔۔۔۔۔
میں ہوں یہاں پھوپھو کیا آپ کو اپنے عادل پر بھروسہ نہیں۔۔۔۔۔
نہیں عادل بیٹا ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔
یہ کیسی باتیں کر رہے ہو تم۔۔۔۔
میں تو بس پری کی وجہ سے،،،،،
پھوپھو آپ بلکل بھی فکر نہ کریں میں ہوں یہاں پری کا خیال رکھنے کے لیے آپ بے فکر ہو کر گھر جائیں۔۔۔۔۔
وہ سب لوگ پری کو پیار کرتے ہوئے گھر کی جانب نکل جاتے ہیں۔۔۔۔
سب گھر والوں کو بھیج کر وہ ایک لمبی سی سانس ہوا میں سپرد کرتا ہے اور پری کی طرف مڑتا ہے۔۔۔۔۔
جو عادل کو یوں بے چین کر اس کی حالت سے بے خبر سو رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ بھی اس کے قریب ہی بیڈ پر آکر بیٹھ گیا۔۔۔۔
پتا نہیں کتنی دیر وہ اسے ٹکٹکی باندھے دیکھے گیا ۔۔۔
اور نرمی سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنا شروع کیا۔۔۔۔۔
Episode 5
#تیری_آہٹوں_کا_منتظر
#حورین_فاطمہ
قسط نمبر:5
اس کو اپنے بالوں میں نرم سا جانا مانا سا لمس محسوس ہوتا ہے تو وہ تھوڑا سا کسمساتی ہے ۔۔۔۔۔
اور آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھولتی ہے۔۔۔۔
پری کو یوں ہوش میں آتا اور آنکھیں کھولتا دیکھ عادل کو اپنے اندر سکون کی ایک لہر اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔۔۔۔
اور وہ اسے پیار سے پکارتا ہے ۔۔۔۔
پری آنکھیں کھولو۔۔۔۔
تو وہ دھیمے سے آنکھیں کھول کر پکارنے والے کو دیکھتی ہے اور دیکھتی ہی چلی جاتی ہے جسے وہ اس شخص کو پہلی بار دیکھ رہی ہو۔۔۔۔
پری اب کیسی طبیعت ہے تمھاری ۔۔۔۔
وہ محبت سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھتا ہے ۔۔۔۔لیکن وہ تو جیسے کچھ سن ہی نہیں رہی ہوتی بس ٹکٹکی باندھے اسے ہی دیکھی جا رہی ہوتی ہے ۔۔۔۔
ایک دفعہ پھر سے اس کی آنکھوں میں رات والا سارا واقعہ گھوم گیا۔۔۔۔
آنسو موتی کی لڑیوں کی صورت میں اس کی آنکھوں سے بہنا شروع ہوجاتے ہیں۔۔۔۔
تو وہ محبت سے اس کی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کو صاف کرتا ہے ۔۔۔۔
پری ایسے کیوں چپ ہو ،،،کچھ تو بولو یار۔۔۔۔
مجھ سے ڈھیروں باتیں کرو جیسے پہلے کرتی تھی ۔۔۔۔
تم ایسے چپ ہوئی اچھی نہیں لگتی یار باتیں کرو مجھ سے تم باتیں کرتے ہوئے اور چک چک کرتے ہوئے اچھی لگتی ہو۔۔۔۔
وہ محبت سے اس کے بال سہلاتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
پری کچھ تو بولو،،اب عادل سے اس کی چپی اور برداشت نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔۔
یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے اپنی ۔۔۔۔
اپنی ایسی حالت بنانے کی وجہ بتانا پسند کریں گی آپ مس چک چک ،،،عادل جان بوجھ کر اسے ایسے ایسے ناموں سے پکار رہا تھا تاکہ وہ اس سے لڑے بات کرے کچھ تو کرے مگر وہ ہنوز خاموش ہی تھی ۔۔۔۔۔
پری یار تم تو ایسی بلکل بھی نہیں تھی ۔۔۔۔
پری،،،، وہ زیر لب بڑبڑاتے ہوئے زور سے اس کا ہاتھ پیچھے جھٹکتی ہے ۔۔۔
پری کچھ تو بولو ، کیا ہوا ہے ۔۔۔۔
یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے اپنی ۔۔۔
تم ٹھیک تو ہو نا۔۔۔
میری پری ایسی تو بلکل بھی نہیں تھی۔۔۔۔
پری،پری،پری
وہ زیر لب بڑ بڑاتی اس کا ہاتھ زور سے جھٹک دیتی ہے اور دھکا دے کر خود سے دور کر دیتی ہے ۔۔۔۔۔
میں آپ کی پری نہیں ہوں مسٹر عادل ۔۔۔۔
سمجھے آپ ۔۔۔۔
نہیں ہوں میں کوئی پری ۔۔۔۔
وہ بار بار ایک ہی بات دہرا کر پاگلوں کی طرح چینخی جا رہی تھی ۔۔۔۔
شٹ اپ پری ۔۔۔۔
کیا پاگلوں والی حرکتیں کر رہی ہو سنبھالو خود کو ،، ہو کیا گیا ہے تمھیں آخر ۔۔۔۔
عادل اسے سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے جو سنبھلنے کا نام ہی نہیں لیتی ۔۔۔
وہ اس وقت عادل کو اپنے ہوش و حواس میں نہیں لگ رہی ہوتی ۔۔۔۔
جو سائیڈ ٹیبل پر پڑی چیزیں اٹھا کر پھینکنے کے ساتھ ساتھ اپنے بال بھی نوچ رہی ہوتی ہے ۔۔۔۔
وہ شاید عادل کو یہ بتانا چاہ رہی تھی کہ وہ اب اس سے دور رہے۔۔۔۔۔
پری کو یوں پاگلوں والی حرکتیں کرتے دیکھ عادل کے تو ہوش ہی اڑ گئے تھے ۔۔۔۔
پری کو اپنے ہوش و حواس میں نہ دیکھ کر عادل گھبرا جاتا ہے اسے پری کی حالت ٹھیک نہیں لگ رہی ہوتی اس لیے جلدی سے ڈاکٹر کو بلانے باہر کی طرف بھاگتا ہے ۔۔۔۔
جب وہ ڈاکٹر کے ساتھ روم میں داخل ہوا تو پری ابھی بھی اسی حالت میں تھی اور بس یہی بولے جا رہی تھی ۔۔۔۔
پری نہیں ہوں میں ،،، نہیں ہوں میں پری،،، میں کسی کی بھی پری نہیں ہوں ۔۔۔۔
میں پریہا ہوں،،پریہا۔۔۔۔۔
ڈاکٹر جلدی سے آگے بڑھ کر اسے نیند کا انجیکشن لگاتی ہے اور پھر وہ جلد ہی پھر سے پر سکون نیند سو جاتی ہے ۔۔۔۔۔
لیکن عادل شاہ کی نیند سکون سب خراب کر جاتی ہے ۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
پری تھی کہ جب سے ہاسپٹل سے ڈسچارج ہوکر واپس آئی تھی اس نے جیسے چپی کا روزہ رکھ لیا تھا ۔۔۔۔۔
اس کی چپی تھی کہ ٹوٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔۔۔۔
کوئی بلاتا تو ہوں یا ہاں میں جواب دے دیتی ۔۔۔۔۔بس چھت کو گھورتی رہتی اور ناجانے کیا سوچتی رہتی ۔۔۔۔۔
عادل یہ بات بار بار نوٹ کر رہا تھا کہ وہ اب اس سے دور رہنے لگ گئی تھی ۔۔۔۔
وہ جہاں بھی عادل کو دیکھتی وہاں سے فوراً بھاگ جاتی اور خود کو روم میں لاک کر لیتی ۔۔۔۔۔
وہ یہ سب سوچ سوچ کر آخر تھک چکا تھا کہ آخر اس سے ایسی کیا خطا درگزر ہوگئی کہ اب اس کی پری اس سے دور رہنے لگی ہے۔۔۔۔
اس نے تو جیسے خود کو اپنے کمرے تک محدود کر لیا تھا۔ ۔۔
پری کی ایسی حالت دیکھ کر عادل کا دل کٹا جا رہا تھا اور اس کی بے چینی بھرتی جا رہی تھی ۔۔۔۔
لیکن اسے ان سب کی کوئی خاص وجہ نظر نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔
باقی سب گھر والے بھی اپنی لاڈلی کو ایسی حالت میں دیکھ کر خون کے آنسو رو رہے تھے ۔۔۔
زریاب بھی سارا دن ادھر ہی رہتا پری کو تنگ کرتا اسے ہنسانے کی کوشش کرتا مگر وہ تو جیسے پوری دنیا کو فراموش کیے اپنی سوچوں کی دنیا میں گم تھی۔۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
رات کے اس پہر بھی نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔۔۔۔
اس وقت اس کے چہرے پر بے سکونی کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔۔۔۔
بے سکونی تھی کہ حد سے زیادہ بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔۔
اتنے دنوں سے اس نے اپنی پری کو جی بھر کے دیکھا بھی تو نہیں تھا کیونکہ وہ تو اسے دیکھتے ساتھ ہی وہاں سے بھاگ جاتی تھی۔۔۔۔
اب وہ اس کی ایک جھلک تک دیکھنے کے لیے مرے جا رہا تھا ۔۔۔۔
عادل کو پری کی اتنی زیادہ عادت تھی کہ اب اسے دیکھے اور باتیں کیے بغیر اسے سکون نہیں مل رہا تھا ۔۔۔۔
بچپن سے لیکر اب تک ان دونوں نے زیادہ تر وقت ایک دوسرے کے ساتھ گزارا تھا ۔۔۔۔
یار پری میں تمھاری آواز تک سننے کے لئے ترسے جا رہا ہوں ۔۔۔۔
دل کی آواز پر لبیک کہتے ساتھ ہی وہ بیڈ سے نیچے اترا اور اپنے کمرے سے باہر نکل کر پری کے کمرے کی جانب چل دیا۔۔۔۔
باہر ہر طرف عادل کے دل کی طرح خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
اگر عادل شاہ سکون میں نہیں تھا تو سکون تو پری کو بھی میسر نہیں تھا۔۔۔۔
اگر ساری رات وہ نہیں سوتا تھا تو نیند اسے بھی نہیں آتی تھی ۔۔۔۔
دونوں ہی ایک دوسرے کے لیے تڑپ رہے تھے ۔۔۔ ۔
اس وقت دونوں کو ہی ایک دوسرے کے ساتھ کی ضرورت تھی ۔۔۔
دونوں ہی ایک دوسرے کے لیے تڑپ رہے تھے ۔۔۔۔
وہ بھی رات کے اس پہر چھت کو گھورتی ہوئی ناجانے کن سوچوں میں گم تھی۔۔۔۔کمرے میں نائٹ بلب کی روشنی ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی کہ اچانک سے کلک کی آواز پر چونک گئی ۔۔۔۔۔
عادل شاہ کمرے کا دروازا کھول کر آہستہ آہستہ قدم اس کی طرف بڑھاتا ہے ۔۔۔۔
وہ جلدی سے اپنی آنکھیں بند کر لیتی ہے جیسے بہت گہری نیند میں سو رہی ہو۔۔۔۔۔
اس کے اندر آتے ہی اس کے پرفیوم کی مسحور کن خوشبو اس کے نتھنوں سے ٹکرائی تھی ۔۔۔۔
وہ اس کے پاس آکر آرام سے اس کے قریب بیٹھ گیا اور پیاسی نظروں سے اپنی جان کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
پری کو دیکھتے ہی عادل شاہ کو ایسے لگا جیسے کسی نے اس میں جان ڈال دی ہو ۔۔۔
وہ اس کے چہرے پر آنے والی بالوں کی لٹوں کو پیچھے ہٹاتا ہے اس کا لمس محسوس کرتے ہی وہ بھی کسی اور ہی جہاں میں پہنچ گئی تھی ۔۔۔۔
بہت محبت کرتا ہوں میں پری تم سے،،کیسے سمجھاؤں میں تمھیں ۔۔۔۔
تم میرے کیا بن گئی ہو یہ شاید کبھی تم بھی نہ جان پاؤ۔۔۔۔۔
میں ہر وقت تمھاری آہٹوں کا منتظر ہوتا ہوں۔۔۔۔
میرے دل کی دھڑکنوں میں،،نس نس میں بستی ہو تم۔۔۔۔
میری رگوں میں خون بن کر دوڑتی ہو تم۔۔۔
میری یہ چلتی سانسیں ہر وقت مجھے تمھارے ہونے کا احساس دلاتی ہیں۔۔۔۔
تم عادل شاہ کی سانسوں میں بستی ہو۔۔۔۔
جب تک تمھاری سانسیں ہیں تب تک ہی یہ عادل شاہ ہے۔۔۔۔۔
تمھیں تکلیف میں دیکھ کر میرا دل بند ہونے لگتا ہے۔۔۔
تو پھر بتاؤ تمھارا یہ دیوانہ کیسے تم سے دور رہے۔۔۔۔۔
تم میری ہو،،،میری روح میں اتر چکی ہو ۔۔
میں تمھیں اپنے بہت قریب کرنا چاہتا ہوں،،،،اتنا قریب کہ تمھیں چھو سکوں،،،محسوس کر سکوں۔۔۔۔۔
میری پہلے والی ہنستی مسکراتی ہوئی شوخ سی چنچل سی پری بن کر واپس میرے پاس لوٹ آؤ نہ ۔۔۔
اس سے زیادہ یہ عادل شاہ اور کچھ نہیں چاہتا ۔۔۔
میں اس اذیت کو دوبارہ محسوس نہیں کرنا چاہتا جو تمھیں اتنے دنوں سے یوں اس حالت میں دیکھ کر محسوس کر رہا ہوں۔۔۔۔۔
پری تم میری جان ہو،، میری زندگی ہو۔۔۔۔
پلیز لوٹ آؤ نہ واپس اپنے عادی کے پاس اور اپنے عادی کو جینے کی ایک وجہ دے دو۔۔۔۔
مجھے تمھاری ضرورت ہے یار۔۔۔۔
نہیں رہ سکتا میں تمھارے بغیر۔۔۔۔۔
وہ محبت سے جھک کر اس کے ماتھے پر نرمی سے اپنے محبت کی مہر ثبت کرتا ہے ۔۔۔۔۔
پری کو اپنے جسم میں کرنٹ سا دوڑتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔۔۔۔۔
عادل پری کے قریب سے اٹھتا ہے اور اس کے روم سے ہی باہر نکلتا چلا جاتا ہے۔۔۔۔
عادل کے جانے کے بعد پری جھٹ سے اپنی بند آنکھیں کھولتی ہے اسے عادل کا لمس ابھی تک اپنے ماتھے پر محسوس ہو رہا ہوتا ہے۔۔۔۔
وہ پسینے میں شرابور ہو جاتی ہے اس کا دل پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو ہوتا ہے۔۔۔۔
اس کے لیے یہ ایک انوکھا سا احساس ہوتا ہے۔۔۔۔
میں نے محسوس کیا ہے آپ کو عادی،،،، میں آپ کی شدتوں اور جذبوں سے واقف ہوں۔۔۔۔
آپ ٹھیک کہتے ہیں میں آپ کی ہی تھی اور ہمیں آپ کی ہی رہوں گی۔۔۔۔
میں دو بار یوں ہی آپ کا اقرار سن چکی ہوں لیکن تیسری بار آپ کے منہ سے آمنے سامنے سننا چاہتی ہوں۔۔۔
میں نے آپ کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت کی چمک دیکھی ہے۔۔۔۔
اب جو بھی کرنا ہے مجھے ہی کرنا ہے ۔۔۔
اب میں آپ کو اور زیادہ انتظار نہیں کرواؤں گی عادی ۔۔۔
جب آپ کو پتا چلے گا کہ میں سب کچھ جانتی ہوں تو آپ کو چار سو چالیس واٹ کا جھٹکا لگے گا۔۔۔۔
عادل کا ری ایکشن سوچتے ہوئے آج اتنے دنوں بعد پہلی بار پری کے چہرے پر جاندار سی مسکراہٹ آئی تھی۔۔۔۔
مجھے ہی اب کچھ سوچنا ہوگا کہ کیسے آپ کے دل کی بات آپ کی زبان تک لائی جائے۔۔۔۔
آپ سے خود تو کچھ ہونا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
Episode 6
#تیری_آہٹوں_کا_منتظر
#حورین_فاطمہ
قسط نمبر:6
سب ناشتے کے ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے ۔۔۔۔
آج ویکینڈ تھا تو سب لوگ گھر میں تھے اس لیے ناشتہ تھوڑا لیٹ کیا جا رہا تھا ۔۔۔۔
آج کی صبح شاہ ولا کے مکینوں کے لیے خوشگوار ثابت ہونے والی تھی کیونکہ ان سب کی لاڈلی بھی بڑے خوشگوار موڈ میں ادھر پہنچ چکی تھی۔۔۔۔
السلام علیکم! کیسے ہیں آپ سب لوگ ۔۔۔
پری سب کو دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ سلام کرتی عادل کے سامنے والی چیئر گھسیٹ کر اس پر براجمان ہیں جاتی ہے ۔۔۔۔۔
پری کو یوں نارمل حالت میں دیکھ کر سب لوگوں کے چہروں پر خوشی کا نئی لہر دوڑ جاتی ہے ۔۔۔۔۔
خاص طور پر عادل شاہ کے چہرے پر جو گہری نظروں سے اسے دیکھتا ہے جو پیچ کلر کے ڈریس میں بہت ہی پیاری لگ رہی ہوتی ہے اور عادل شاہ کا دل دھڑکا رہی ہوتی ہے ۔۔۔۔
عادل کی نظروں کی تپش وہ خود پر اچھے سے محسوس کر رہی تھی لیکن اس کی طرف دیکھنے کی غلطی بلکل بھی نہیں کی تھی ۔۔۔
ہوں، چھچھورے کہیں کے پیار کا اظہار راتوں کو میرے کمرے میں آ کر چھپ چھپ کر کرتے ہیں اور دیکھ کیسے بے شرموں کی طرح سب کے سامنے رہے ہیں ۔۔۔۔۔
خیر دیکھتے رہیں میرا کونسا بل آتا ہے ۔۔۔۔۔
سب لوگ خوشی سے اس کے سلام کا جواب دیتے ہیں ۔۔۔۔ ۔
اور نائلہ بیگم تو جلدی اٹھ کر محبت سے اپنی جان سے عزیز بیٹی کے ماتھے پر بوسہ دیتی ہیں ۔۔۔۔۔
ماموں کی جان ہم سب تو ٹھیک ہیں میرے گڑیا رانی کیسی ہے ۔۔۔۔۔
ولید صاحب بھی آگے بڑھ کر لاڈ سے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر پوچھتے ہیں ۔۔۔۔
میں بھی ٹھیک ہوں ماموں جان ۔۔۔۔
پری کو یوں خوش دیکھ کر عادل کے چہرے پر بھی خوبصورت سی مسکراہٹ رقص کیے ہوتی ہے ۔۔۔
ہاہاہاہا انکل دھیان کرنا کہیں آپ کی پری اڑ میرا مطلب ہے فر ہی نہ ہو جائے اپنے چڑیلستان میں ،،،زریاب جو کہ پری کی صحت کے بارے میں دریافت کرنے آیا تھا اس کو یوں پہلے کی طرح ہنستا ہوا دیکھ کر تنگ کرنا ضروری سمجھتا ہے ۔۔۔۔۔
زریاب اسے جان بوجھ کر تنگ کرتا ہے ۔۔۔
عادی ویسے آج دن کیا ہے۔۔۔۔
جمعرات ،کیوں خیریت ۔۔۔۔
تم کیوں پوچھ رہی ہو۔۔۔۔
اگر تم کہیں جانے کا سوچ رہی ہو تو ابھی کے ابھی اپنی تمام تر سوچوں کی ترک کر دو کیوں کہ تم ابھی ابھی ٹھیک ہوئی ہو اور کہیں نہیں جا سکتی ۔۔۔۔۔
عادل زرا سخت لہجے میں بولا تو پری بول اٹھی ۔۔۔۔
ارے عادی مجھے تو کہیں نہیں جانا وہ تو میں اس لئے پوچھ رہی تھی اگر آج جمعرات ہے تو اس کوے کو بھیک کے طور پر معاف ہی کر دیتی ہے ۔۔۔۔
یہ بھی سوچے گا کہ آخر کس سخی سے اس کا پالا پڑا ہے اور اپنی آنے والی کوی کو بھی بتایا کرے گا ۔۔۔۔
پری کی بات پر سب کے چہروں پر دبی دبی سی مسکراہٹ رینگ جاتی ہے اور زریاب جو کہ سینڈ وچ کا سلائس منہ میں ڈال رہا تھا وہ لفظ کوے کوی پر اس کے گلے میں ہی اٹک جاتا ہے ۔۔۔۔۔
جب پتا ہے اس کی باتیں ہضم نہیں کر سکتا تو پنگے لیتا ہی کیوں ہے عادل زریاب کی طرف جوس کے گلاس بڑھاتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
تم خود ہی ہوگی مینڈکی ،،،میری وہ تو بلبل ہوگی ۔۔۔۔۔
ہنہ ،میں ہونے دوں گی تو ہی ہوگی ،،،،
کیا مطلب ہے تمھارا ۔۔۔۔
پری کی بات پر زریاب کو جھٹکا ہی لگتا ہے ۔۔۔۔
باقی سب بھی تجسّس کے مارے پری کی طرف دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
وہ جو کل تم نے اپنی کوی کو پرفیوم دیا تھا وہ میں اسے بتا آئی ہوں ،،، وہ تم نے میرا چوری کر کے اسے دیا تھا ۔۔۔۔۔
اس بیچارے نے شرمندگی کے مارے سر نیچا جھکا لیا تھا ۔۔۔۔
اور میں بھی صدا کی نرم دل معصوم سی لڑکی کہاں اسے شرمندہ ہوتے ہوئے دیکھ سکتی تھی اس لئے وہ پرفیوم اس سے واپس لے آئی ۔۔۔۔
کل جب پری ٹھندی ہوا کھانے باہر گئی تھی تو اس نے زریاب کو کسی لڑکی کو پرفیوم دیتے ہوئے دہکھ لیا تھا اور اس کے جانے کے بعد شیطانی دماغ میں نیا رد عمل تیار کرتے ہوئے اس سے وہ پرفیوم واپس بھی لے لیا تھا ۔۔۔۔
اب تک تو اس لڑکی نے تمھیں بلاک بھی کر دیا ہوگا اس کے اب زیادہ اچھلنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔
سمجھے کہ اور تفصیل سے سمجھاؤں۔۔۔۔۔پری زریاب کو یوں منہ میں اس کی باتیں سنتے دیکھ کر بولی۔۔۔۔۔۔
اسی لیے کہتی ہوں،، پنگا ود پری از ناٹ چنگا۔۔۔۔۔
سب بڑے ان کی یہ نوک جھونک انجوائے کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔
اللّٰہ کرے پری تم کالی ہوجاؤ۔۔۔۔
تمھیں گورا کرنے والی تمھاری گولڈن پرل مہنگی ہوجائے۔۔۔۔
تمھارے بچے کالے پیدا ہوں،، زریاب بیچارہ پری کو کوسنے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتا تھا۔۔۔۔
اتنی مشکل سے ایک لڑکی پٹائی تھی وہ بھی اس چلاک لومڑی نے بھگا دی۔۔۔۔۔۔
اپنا کیا گیا کارنامہ زریاب کو سنانے کے بعد پری بچوں کی طرح ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسے جا رہی تھی اور وہ دیوانہ تو کہیں اس کی ہنسی میں ہی کھو گیا تھا ۔۔۔۔۔
ممانی جان آپ نہ ذرا اپنے بیٹے پر بھی نظر رکھا کریں ہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔
پری کی بات پر شمائلہ بیگم مسکراتی ہوئی اپنے بیٹے کی طرف دیکھتی ہیں اور بولتی ہیں بیٹا مجھے پتا ہے میرا سپوت میرے ہاتھوں سے نہیں نکل سکتا اگر ہاتھوں سے نکلا ہوتا تو یوں چھبیس سال کی عمر میں ابھی تک کنوارا نہ ہوتا ۔۔۔۔ ۔
وہ جو پری کی طرف دیکھ رہا تھا اب اپنی ماں کی جانب متوجہ ہوا ۔۔۔۔
شمائلہ بیگم کی بات پر پری منہ کے الگ الگ زاویے بنانے لگی ۔۔۔۔
پری کی شکل دیکھ کر سب دبی دبی ہنسی ہنس رہے تھے اور عادل کو خود کی طرف فاتحانہ نظروں سے مسکراتے ہوئے دیکھ وہ جلدی سے بولی ارے میرے پیاری ممانی جان سب ایسا بھی تو ہو سکتا ہے نہ کہ آپ کے سپوت جی کسی کے پیار میں گودے گودے ڈوبے ہوئے ہوں۔۔۔۔۔
لیکن اپنے بڑھاپے کی وجہ سے اسے بتانے سے ڈرتے ہوں کہ کہیں وہ انہیں چھوڑ کر ہی نہ چلی جائے ۔۔۔۔۔
کیوں عادل بھائیییییی ،،،، وہ بھائی لفظ پر زور دیتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
اور دونوں دوستوں کے چہروں کی اڑی ہوئی ہوائیاں دیکھنے لگی۔۔۔۔
عادل بیچارہ اسے گھورنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔۔
اس کے سہی اندازہ لگانے پر دونوں دوستوں نے گھور کر اسے دیکھا۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️ کیونکہ آج چھٹی کا دن تھا تو شمائلہ بیگم ملازمہ سے گھر کی صفائی وغیرہ کروا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
اور ادھر ہی لاؤنج میں بیٹھی پری کتابوں کے ساتھ اپنا سر کھپا رہی تھی ۔۔۔۔۔
طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے کالج سے بھی اس کی کافی چھٹیاں ہو گئی تھی اس لیے وہ اب دل لگا کر پڑھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
دوسری جانب عادل شاہ بھی اپنے کمرے میں بیٹھا اس پری پیکر کی تصویروں میں کہیں کھویا ہوا تھا۔۔۔۔
پری بیٹا اگر تم نے سٹڈی کر لی ہے تو سب کے رومز سے دھونے والے کپڑے تو لیتی آؤ ۔۔۔۔
جی ٹھیک ہے ممانی جان میں ابھی لے کر آتی ہوں ،،،کہتے ساتھ ہی پری سب کے رومز کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔
سب کے رومز سے وہ کپڑے اٹھا لاتی ہے لیکن جیسے ہی وہ عادل کے روم کے باہر پہنچتی ہے اس کا دل بے ساختہ ہی دھڑکنے لگتا ہے ۔۔۔۔۔
اف او ،پری تم بھی نہ ۔۔۔۔۔
اتنا نروس ہونے کی کیا ضرورت ہے تم کونسا عادی کے روم میں پہلی دفعہ جا رہی ہو۔۔۔۔
وہ جلدی سے خود کو کمپوز کرتی ہے اور عادل کے روم کا دروازا نوک کرتی ہے۔۔۔۔
وہ جو اس کی تصویروں میں کہیں کھویا ہوا تھا دروازا نوک ہونے کی آواز پر چونک گیا ۔۔۔۔
اسے لگا کوئی ملازمہ ہوگی اس لیے اسے اندر داخل ہونے کی اجازت دی ۔۔۔۔۔
لیکن ملازمہ کی جگہ پری کو اپنے کمرے میں دیکھ کر حیران رہ گیا اور جلدی سے اپنا موبائل اپنی پینٹ کی پاکٹ میں رکھا۔۔۔۔۔
لیکن پری کی جاسوس نظروں اور دماغ کو کچھ گڑبڑ کا احساس ہوگیا تھا ۔۔۔۔
واٹ آ گڈ نیوز مس پری میرے یعنی عادل شاہ کے کمرے میں نوک کر کے آئی ہے ۔۔۔۔
کہیں میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا۔۔۔۔
وہ حیرانگی کے عالم میں اس سے پوچھتا ہے ۔۔۔
اور حیران ہونے والی بات ہوتی بھی کیوں نہ ،،،،پری آج تک اس کے روم میں بغیر نوک کیے ہی آئی تھی ۔۔
وہ عادل شاہ کی چیزوں پر بچپن سے ہی اپنا حق سمجھتی تھی اس لیے بلاجھجک اس کے کمرے میں آ جایا کرتی تھی ۔۔۔۔۔۔
ہاں تو وہ تو میں نے آپ کو شاک کرنے کے لیے ایسا کیا اور دیکھیں آپ ہو بھی گئے ۔۔۔۔
پری کو کوئی اور جواب نہ سوجھا تو جلدی سے بات کو ہی ٹال مٹول کر گئی۔۔۔۔۔
وہ ممانی جان نے مجھے سب کے کمروں سے دھونے والے کپڑے لینے بھیجا تھا اس لیے آئی ۔۔۔۔۔
پری کو آج بہت زیادہ گھبراہٹ ہو رہی تھی ۔۔۔
عادل کے ساتھ اکیلے روم میں ہونا اسے عجیب سے احساس سے دو چار کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
پری چاہ کر بھی اپنی گھبراہٹ پر قابو نہیں پا رہی تھی ۔۔۔۔
وہ اسی گھبراہٹ میں اپنی انگلیوں مروڑنا شروع کر دیتی ہے ۔۔۔۔۔
عادل بڑے غور سے اس کی ایک ایک حرکت کو نوٹ کر رہا تھا ۔۔۔۔
اب اسے پری کی طبیعت کی فکر لاحق ہونے لگتی ہے ۔۔۔۔
وہ بیڈ سے اٹھ کر سیدھا آکر بلکل پری کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔
اور گہری نظروں سے اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔
پری بھی اس کی نظروں کی گہری تپش اپنے چہرے پر محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔
وہ بہت غور اور توجہ سے اسے دیکھ رہا تھا جیسے اس کے اندر کیا چل رہا ہو وہ پتا لگانا چاہتا ہو۔۔۔۔۔
اس کی نظروں کی تپش خود پر محسوس کر کے اس کی پلکیں بری طرح کانپنے لگی تھی۔۔۔۔۔
وہ اپنی پلکوں کی جھالریں اوپر اٹھا کر اس کی طرف دیکھ ہی نہیں پا رہی تھی۔۔۔۔
عادل بھی بڑے غور سے اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
پری تم ٹھیک تو ہو نہ،،، تمھاری طبیعت تو ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے لہجے میں دنیا جہاں کا پیار سموئے اس سے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔۔
جیییی،،میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔
اچھا تو پھر وہ کام کر لو جسے کرنے کے لیے تم میرے روم میں آج پہلی دفعہ نوک کر کے آئی تھی۔۔۔۔
عادل تھوڑا شرارت سے اسے کہتا ہے۔۔۔۔
Episode 7
#تیری_آہٹوں_کا_منتظر
#حورین_فاطمہ
قسط نمبر:7
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ہونہہ چھچھورے نہ ہوں تو ،،، پری اپنے دل ہی دل میں بڑبڑاتی ہے اور کپڑوں کا ڈھیر عادل کے روم میں ہی پھینک جاتی ہے ۔۔۔۔۔
اب اتنا زیادہ میرا مذاق اڑایا ہے تو اپنے بھی اور باقی سب کے کپڑے بھی خود اٹھا کر نیچے ممانی جان کو دے کر آؤ کہتے ساتھ ہی وہاں سے نو دو گیارہ ہو جاتی ہے اور عادل منہ کھولے اسے ہی جاتے ہوئے دیکھتا رہتا ہے ۔۔۔۔
بڑی عجیب لڑکی ہے کہتے ساتھ ہی عادل اپنے کندھے اچکاتا ہے اور اپنے اور باقی سب کے کپڑے لے کر اس کے پیچھے پیچھے ہی نیچے کی جانب بڑھ جاتا ہے ۔۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
شام کے کھانے کا وقت تھا اور سب لوگ کھانے کی ٹیبل پر موجود تھے سوائے ایک نفوس کے جو کہ ہمارے عادل صاحب تھے ۔۔۔۔
یہ عادل ابھی تک کھانا کھانے کیوں نہیں آیا،،،عادل کو کھانے کی ٹیبل پر موجود نہ پاکر شمائلہ بیگم بولیں ۔۔۔۔
میں دیکھ کر آتی ہوں اسے،،، شمائلہ بیگم اٹھ کر جانے ہی والی تھی کہ نائلہ بیگم کی آواز پر رک گئیں ۔۔۔۔
آپ آرام سے بیٹھ کر کھانا کھائیں بھابھی عادل کو جا کر پری دیکھ آئے گی ۔۔۔۔
جاؤ پری جا کے دیکھ کر آؤ عادل ابھی تک کیوں نہیں آیا ۔۔۔۔
جی ماما کہتے ہی پری اٹھ کر عادل کے کمرے کی جانب چل دی۔۔۔۔
عادل جو کہ نیچے جانے ہی والا تھا جوس پیتے ہوئے اس کے اوپر گر گیا تو وہ چینج کرنے واشروم چلا گیا ۔۔۔
اس دفعہ پری نے عادل کے کمرے میں نوک کر کے آنے کی غلطی بلکل بھی نہیں کی تھی وہ پہلے کی طرح ہی بلا جھجھک اس کے کمرے میں آگئی تھی ۔۔۔
وہ کمرے میں داخل ہوئی تو خالی کمرے نے اسے منہ چڑایا۔۔۔۔
اب یہ عادل بھائی کدھر گئے پری سوچ ہی رہی تھی کہ اسے واشروم سے پانی گرنے کی آواز آئی۔۔۔۔
اچھا تو موصوف ڈبکیاں لگا رہے ہیں اس ٹائم،،،، میں جا کر ممانی جان کو بتا دیتی ہوں۔۔۔
اس سے پہلے کہ پری واپس مڑتی اس کی نظر عادل کے موبائل پر پڑی جو کہ چارجنگ پر لگا ہوا تھا۔۔۔۔
اچانک سے پری کے ذہن میں ایک جھماکہ سا ہوا تو وہ واپسی کا ارادہ ترک کرتے ہوئے جلدی سے اس کے موبائل کی طرف بھاگی۔۔۔۔
لیکن عادل کے موبائل پر لاک لگا ہوا دیکھ کر منہ بنا کر رہ گئی۔۔۔۔
پھر کچھ سوچتے ہوئے اپنے نام کا پاسورڈ ملایا تو وہ کھل گیا۔۔۔
پری کے ہونٹوں پر دھیمی سی مسکراہٹ نے رقص کیا۔۔۔۔۔
پری نے جلدی سے گیلری اوپن کی،،، جہاں اس کی بے تحاشہ تصاویر تھیں۔۔۔
وہ بار بار واشروم کے دروازے کی طرف بھی دیکھ رہی تھی۔۔۔
اس کا دل فل سپیڈ سے دوڑ رہا تھا اور ہاتھ بھی بری طرح کپکپا رہے تھے۔۔۔۔
وہ جیسے جیسے تصویروں کے اوپر لکھی گئی تحریروں کو پڑھ رہی تھی اس کی گہری کالی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھرتی جا رہی تھیں۔۔۔
ان تصویروں کی ہر لائن پر اسی کا ہی ذکر تھا۔۔۔۔
اس کی معصوم ادائیں ،شرارتیں ،کھلکھلانا سب کچھ تو اسی کا ہی تحریر تھا ۔۔۔
عادل کی بے قراریاں اور تڑپنا سب کچھ تو تحریر تھا ۔۔۔۔
وہ آدھی گیلری ہی چیک کرتی ہے آگے پڑھنے کی اس میں سکت ہی باقی نہیں ہوتی وہ موبائل دوبارہ سے چارجنگ پر لگاتی ہے اور بیڈ پر آکر بیٹھ جاتی ہے ۔۔۔۔۔
وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو منہ پر رکھ کر سوچتی ہے کہ کوئی کسی سے اتنی محبت کیسے کر سکتا ہے ۔۔۔۔
کوئی کیسے کسی کے لیے اتنا بے چین ،بے قرار ہوسکتا ہے ۔۔۔۔
کوئی کیسے کسی کی شرارتوں ،کھلکھلاہٹوں پر اس حد تک مر سکتا ہے ۔۔۔۔ ۔
آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے تو وہ واشروم کا دروازا کھلنے کی آواز پر جلدی سے اپنے آنسو صاف کرتی ہے ۔۔۔۔
اور ایک گہری سانس لے کر خود کو ریلیکس کرتی ہے ۔۔۔۔مسٹر عادل شاہ اب آپ دیکھیں یہ پری کیا کرتی ہے۔۔۔۔۔
عادل کے باہر نکلتے ہی وہ اس کو کھانے کا بول کر نیچے چلی جاتی ہے ۔۔۔۔۔
پری بیٹا اتنی دیر لگا دی کیا کرنے لگ گئی تھی۔۔۔۔
نائلہ بیگم اسے آتا دیکھ کر پوچھتی ہیں ۔۔۔۔
وہ تائی امی عادی بھائی واشروم میں فریش ہو رہے تھے تو ان کے نکلنے کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
ممانی جان آپ کو عادی بھائی اوپر بلا رہے تھے،،، پری شمائلہ بیگم کو کہتی ہے۔۔۔۔
اچھا چلو آؤ دیکھتے ہیں کیا کہتا ہے وہ۔۔۔۔۔
وہ شمائلہ بیگم کو آگے آگے چلنے دیتی ہے اور خود تھوڑا فاصلے پر چلتی ہے۔۔۔۔
پری بیٹا تم تو کہہ رہی تھی عادل مجھے بلا رہا ہے لیکن وہ کہیں نہیں ہے کمرے میں۔۔۔۔
یہیں کہیں ہوں گے یہ دیکھیں ان کا موبائل بھی چارجنگ پر لگا ہوا ہے،،،وہ مجھے ایک کام یاد آگیا میں جاتی ہوں ممانی جان پری کہتے ساتھ ہی کمرے سے باہر بھاگ جاتی ہے۔۔۔۔
اور دیوار کی اوٹ میں چھپ کر عادل کے موبائل پر کالز کرتی ہے۔۔۔۔
یہ عادل بھی پتا نہیں کدھر ہے۔۔۔
اس کا موبائل بھی رنگ ہو رہا ہے۔۔۔
کہیں کوئی امپورٹنٹ کال نہ ہو۔۔۔
ایسا کرتی ہوں میں اٹینڈ کر کے کہہ دیتی ہوں عادل گھر نہیں ہے اس کا موبائل چارجنگ پر لگا ہوا ہے۔۔۔۔
شمائلہ بیگم جیسے ہی کال اٹینڈ کرنے لگتی ہیں کال کٹ ہوجاتی ہے۔ ۔۔۔۔
ان کی نظر گیلری میں پری کی تصویر پر پڑتی ہے تو وہ گیلری اوپن کر کے آکر بیڈ پر بیٹھ جاتی ہیں۔۔۔۔
پری نے جلدی سے عادل کے موبائل کا پاسورڈ ختم کر دیا تھا اور گیلری اوپن کر کے رکھ دی تھی تاکہ وہ جیسے ہی کال اٹینڈ کرنے لگیں ان کی نظر اس کی تصویروں پر پڑے اور ہوا بھی ویسے ہی تھا ۔۔۔۔
عادل جو کہ کچھ دیر کے لیے زریاب کو ملنے اس کے گھر گیا تھا اور موبائل چارجنگ پر ہی لگا ہوا چھوڑ گیا تھا آج برا پھنسنے والا تھا۔۔۔۔۔
پری اپنے کارنامے کو کامیاب ہوتا دیکھ کر جلدی سے اپنے کمرے کی طرف بھاگ جاتی ہے۔۔۔
لیکن جاتے وقت وہ خود کو اور اپنے شیطانی دماغ کو سراہنا نہیں بھولتی۔۔۔۔
دوسری طرف شمائلہ بیگم جیسے جیسے تصویروں اور ان پر لکھی گئی تحریروں کو پڑھتی جا رہی تھیں ان کے چہرے پر ایک رنگ آ رہا تھا اور ایک جا رہا تھا۔۔۔۔
وہ حیرانگی سے ان تحریروں کو پڑھتی ہیں جو ان کے بیٹے نے بڑی محبت سے لکھیں تھیں۔۔۔۔
انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اپنے بیٹے سے خفا ہوں یا خوش ہوں جس نے اپنی ماں سے اتنی بڑی حقیقت چھپا رکھی تھی۔۔۔۔
وہ موبائل بند کر دوبارہ چارجنگ پر لگا دیتی ہیں اور عادل سے جلد از جلد بات کرنے کا ارادہ رکھتیں اس کے کمرے کی حالت سیٹ کرنے لگ جاتی ہیں۔۔۔۔
کافی دیر روم میں ادھر ادھر چکر لگانے کے بعد آخر کار وہ بھاگ کر عادل کے کمرے کی جانب آتی ہے۔۔۔۔۔
اندر آتے ہی اس کا دل زوروں سے دھڑکنے لگتا ہے۔۔۔
اسے کہیں نہ کہیں یہ بھی ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں شمائلہ بیگم کو برا ہی نہ لگ جائے۔۔۔۔۔
وہ اسے غلط سمجھنے نہ لگ جائیں۔۔۔
ممانی جان آپ ابھی تک یہی ہیں میں آپ کو آپ کے کمرے میں ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔۔
پری کی آواز سنتے ہی شمائلہ بیگم جو کہ بیڈ کے تکیے سیٹ کر رہی تھیں پری کو پیار سے اپنی طرف بلاتی ہیں۔۔۔
وہ کچھ ڈرتی اور جھجھکتی ہوئی آ کر بیڈ پر ان کے ساتھ ہی بیٹھ جاتی ہے۔۔۔۔
اور پیار سے اس کا ماتھا چومتی ہیں۔ ۔۔۔
پری بیٹا میں نے ہمیشہ سے ہی تمھیں اپنی بیٹی مانا ہے اور آگے بھی انشاء اللہ تم میری بیٹی ہی رہو گی۔۔۔۔
شمائلہ بیگم کی کہی گئی باتوں سے اسے کچھ تسلی سی ہوجاتی ہے۔۔۔۔
ممانی جان آپ ایسی باتیں کیوں کر رہی ہیں۔۔۔۔
بیٹا اگر تمھارے بڑے تمھاری زندگی کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں گے تو تمھیں کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا۔۔۔۔۔
ممانی جان یہ آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں آج تک میں نے آپ لوگوں کا کیا گیا کوئی بھی فیصلہ جھٹلایا ہے جو اب جھٹلاؤں گی۔۔۔۔
مجھے پتا ہے آپ لوگ میرے لیے جو بھی فیصلہ کریں گے وہی میرے لیے سب سے اچھا ہوگا۔۔۔۔
اس کی بات پر شمائلہ بیگم ایک بار پھر پیار سے اس کا ماتھا چوم ڈالتی ہیں۔۔۔
اور پری اب آگے کیا ہونے والا تھا اس کے بارے میں سوچنے لگ جاتی ہے۔۔۔
Episode 8
#تیری_آہٹوں_کا_منتظر
#حورین_فاطمہ
قسط نمبر:8
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
رات کا کھانا کھا کر سب لوگ اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تو شمائلہ بیگم نے بھی کچھ سوچتے ہوئے عادل کے کمرے کا رخ کیا۔۔۔۔۔
وہ جو ہر بات سے بے خبر بیڈ پر بیٹھا اپنے لیپ ٹاپ پر اپنے آفس کا کام کرنے میں مشغول تھا ماتا تو آتا دیکھ ان کی عزت میں لیپ ٹاپ کو سائیڈ پر رکھ کر ان کا ہاتھ پکڑ کر اس پر بوسہ دیتا ہے اور اپنے ساتھ بیڈ پر لے کر بیٹھ جاتا ہے۔۔۔۔
وہ بھی اس کے ساتھ بیٹھ کر بڑے غور سے اپنے ہینڈسم سے بیٹے کو دیکھتی ہیں جو بلیک کلر کا تھری پیس پہنے اپنے گہرے کالے بال ماتھے پر بکھیرے اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے اپنی ماں کو دیکھتا ہے۔۔۔۔
کیا بات ہے ماما آپ مجھے ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں۔۔۔۔
میں دیکھ رہی ہوں کہ میرا بیٹا کتنا ہینڈسم ہے۔۔۔۔
کتنی ہی لڑکیاں مرتی ہوں گی میرے بیٹے پر،،وہ اپنی ماں کی طرف دیکھ کر مسکراتا ہے۔۔۔۔۔
ماں بھی اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی نعمت ہے نہ اس کی اولاد چاہے کتنی ہی بری کیوں نہ ہو لیکن ماں کو کسی شہزادے سے کم نہیں لگتی ۔۔۔۔
عادل بیٹا یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے کہ تم آخر شادی کے لیے کیوں نہیں مان رہے ہو۔۔۔۔
شمائلہ بیگم اپنی کاروائی شروع کرتی ہیں ۔۔۔۔
اف اووو ،،میری پیاری ماما جانی کر لوں گا شادی بھی آپ کیوں اتنا پریشان ہو رہی ہیں ۔۔۔۔
وہ اپنی طرف سے تو اپنی ماں کو بھرپور دلاسہ دیتا ہے لیکن یہ بات نہیں جانتا تھا کہ وہ بھی اس کی ماں ہی ہیں ۔۔۔۔۔
آج تو شمائلہ بیگم بھی کچھ اور ہی سوچے بیٹھی تھیں ۔۔۔۔
چلو ٹھیک ہے جیسی تمھاری مرضی جب دل کرے کر لینا شادی اب ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے۔۔۔۔
اف اللّٰہ میں بھی بڑھاپے کے ساتھ ساتھ کتنی بھلکڑ ہوتی جا رہی ہوں تم سے جو بات کرنے آئی تھی وہ تو کرنا ہی بھول گئی ۔۔۔۔۔
شمائلہ بیگم اپنے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولیں ۔۔۔۔
کون سی بات ماما۔۔۔۔
وہ بھی اپنی ماں کی بات سننے کے لیے بے چین تھا۔۔۔۔
میں نے اور تمھارے پاپا نے سوچا ہے کہ تم تو ابھی شادی جیسی جھنجھٹ میں پڑنا نہیں چاہتے تو کیوں نہ ہم لوگ پریہا کی شادی کر دیں،،، ویسے بھی بن باپ کی بیٹی ہے تمھارے پاپا کو ہی اس کے بارے میں سوچنا ہے۔۔۔۔۔
عادل کے چہرے کا رنگ ایک دم پھیکا سا پڑتا ہے،، جو کہ شمائلہ بیگم کی نظروں سے بھی نہیں بچ پاتا۔۔۔۔
اور پتا ہے عادی ہم نے پری کے لیے جو لڑکا پسند کیا ہے وہ ہزاروں میں ایک ہے۔۔۔۔۔
جس گھر میں بھی ہماری بیٹی جائے گی اس گھر کو ہی اپنی روشنی سے روشن کر دے گی ۔۔۔۔۔
وہ پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنی ماں سے اس لڑکے کا نام پوچھتا ہے ۔۔۔۔
اچھا ماما کون ہے وہ لڑکا جسکی قسمت ہماری پری کے ساتھ پھوٹنے والی ہے۔۔۔۔
لڑکا اپنا ہی ہے ۔۔
دیکھا بھالا بھی ہے اور تم تو اسے بچپن سے ہی جانتے بھی ہو ۔۔
کون ماما کس کی بات کر رہی ہیں آپ....
ارے اپنے زریاب کی بات کر رہی ہوں ۔۔۔۔۔
ہماری خواہش ہے کہ پری کو زریاب کی دلہن بنائیں ۔۔۔۔
چاند سورج کی جوڑی لگے گی ان دونوں کی ۔۔۔۔۔
ماں کی بات سنتے ہی اسے ایسا لگا جیسے ساتوں آسمان اس پر آ گرے ہوں۔۔۔۔۔
اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے ،،،عادل کے چہرے کی اڑتی ہوئی ہوائیاں دیکھ کر شمائلہ بیگم دل ہی دل میں بولیں ۔۔۔۔
وہ حیران کن نظروں سے اپنی ماں کی طرف دیکھتا ہے ۔۔۔۔۔
زبان تو اس کی جیسے تالو سے ہی چپک کر رہ گئی ہو۔۔۔۔۔
عادل بیٹا کیا ہوا۔۔۔
تم چپ کیوں ہو۔۔۔۔
ما،،،،ما،،،زریاب اور پری ۔۔۔۔۔
اس کی آواز گلے میں ہی کہیں اٹکنے لگی تھی ۔۔۔۔
مجھے پتا تھا عادل بیٹا تمھیں بھی اس رشتے سے بہت خوشی ہوگی۔۔۔۔۔
زریاب ہے ہی بہت اچھا بچا ہماری پری کو بہت خوش رکھے گا اور ہماری پری کی بھی زندگی سنور جائے گی ۔۔۔۔۔
شمائلہ بیگم آج اسکی برداشت اور صبر دونوں کا امتحان لینے کے درپے تھیں ۔۔۔۔
ماما ابھی وہ چھوٹی ہے۔۔۔۔
اتنی بھی کیا جلدی ہے ۔۔۔۔
جیسے ہی اس کا دماغ اپنی سہی جگہ پر آتا ہے تو وہ جلدی سے بولتا ہے ۔۔۔۔
ارے کوئی چھوٹی نہیں ہے ماشاءاللہ انیس کی ہے۔۔۔۔۔
اور یہی سہی عمر ہوتی ہے لڑکیوں کی شادی کرنے کی ۔۔۔۔
اور سب سے بڑی خوشی کی بات تو یہ ہے کہ وہ رخصت ہوکر یہیں پاس میں ہی جائے گی ۔۔۔
جب اس کا دل کیا کرے گا ملنے آجایا کرے گی اور ہم بھی جاتے رہیں گے۔۔۔۔
اگر پری کا رشتہ کہیں باہر ہوتا تو نائلہ بیچاری بھی پریشان ہوتی اب اس کی پریشانی بھی دور ہو جائے گی اسے تسلی تو ہوگی۔۔۔۔۔
اور ویسے بھی مجھے لگتا ہے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں ۔۔۔۔
ماں کی اس بات پر اسے اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔۔۔
دل میں ایک کسک سی اٹھتی ہے ۔۔۔۔
نہیں ماما ایسی کوئی بات نہیں ہے ان کے بیچ ایسا کچھ بھی نہیں ہے جیسا آپ سوچ رہی ہیں۔۔۔۔۔
وہ ایک بار پھر اپنی ماں کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہے ۔۔۔۔
ارے میں نے خود زریاب کی آنکھوں میں پری کے لیے محبت دیکھی ہے ۔۔۔
نہیں ماما زریاب نہیں کرتا پری سے محبت ۔۔۔۔
وہ اپنی ماں کو کسی بھی طرح سے اس رشتے سے روکنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔
لیکن اسے مناسب الفاظ ہی نہیں مل رہے تھے ۔۔۔۔۔
اچھا اگر زریاب پری سے محبت نہیں کرتا تو کیا تم کرتے ہو ۔۔۔۔
جی ماما میں ۔۔۔۔۔۔۔
وہ بولتے بولتے اچانک سے ہوش میں آتا ہے تو اس کی زبان کو تالا لگ جاتا ہے ۔۔۔۔
اس کی آ دھی ادھوری بات شمائلہ بیگم کو پورا مطلب سمجھا دیتی ہے ۔۔۔۔
تو وہ ایک پر سکون سی سانس ہوا میں خارج کرتی ہیں ۔۔۔۔
چلو میرا بدھو بیٹا مانا تو سہی میری اتنی لمبی گفتگو کا کچھ تو اثر ہوا اس کے زنگ لگے دماغ پر۔۔۔۔
تو وہ ماں کے سامنے مجرموں کی طرح سر جھکا کر بیٹھ جاتا ہے ۔۔۔۔
جیسے اس نے محبت نہیں کوئی جرم کیا ہو۔۔۔
شمائلہ بیگم اس کا جھکا ہوا سر دیکھ کر پیار سے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامتی ہیں اور اس کے ماتھے پر مامتا بھرا بوسہ دیتی ہیں ۔۔۔۔
عادل بیٹا تم نے اپنی ماما سے یہ بات چھپائی ،،کیا تمھیں اپنی ماما پر بھروسہ نہیں تھا وہ نہ چاہتے ہوئے بھی بیٹے سے محبت بھرا شکوہ کر بیٹھیں ۔۔۔
نہیں ماما ایسی کوئی بات نہیں ہے میں بس کوئی مناسب موقع دیکھ کر آپ سے بات کرنے ہی والا تھا ۔۔۔۔
میری جان اپنی محبت کو حاصل کرنے کے لیے مناسب وقت کا انتظار نہیں کرتے میری یہ بات یاد رکھنا۔۔۔۔۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ جب آپ کا مناسب وقت آنے تب محبت آپ کی دسترس سے دور چلی جائے اور آپ پچھتاوے کے علاوہ اور کچھ نہ کر سکیں ۔۔۔۔
وہ اپنی ماں کی باتیں بہت دھیان سے سن رہا تھا ۔۔۔
لیکن ماما وہ ابھی پڑھ رہی ہے اور شاید پھوپھو بھی ابھی نہ مانیں ۔۔۔۔
اپنے ذہن میں چلتے خدشات کا ذکر وہ اپنی ماں کے سامنے کرتا ہے ۔۔۔
تم ان کی فکر نہ کرو انہیں منانا ہمارا کام ہے اور میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہوں وہ لوگ اس رشتے کے لیے کبھی بھی انکار نہیں کریں گے ۔۔۔
ابھی وہ دونوں باتیں کر ہی رہے ہوتے ہیں کہ زریاب بھی وہاں آن ٹپکتا ہے ۔۔۔۔
ارے واہ بھئی کیا باتیں ہو رہی ہیں ماں بیٹے میں ۔۔۔۔
وہ تھوڑا شرارتی سا انداز اختیار کرتے ہوئے بولا ۔۔ ۔
آنٹی کہیں آپ ان صاحب کو شادی کے لیے تو نہیں منانے آئی ہیں ۔۔۔۔
مجھے بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے میری معصوم آنٹی جان کو اس دفع بھی مایوس ہی لوٹنا پڑے گا ۔۔۔۔
وہ شمائلہ بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے تھوڑا افسوس سے بولا ۔۔۔۔
جی نہیں مسٹر زریاب میں آپ کو بتا دوں میرا بیٹا شادی کے لیے مان گیا ہے اس دفع مجھے نا امید ہو کر نہیں لوٹنا پڑے گا ۔۔۔۔
واٹ ، یہ مان گیا اور وہ کیسے شمائلہ بیگم کی بات سن کر زریاب کو جھٹکا ہی تو لگا تھا ۔۔۔۔۔
یہ عظیم معجزہ کیسے ہوا ۔۔
آندھی طوفان کیوں نہیں آیا ،،، بارش کیوں نہیں ہوئی ،،، گھوڑے کیوں نہیں دوڑے بندر کیوں نہیں ناچے۔۔۔۔۔
زریاب کی ایکٹنگ عروج پر تھی اور وہ دونوں اس کی ایکٹنگ دیکھ کر بس مسکرائے جا رہے تھے ۔۔۔۔
اچھا آنٹی یہ تو بتا دیں لڑکی کا نام کیا ہے ۔۔۔۔
آخر کون ہے وہ خوش نصیب لڑکی جو اس ہینڈسم سے کیوٹ سے دیور کی بھابھی بنیں گی ۔۔۔۔
آخر اس نے کچھ نیک کام ہی کیے ہوں گے جو مجھ جیسا ہینڈسم چارمنگ سا دیور مل رہا اسے۔۔۔۔۔
تمھیں زیادہ معصوم بننے کی ضرورت نہیں ہے جیسے کچھ پتا ہی نہ ہو تمھاری ہونے والی بھابھی کون ہے ۔۔۔۔
شمائلہ بیگم اس کے کان مروڑ کر بولیں۔۔۔۔
تو وہ حیرانگی سے اپنی دونوں آنکھیں کھولے اپنے دوست کی طرف دیکھتا ہے ۔۔۔
عادی یار کیا آنٹی کو واقعی پتا چل گیا ۔۔۔۔
تو وہ بیچارہ معصوم سی شکل بنائے ہاں میں سر ہلا دیتا ہے ۔۔۔۔
Episode 9
#تیری_آہٹوں_کا_منتظر
#حورین_فاطمہ
قسط نمبر:9
سیکنڈ لاسٹ ایپیسوڈ
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
یاہووووو ،،،یاہوووو اب میرا دوست بھی گھوڑی چڑھے گا ،،،زریاب خوشی کے مارے یاہووووو یاہوووو کے نعرے لگاتا جلدی سے عادل کے گلے لگ جاتا ہے ۔۔۔۔۔
مبارک ہو میرے یار۔۔۔۔
خیر مبارک ،عادل بھی پیار سے اسے جواب دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔
عادل بیٹا تمھارے پاپا بھی تم سے بات کرنے کا کوئی اچھا سا موقع ڈھونڈ رہے ہیں تاکہ تمھیں شادی کے لیے راضی کر سکیں اب میں تمھارے پاپا کو ساری بات بتا کر مل کر مشورہ کر کے نائلہ سے رشتے کی بات کریں گے۔۔۔۔
مجھے پورا یقین ہے وہ مان جائیں گے اور نائلہ بھی رشتے کے لیے ہاں کر دے گی۔۔۔۔۔
اچھا اب تم لوگ بھی ریسٹ کرو۔۔۔۔۔
اوکے ماما،گڈ نائٹ۔۔۔۔
بولتے ساتھ ہی شمائلہ بیگم اپنے روم کی جانب جبکہ زریاب اپنے گھر کی جانب روانہ ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔
شمائلہ بیگم جب کمرے میں داخل ہوئیں تو ولید صاحب بیڈ کی کراؤن سے ٹیک لگائے ناجانے کونسی کتاب کے مطالعے میں مشغول تھے۔۔۔۔
وہ بھی آکر ان کے پاس بیٹھ گئیں۔۔۔۔
ولید مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی۔۔۔۔
مل گئی اپنے بیٹے سے فرست میری بیگم کو جو اب اس کے باپ سے بات کرنی ہے۔۔۔۔۔۔
ولید صاحب کبھی تو سنجیدہ بھی ہوجایا کریں۔۔۔۔۔
شمائلہ بیگم تھوڑے غصے سے بولیں۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے بتائیں کیا بات ہے۔۔۔۔۔
تو شمائلہ بیگم شروع سے لے کر آخر تک ساری بات ان کے ہمہ تن گوش کرتی ہیں۔۔۔۔۔
جسے سن کر ولید صاحب پہلے تو حیران ہوئے لیکن بعد میں ہلکا سا مسکرا دیے ۔۔۔
واہ بھئی آپ کا بیٹا تو بڑا چھپا رستم نکلا۔۔۔۔۔
میں تو اسے ایویں ای معصوم سیدھا سادھا سمجھتا تھا۔۔۔
شاید آپ بھول رہے ہیں ولید صاحب آپ کا بیٹا بھی آپ پر ہی گیا ہے،،،شمائلہ بیگم کی بات پر وہ قہقہہ لگا کر مسکرا دیے۔۔۔۔
آج وہ دونوں میاں بیوی بہت پر سکون اور خوش نظر آ رہے تھے۔۔۔۔
ٹھیک ہے بیگم صاحبہ پھر ہم صبح ہی لڑکی کی ماں سے بات کریں گے آپ بچوں کو بھی بتا دیجیے گا۔۔۔۔
شمائلہ بیگم بھی ہاں میں سر کو جنبش دے کر پر سکون ہو کر لیٹ گئیں۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
کیا بات ہے بھائی صاحب آپ نے صبح صبح ہم سب کو یہاں اکھٹا کیوں کیا ہے ۔۔۔۔
خیریت تو ہے نا۔۔۔۔۔۔
سب لوگ نیچے لاونج میں بیٹھے ہوئے تھے نائلہ بیگم نے کسی خدشے کے تحت اپنے بڑے بھائی سے پوچھا ۔۔۔۔
ہاں نائلہ بیٹا سب کچھ ٹھیک ہے ،،بس آج میں تم سے کچھ مانگنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔
کیسی باتیں کر رہے ہیں بھائی صاحب سب کچھ آپ کا ہی تو ہے ۔۔۔۔۔۔
نائلہ بیگم کو سمجھ ہی نہیں آتا کہ ان کے ساتھ ایسی کونسی چیز ہے جو ان کے بھائی صاحب کو مانگنے کی ضرورت آن پڑی ۔۔۔
جبکہ آج تک تو انہوں نے اسے بس دیا ہی تھا۔۔۔۔۔
پری بیٹا جاؤ سب کے لیے چائے بنا کر لاؤ ،،، نائلہ بیگم اپنی بیٹی سی بولیں جو ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بڑے سکون سی بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
ماں کی بات سنتے ہی وہ منہ کے زاویے بنا کر صوفے سے اٹھ کھڑی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔
نہیں پری بیٹا آپ بھی بیٹھو یہاں فلحال آپ کا یہاں ہونا زیادہ ضروری ہے ۔۔۔۔۔
ولید صاحب اسے اپنے پاس بلاتے ہیں ۔۔۔۔
وہ تو جیسے موقع کے انتظار میں ہی تھی بھاگ کر ان کے پاس جا کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔
ہماری پری جو کہ ٹھہری صدا کی جاسوس اس کے دل میں گھنٹیاں بجنی سٹارٹ ہو جاتی ہیں ۔۔۔۔
اس کا شیطانی دماغ اسے سگنل دیتا ہے کہ تایا ابو کیا مانگنے کی بات کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔
یہ سوچتے ہی اسے ٹھنڈے پانی کے پسینے آنے لگتے ہیں ۔۔۔۔
نائلہ میں نے کبھی بھی عادل اور پری میں فرق نہیں کیا ۔۔۔۔۔
ولید صاحب بات کا آغاز کرتے ہیں ۔۔۔۔
جی بھائی صاحب میں جانتی ہوں آپ پری کو مجھ سے بھی زیادہ چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔
تو بس پھر ٹھیک ہے میں اپنی بیٹی کو ہمیشہ کے لیے اپنے گھر لے جانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔
ہیں ماموں جان ابھی بھی تو آپ کے گھر ہی ہوں،،پری کی زبان میں اچانک سے کھجلی ہوئی تو بول پڑی ۔۔۔۔
نائلہ بیگم نے اسے گھورا تو کھسیانی ہنسی ہنس دی۔۔۔۔
پگلی نہ ہو ولید صاحب اس کے سر میں ہلکی سی چپٹ لگا کر بولے۔۔۔۔۔۔۔
میرے کہنے کا مطلب ہے اپنے عادل کی دلہن بنا کر ۔۔۔۔۔
اپنے ماموں جان کی بات سن کر اسے سب سے بہت شرم آ رہی ہوتی ہے اس کا دل کرتا ہے وہ وہاں سے بھاگ جائے اور کہیں گم ہو جائے ۔۔۔۔۔
اور اس کا دل تو دو سو کی سپیڈ سے دوڑ رہا تھا ۔۔۔۔
زریاب چہرے پر شرارتی سی مسکراہٹ لیے اس کے چہرے کے فیس ایکسپریشنز کو اپنے موبائل کے کیمرے میں محفوظ کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
عادل نے ہی اسے وہاں بھیجا تھا تاکہ وہ اسے پل پل کی خبر دے سکے۔۔۔
نائلہ بیگم کی خوشی کی تو کوئی انتہا ہی نہیں تھی ۔۔۔۔
اس کی پری کے لیے عادل سے زیادہ بہتر لڑکا اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔
نائلہ بیگم ایک جھٹکے سے صوفے سے اٹھتی ہیں ۔۔۔۔
نائلہ بیگم کو یوں اٹھتا دیکھ کر سب کے چہروں پر ڈر سا چھا جاتا ہے ۔۔۔۔
انہیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں نائلہ بیگم اس رشتے سے انکار ہی نہ کر دیں انہیں اعتراض نہ ہو۔۔۔۔
کہاں جا رہی ہو نائلہ ،،ولید صاحب پوچھتے ہیں ۔۔۔۔
مٹھائی لینے جا رہی ہوں بھائی صاحب اس خوشی کے موقع پر میٹھا بہت ضروری ہوتا ہے ،،کیوں بھابھی وہ شمائلہ بیگم سے بھی رائے طلب کرتی ہیں جو کہ اس کی بات پر ہاں میں سر ہلا دیتی ہیں ۔۔۔۔
پری بیٹا اگر آپ کو کوئی اعتراض ہے تو آپ بلا جھجھک مجھے بتا سکتی ہیں۔۔۔۔
آپ کی رضامندی اور خوشی بھی ہمارے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔۔۔۔
نہیں ماموں جان میری خوشیوں کے بارے میں آپ سے اور ماما سے بڑھ کر کوئی نہیں سوچ سکتا میں خود بھی نہیں۔۔۔۔۔۔
آپ میری زندگی کا جو بھی فیصلہ کریں گے مجھے قبول ہوگا۔۔۔۔۔
اس کے اقرار کی ویڈیو بنا کر زریاب جلدی سے عادل کے پاس بھیج دیتا ہے۔۔۔۔۔
ولید صاحب پری کو اپنے ساتھ لگا کر اس کے ماتھے پر پیار کرتے ہیں ۔۔۔۔
زریاب بس اتنی ہی دیر چپ رہ سکتا تھا اس لیے فوراً سے اپنی جگہ سے اٹھ کر پری کے پاس آیا۔۔۔۔
السلام علیکم مائی ڈیئر بھابھی جان۔۔۔۔
زریاب کے منہ سے اپنے لیے بھابھی کا لفظ سن کر اس کے چہرے پر شرم و حیا کے ان گنت رنگ چھا گئے۔۔۔۔
پری بھی شرمیلی سی مسکراہٹ کے ساتھ زریاب کے سلام کا جواب دیتی ہے۔۔۔۔
افففف اللّٰہ پری تم شرماتی بھی ہو،،،میں کہیں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا۔۔۔۔
ہی ہی ہی شرمائے میری جوتی وہ تو میں نے ڈرامے کے سین میں دیکھا تھا اس سچویشن میں لڑکیاں شرماتی ہیں تو سوچا کیوں نہ میں بھی ٹرائی کر کے دیکھوں،،،پری جب بولنے پر آئی تو بنا بڑوں کا لحاظ کیے بس بولتی چلی گئی۔۔۔۔
اس کی زبان کو بریک تو تب لگی جب نائلہ بیگم کی جوتی نے اس کا کندھا سینکا۔۔۔۔۔
اف اللّٰہ ماما، کیا ہوگیا ہے کوئی اپنی بیٹی کو بھلا ان کے سسرال والوں کے سامنے مارتا ہے کیا۔۔۔۔۔
پری منہ کے زاویے بنا کر بولی۔۔۔۔
پری کی بات پر باقی سب تو دھیرے سے مسکرا دیے لیکن نائلہ بیگم نفی میں سر ہلا کر رہ گئیں کہ ان کی بیٹی کا کچھ نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
عادل اپنے آفس میں بیٹھا کام میں دل لگانے کی کوشش کرتا ہے لیکن ناکام رہتا ہے۔۔۔۔
آج تو اس کا دل کہیں اور ہی مصروف تھا ۔۔
اس کے آفس آجانے کے بعد گھر میں کیا باتیں ہوئی ہوں گی۔۔۔
اس کی پھوپھو نے کیا جواب دیا ہوگا۔۔۔۔
وہ مانی ہوں گی یا نہیں۔۔۔
وہ سب کچھ جاننے کے لیے بے صبرا ہو رہا تھا۔۔۔۔
اف او میں بھی کتنا پاگل ہوں میں نے زریاب کو بولا تو تھا پل پل کی خبر مجھے دے چیک کرتا ہوں ابھی وہ ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ اس کے موبائل کی میسج ٹون بج اٹھی۔۔۔۔
وہ جو چیئر سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا جلدی سے آگے بڑھا اور ٹیبل سے موبائل اٹھا کر اپنا واٹس ایپ اوپن کیا۔۔۔۔
واٹس ایپ اوپن کرتے ہی اسے زریاب کے مبارکباد کے میسیجز موصول ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ایک وڈیو کلپ بھی تھی۔۔۔۔
عادل نے جلدی سے وہ وڈیو کلپ چلائی جیسے جیسے وہ وڈیو چلتی جا رہی تھی اسے اپنے اندر تک سکون اترتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔
ایک خوشی کی لہر اس کے پورے جسم میں دوڑتی ہے۔۔۔۔۔
اس کا دل آج بھنگڑے ڈالنے کو کر رہا تھا۔۔۔
پری کا شرمانا،گھبرانا، اور شرم و حیا سے اپنی نظریں جھکانا سب کچھ اسے واضع نظر آ رہا تھا اور پری کا اور زیادہ اسیر بنا رہا تھا۔۔۔۔۔
عادل محبت سے اس کی تصویر کو چوم ڈالتا ہے۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
نائلہ اب ہم جلد ہی اپنی بیٹی کو اپنے گھر لے جانا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔
لیکن بھابھی اتنی جلدی بھی کیا ہے ابھی تو اسے اٹھنے بیٹھنے کی تمیز بھی نہیں ہے اور اس کی پڑھائی مکمل بھی نہیں ہوئی۔۔۔۔
یہ کیا بات ہوئی ماما اچھی خاصی تمیز تو ہے مجھ میں کیوں ماموں جان،،، پری کی بات پر ولید صاحب بھی مسکرا کر ہاں میں سر ہلاتے ہیں۔۔۔۔
پتا نہیں آپ کی بہن کو ہی میں کیوں بدتمیز لگتی ہوں،،کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے میں ان کی سگی اولاد ہوں ہی نہیں۔۔۔۔
پری جھنجھلا کر بولی۔۔۔۔
تم چپ ہوتی ہو یا میں کرواؤں۔۔۔ ۔
ہونہہ اتنا نہیں کہ بیٹی سسرال جا رہی ہے تھوڑا لاڈ پیار کر لیں بس سارا دن انسلٹ کرتی رہتی ہیں اب کی بار پری دل ہی دل میں بڑبڑائی تھی۔۔۔۔۔۔
پڑھائی تو شادی کے بعد بھی ہو سکتی ہے ہے نائلہ بیٹا کیوں بیگم صاحبہ۔۔۔۔۔
جی بلکل نائلہ ولید صاحب ٹھیک بول رہے ہیں شادی کے بعد ہماری بیٹی جتنا پڑھنا چاہے پڑھ سکتی ہے۔۔۔۔۔
بس اب میں اور کوئی بہانا نہیں سنوں گی نائلہ۔۔۔
ہم اس مہینے کی گیارہ کو بارات لے کر آ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔
لیکن بھابھی،بھائی صاحب اتنے کم دنوں میں سب تیاریاں کیسے ہوں گی۔۔۔۔
نائلہ بیگم تھوڑی پریشانی سے بولیں۔۔۔۔
انشاء اللہ سب تیاریاں وقت پر ہوجائیں گی اس میں پریشان ہونے والی کوئی بات نہیں ہے تم ٹینشن نہ لو۔۔۔۔۔
شمائلہ بیگم کے بس میں ہوتا تو وہ آج کے آج ہی نکاح پڑھوا کر پری کو عادل کے کمرے میں پہنچا دیتی۔۔۔۔۔
سب بڑے شادی کی تیاریوں کے بارے میں ڈسکس کرنا سٹارٹ کر دیتے ہیں تو وہ بھی اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی آتی ہے اور آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر خود کو آئینے میں دیکھتی ہے اور چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر شرما دیتی ہے۔۔۔۔
عادل کے بارے میں سوچ سوچ کر ناجانے کیوں آج اسے شرم آ رہی تھی۔۔۔۔۔۔

0 Comments