#Most_Romantic
#Forced_Marriage
#Rude_hero
#innocent_heroin
" Shahzain and Hoor Special "
ستمگر_محبوب_میرا
زنور_رائیٹس
قسط_نمبر_11
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
عینی کچن میں کھڑی ناشتہ کر رہی تھی جب رزیہ کچن میں داخل ہوئی اور اسے آکر بولی۔۔۔
عینی شاہزین سر کہہ رہے تھے کہ تمھیں کہوں کہ ان کے کمرے میں کافی بنا کر دے جاؤ۔۔۔۔
عینی جو نوالہ منہ میں ڈال رہی تھی وہ رزیہ کی بات سن کر حلق میں ہی پھنس گیا اور وہ زور زور سے کھانسنا شروع ہوگئی
عینی نے جلدی سے اپنے سامنے پڑے گلاس کو اٹھا کر منہ سے لگایا جب کھانسی روکی تو رزیہ کو خود کو دیکھتے پا کر وہ سنبھل کر بولی۔۔۔
ٹھیک ہے میں بنا دیتی آپ پلیز سر کے کمرے میں دے آئیے گا۔۔
بلکل بھی نہیں شاہزین سر نے کہا ہے کہ اسے کہنا وہ خود دے کر جائے۔۔۔۔
رزیہ اس کی بات سن کر جھٹ سے بولی تو عینی نے گہرا سانس لے کر اپنا سر ہلایا اور جلدی سے ناشتہ ختم کرکے شاہزین کے لیے کافی بنانے لگی۔۔۔۔۔
وہ ہمت کرتے ہوئے شاہزین کے کمرے کا دروازہ ناک کر کے اندر داخل ہوئی اور اسے نہ پاکر جلدی سے کافی میز پر رکھ کر جانے لگی جب اسے شاہزین کی آواز بالکنی سے سنائی دی
حور مجھے ادھر کافی پکڑا کر جاؤ۔۔۔۔۔
وہ شاہزین کو کافی پکڑانے کے لیے بالکونی میں گئی اور اسے کافی پکڑانے کے لیے اپنا کافی والا ہاتھ آگے کیا تو شاہزین نے پہلے عینی کو ایک نظر اوپر سے نیچے تک دیکھا تو عینی کو اس پر شدید غصہ آیا
شاہزین نے اس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کافی کا مگ پکڑنے کی بجائے اس کا ہاتھ پکڑلیا جب کہ اس کے چہرے پر مسکراہٹ موجود تھی
عینی نے اپنا ہاتھ اس کی گرفت میں دیکھا تو اپنے ہاتھ میں موجود کافی کا مگ چھوڑ دیا جس سے گرم کافی شاہزین کے چپل میں موجود پیروں پر گری اور ساتھ ہی تھوڑی کافی عینی کے پاؤں پر بھی گری
آہ۔۔۔۔
شاہزین نے اپنے پیروں پر کافی گرنے کی وجہ سے جلن محسوس کرتے ہوئے اس کے ہاتھ پر اپنی گرفت ہلکی کی تو عینی نے اس کو دھکا دے کر اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے نکالا اور جلدی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔
اب دیکھنا میں تمھارا کیا حشر کرتا ہوں ۔۔۔۔۔ رہتی تو تم میرے ہی گھر میں ہونا اب مجھ سے تم بچ کر دکھانا
جبکہ اپنے پیچھے شاہزین کی غصے سے بھرپور آواز سن کر وہ ڈر گئی تھی۔۔۔۔
شاہزین جلدی سے واشروم میں گیا اور اپنے پیروں پر پانی گرایا جو سرخ ہوچکے تھے۔۔۔اور اب تو جیسے اس پر عینی کی زندگی حرام کرنا فرض ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
علیشبہ بیڈ پر بیٹھی آج پھر اپنی سوچوں میں گم تھی گھر والوں کے سامنے تو وہ بلکل ٹھیک تھی مگر وہ اس واقعہ کے بعد اندر سے ٹوٹ چکی تھی
جب ہاشم اس کے حق میں لفظ بھی نہ بولا تو اسے اس وقت ہاشم سے محبت پر خود سے بے حد نفرت محسوس ہوئی جو اپنی بیوی کو چپ نہیں کروا سکا
کتنی سبکی محسوس ہوئی تھی اس کے باپ کو مگر انھوں نے اسے کچھ بھی نہیں لیکن اسے چپ ہوئے کہ عالی سے کم ہی بات کرتے اور وہ خود بھی کمرے میں بند رہتی تھی تاکہ اپنے باپ کی نظروں میں خود کے لیے نفرت نہ دیکھ سکے
مگر احد صاحب نے تو کبھی اس سے نفرت کی ہی نہیں تھی وہ تو بس اس واقعہ کے بعد عالی کا سوچ کر خاموش ہوگئے تھے رمنا بیگم اور ارقم نے اس عرصے کے دوران اس کا بہت ساتھ دیا تھا اور سب سے بڑی بات اسے کسی چیز کا طعنہ نہیں دیا تھا
اس واقعہ کے بعد اس نے وہ ڈائری کا ایک ایک صفحہ خود اپنے ہاتھوں سے جلایا تھا تاکہ ہاشم کے لیے اپنے دل میں موجود محبت ختم کرسکے مگر ضروری تو نہیں جیسا ہم چاہیں ویسے ہو جائے
وہ خود بھی جانتی تھی کہ کچی عمر کی محبت جلدی ختم نہیں ہوتی۔۔۔۔۔ اور اس کی محبت تو تھی بھی بے لوث و خالص۔۔۔۔۔۔
عینی شاہزین کے کمرے سے نکل کر سیدھا کچن میں آئی ابھی وہ اپنے پیر کو دیکھ رہی تھی جہاں اسے جلن ہورہی تھی کہ اسے شاہزین کی آواز سنائی دی جس سے اس کے دل کی دھڑکن ڈر سے تیز ہوگئی تھی
شاہزین اپنے پیروں پر پانی گرا کر اپنے کمرے سے باہر نکل کر ریلنگ پر کھڑے ہو کر نیچے والے فلور پر جھانکتے ہوئے اونچی اونچی آواز میں سحر بیگم کو پکارنے لگا۔۔۔۔۔۔
موم ۔۔۔۔
موم۔۔۔۔
اس کی آواز سن کر سحر بیگم اپنے کمرے سے باہر آئیں اور شاہزین کو دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔
کیا ہوا ہے شاہزین کیوں پکار رہے ہو ؟
آپ کو پتا ہے وہ مہارانی حور میرے کمرے میں کافی گرا کر غائب ہوگئی ہے آپ جانتی ہے مجھے گندے کمرے سے سخت نفرت ہے اسے میرا کمرہ صاف کرنے کے لیے فوری بھیجیں۔۔۔۔۔
شاہزین کی بات سن کر سحر بیگم بولیں ۔۔۔۔
تو تم سیدھا اسے ہی بولا لیتے مجھے بلانا ضروری تھا ۔۔۔۔
جی کیونکہ میں چاہتا ہوں آپ اسے سبق سکھا کر میرے کمرے میں بھیجیں تاکہ آئندہ وہ غلطی نہ کرے ۔۔۔۔
شاہزین کی بات سن کر سحر بیگم عینی کو آوازیں دینے لگی
حور ۔۔۔۔فورا باہر آؤ
عینی جو کچن میں کھڑی ان کی باتیں سن کر ہلکا ہلکا کانپ رہی تھی سحر بیگم کی غصے سے بھری آواز سن کر اس نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری اور کانپتے ہوئے باہر آئی
ادھر میرے سامنے آکر کھڑی ہو۔۔۔۔۔
سحر بیگم نے اسے اپنے سامنے کھڑے ہونے کا کہا تو وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ان کے پاس گئی
چٹاخ۔۔۔۔۔
عینی جیسے ہی سحر بیگم کے سامنے کھڑی ہوئی سحر بیگم نے اسے زور سے تھپڑ مارا ۔۔۔۔۔۔جس سے اس کا دماغ ایک پل کو سن ہوگیا اور اس کی آنکھوں میں پانی جمع ہونا شروع ہوگیا عینی نے اپنے سرخ گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے دھندلی نظروں سے سحر بیگم کو دیکھا جو غصے سے بول رہی تھی۔۔۔
ایک کام تم سے ڈھنگ سے نہیں ہوتا کیا کر کے آئی ہو شاہزین کے کمرے میں اور پھر بجائے اس کا کمرہ صاف کرنے کے تم یہاں آرام فرما رہی ہو اس سے پہلے میں تمھارا منہ تھپڑوں سے سرخ کرو فورا شاہزین کے کمرے کی صفائی کرو جا کر دفعہ ہوجاؤ اب
عینی ان کی بات سن کر جلدی سے صفائی کا سامان لینے چلے گئی جبکہ شاہزین اوپر کھڑا اس کو تھپڑ پڑتے دیکھ نجانے کیوں بے چین ہوگیا تھا جبکہ اس نے تو اسی وجہ سے سحر بیگم سے کہا تھا وہ اپنا سر جھٹک کر حور کی سزا کے بارے میں سوچنے لگا
شاہزین نے کمرے میں آکر بیڈ کے سائیڈ ٹیبل سے سگریٹ کی ڈبی اٹھائی اور اس میں سے ایک سگریٹ نکال کر ڈبی کو واپس رکھا اور لائٹر سے اسے سلگا کر وہ بیڈ پر بیٹھ کر سیگریٹ پینے لگا
عینی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے سڑھیاں چڑھ کر شاہزین کے کمرے کی طرف گئی اور اس کے کمرے کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے ڈرتے ڈرتے ہوئے دروازہ ناک کیا اسے اندر سے شاہزین کی آواز سنائی دی تو وہ آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی اور شاہزین کو دیکھے بغیر بالکونی کی طرف بڑھ گئی
شاہزین کی نظروں نے اس کا بالکونی تک پیچھا کیا وہ سگریٹ کے کش لیتا ہوا مسلسل عینی کو ہی گھور رہا تھا جو صفائی کر رہی تھی
عینی اس کی نظریں محسوس کرتی اپنے ہاتھ جلدی جلدی چلانے لگی جبکہ شاہزین کے ساتھ اکیلے میں سوچ کر اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اس نے جلدی سے ٹوٹے ہوئے مگ کے ٹکرے اٹھا کر فرش صاف کیا اور باہر جانے لگی تو شاہزین نے اسے چپ چاپ جانے دیا یہ سوچ کر کے وہ بعد میں اس سے بدلہ لے گا۔۔۔۔
ہاشم گھر آفس سے گھر واپس آیا تو حمنا کو تیار دیکھا تو اس کے ماتھے کی تیوری چڑھ گئ۔۔۔۔
اس نے اپنی ٹائی ڈھیلی کرکے حمنا سے پوچھا جو اب جیولری پہن رہی تھی
کہاں جارہی ہو ؟۔۔۔۔
میری ایک دوست کی برتھ ڈے پارٹی ہے وہاں جا رہی ہوں تم اس وقت تھکے یوئے ہوتے ہو اس وجہ سے میں نے پوچھا نہیں اگر پوچھ بھی لیتی تو تم نے انکار ہی کرنا تھا۔۔۔۔
حمنا اس کا سوال سن کر جلدی سے تفصیل سے بولی
اس کی بات سن کر ہاشم کے ماتھے پر مزید لکریں نمودار ہوئی اور وہ حمنا سے سرد آواز میں بولا
تم اس وقت کہیں نہیں جارہی جاکر اپنے کپڑے بدلو اور میرے لیے ڈنر لگواؤ
میں میڈ سے کہہ دیتی ہو وہ ڈنر لگا دیتی ہو اور میں ضرور جاؤ گی اتنی محنت سے میں تیار ہوئی ہوں اور تمھارے خراب موڈ کی وجہ سے میں اپنی نائٹ کم از کم سپوئل نہیں کرنا چاہتی ۔۔۔۔
حمنا جواباً ہاشم سے بولی تو وہ جو صوفے ہر بیٹھا تھا غصے سے اٹھ کر اس کے پاس آیا اور اس کے بازو سے پکڑ کر اس رخ اپنی طرف کیا اور غصے سے دھاڑا۔۔۔۔
میری بات مزاق میں لینے کی کوشش بھی مت کرنا اور چپ چاپ جا کر کپڑے بدلو اگر آئندہ کے بعد میری بات نہ مانی تو میں تمھارا جو حال کروں گا وہ تم سوچ بھی نہیں سکتی ۔۔۔۔ اور سب سے ضروری بات آئندہ تم میری اجازت کے بغیر گھر سے نکلنے کی کوشش بھی مت کرنا ابھی صرف تم نے میری اچھائی دیکھی مجھے تم پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے کوئی جھجھک محسوس نہیں ہوگی اور اب واشروم میں دفعہ ہو جاؤ اس سے پہلے کے میں مزید تمھیں کچھ کردوں۔۔۔۔
حمنا اس کے غصے سے بھری آواز اور اس کی فولادی گرفت اپنے بازو ہر محسوس کرکے اس سے ڈر گئی جب ہاشم نے بات مکمل کرکے اسے واشروم کی جانب دکھا دیا تو وہ جلدی سے واشروم میں چلی گئی
شام کے وقت شاہزین اپنے دوستوں کے ساتھ چلا گیا تو عینی پرسکون ہوگئی وہ رزیہ کے ساتھ کام کروانے کے بعد انیکسی میں اپنے کمرے میں چلی گئی اس نے اپنی آنکھوں سے لینز اتارے اور شاور لینے چلی گئی
وہ شاور لے کر آئی اور اپنے بالوں کو سکھانے لگی اس نے خود کو شیشے میں دیکھا تو اس کی آنکھیں رونے اور لینز کی وجہ سے سرخ ہوئی پڑی تھیں
اس نے اپنے ہاتھ سے اس گال کو چھوا جو سحر بیگم کے تھپڑ کی وجہ سے ہلکا سا سوجا ہوا تھا
وہ آج کے دن کے بارے میں سوچتے ہوئے سونے کے لیے لیٹ گئی
شاہزین اپنے دوستوں کے ساتھ گھوم پھر کر واپس گھر آیا تو اس کا دھیان انیکسی کی طرف گیا کچھ سوچ کر وہ عینی کے کمرے کی طرف چل دیا
چونکہ کمرے کا دروازہ بند تھا وہ کمرے کی کھڑکی کی طرف گیا اور اسے کھولنے کے لیے کوشش کرنے لگا تو کھڑکی کا لاک کھولا ہوا ہی تھا بس کھڑکی ویسے ہی بند تھی
کھڑکی کو کھول کر وہ اندر داخل ہوا تو حور کو سوتے پاکر وہ آہستہ سے بیڈ کی جانب بڑھ گیا اور اپنے موبائل کی لائٹ جلا کر سامنے دیوار کی طرف اس کا رخ کیا تو کمرے میں تھوڑا اندھیرا کم ہوا اور اسے عینی کی صورت دکھائی دی
اس نے عینی کو دیکھتے ہوئے بےخودی کی کیفیت میں ہاتھ اس کے چہرے کی طرف بڑھایا اور اس کے چہرے کے نقوش کو ہلکا ہلکا چھونے لگا
عینی گہری نیند میں تھی جب اسے لگا کہ کوئی اسے چھو رہا ہے ۔۔۔۔۔
شاہزین نے جب عینی کو ہلتے دیکھا تو جلدی سے اپنا ہاتھ اس کے چہرے سے ہٹالیا اور اس کے کان کے قریب جھک کر دھیمی آواز میں بولا۔۔۔۔۔
تم بہت خوبصورت ہو۔۔۔اور جلد ہی تم میری بیوی بنوگی پھر میں تمھارا جینا حرام کروں گا ۔۔۔۔۔
وہ شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر ایسے بولا جیسے عینی سب سن رہی ہو مگر وہ تو خوابوں کی دنیا میں گم تھی
وہ اہستہ سے اس کے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
شفق کینٹین میں عیشبہ کے ساتھ بیٹھی چپس کھا رہی تھی جب اسے سامنے سے ارقم کسی لڑکی سے مسکرا کر بات کرتا ہوا نظر آیا وہ جو بڑے مزے سے چپس کھا رہی تھی اسے لڑکی کے ساتھ دیکھ کر اس حلق تر کڑوا ہو گیا
اس نے اپنی نظروں کا رخ اپنے سامنے بیٹھی علیشبہ کی طرف کیا جو اس سے کچھ کہہ رہی تھی
سوری۔۔۔۔ عالی میں نے سنا نہیں تم کیا کہہ رہی تھی
میں کہہ رہی تھی کہ کل جو اسائنمنٹ جمع کروانی ہے تم نے وہ بنا لی یا ابھی بنانی ہے۔۔۔۔
علیشبہ نے جوس پیتے ہوئے اس سے پوچھا۔۔۔۔
ہاں میں نے بنالی ہے بس آخر سے تھوڑی رہتی ہے۔۔۔۔۔
شفق نے ایک نظر ارقم کو دیکھ کر عالی سے کہا جو اب اس لڑکی کے ساتھ اس سے کچھ دور ایک ٹیبل پر بیٹھ گیا تھا
پیچھے کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔۔۔
عالی پیچھے دیکھتے ہوئے بولی تو شفق ایک پل کو گڑبڑا گئی اور عالی کے پیچھے دیکھنے سے پہلے ہی بول پڑی ۔۔۔
کچھ نہیں ویسے ہی دیکھ رہی تھی تم بتاؤ تم نے اسائنمنٹ بنا لی۔۔۔۔۔
شفی ابھی بتایا تو ہے بنالی ہے۔۔۔۔۔
عالی کی بات سن کر وہ کچھ بولنے لگی کہ ارقم کو اپنے ٹیبل کی طرف آتا دیکھ اس نے اپنا بیگ کندھے پر ڈالا اور ارقم کے علیشبہ کے پاس پہنچتے ہی وہ اٹھتے ہوئے بولی۔۔۔۔
عالی مجھے یاد آیا سر معظم نے مجھے بلایا تھا میں ان کی بات سن کر آتی ہوں۔۔۔۔
عالی نے حیران نظروں سے شفق کو دیکھا کیونکہ وہ پورا وقت شفق کے ساتھ ہی تھی اسے نہیں پتا چلا کہ کسی سر نے اسے بلایا بھی تھا مگر اپنے پیچھے ارقم کو دیکھ کر وہ کچھ کچھ بات سمجھ چکی تھی
ارقم جو عالی سے بات کرنے آیا تھا اس کے اچانک اٹھنے پر اس نے شفق کو ایک نظر دیکھا جو اپنی بات کرکے جاچکی تھی
عالی میں اپنے دوستوں کے ساتھ قریبی ریسٹورنٹ میں جارہا ہوں میرے اگلے لیکچر فری ہیں جب تم فری ہوگی مجھے میسج کر دینا میں تمھیں لینے آجاؤں گا۔۔۔۔۔
اوکے بھائی میں میسج کردوں گی ۔۔۔۔ عالی بھی کرسی سے اٹھتے ہوئے بولی
ارقم اسے بتا کر اپنے دوستوں سے ملنے کینٹین سے باہر چلا گیا جہاں اس کے دوست کھڑے انتظار کر رہے تھے۔۔۔
عینی آج سحر بیگم سے اجازت لے کر ہادی سے ملنے جارہی تھی اس کی ٹیچر کا فون آیا تھا کہ اسے بخار ہے وہ پریشان سی گھر سے نکلی اور ہادی کے ہاسٹل اس سے ملنے چلی گئی جبکہ ہادی کی فکر سے اس کی خود کی حالت بھی خراب ہو رہی تھی
وہ ایسی ہی تھی ہادی جب بھی بیمار ہوتا تو اس کی فکر سے اس کی خود کی بھی حالت خراب ہوجاتی تھی وہ ہادی سے بے پناہ محبت کرتی آخر کیوں نہ کرتی وہ محبت ہادی نے سارا بچپن اس کے ساتھ ہی گزارا تھا اس نے اسے بہن نہیں ماں بن کر پالا تھا وہ چھوٹا سا تھا جب ان کے والدین کی وفات ہوئی شاید اسے وہ لوگ یاد بھی سہی طرح نہیں رہتے اگر عینی اسے دورید صاحب اور ردا بیگم کی تصویریں نہ دکھاتی رہتی ۔۔۔۔
ہاسٹل کے باہر پہنچ کر اس نے ایک گہرا سانس لیا اور اندر داخل ہوئی اور ہادی کے کمرے میں گئی وہ نڈھال سابیڈ پر لیٹا ہوا تھا اس کا رنگ بھی سرخ ہوا پڑا تھا
وہ تیزی سے اس کے قریب گئی اور اس کے سر کو چوما پھر ہاتھ سے اس کا بخار چیک کیا اس کا ماتھا بخار کی شدت سے جل رہا تھا۔۔۔۔
ہادی نے اپنی تھوڑی سی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا اور ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔
عینی اپی میں اپ کو ہی یاد کر رہا تھا۔۔۔۔
اس کی کمزور سی آواز سن کر اس کی آنکھ سے ایک آنسو گرا ۔۔۔۔۔
ہادی میری جان آپی بھی تمھیں بہت یاد کر رہی تھی اور چلو شاباش اٹھو ہم ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔۔۔۔۔
اپی۔۔۔۔۔ میری اٹھنے میں مدد کریں۔۔۔۔۔
ہادی نے اپنی باہیں پھیلا کر کہا تو اس نے جلدی سے اسے اپنے ساتھ لگاتے سہارا دے کر کھڑا کیا اور باہر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔
رکشے میں بیٹھ کر اس نے قریبی کسی ہوسپٹل یا کلینک میں اسے لے جانے کا کہا جبکہ ہادی اس کے کندھے پر سر رکھے آنکھیں موندے بیٹھا تھا اور عینی نے اس کے گرد اپنا بازو پھیلایا ہوا تھا
قریبی سرکاری ہسپتال کے قریب رک کر اس نے ہادی کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے رکشے سے اتارا اور اسے اندر لے گئی
ڈاکٹر سے چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے اسے بتایا کہ ہادی کو ایک سو سے اوپر بخار تھا وہ جانتی تھی کہ ہادی کو اتنا ہی بخار ہو گا اس کا ماتھا جو تپ رہا تھا
ڈاکٹر نے اسے دوائیں لکھ کر دیں تو اس نے ایک نرس سے کو پیسے دے کر دوائیں منگوائی اور اس کے ہاسٹل کال کرکے بتایا کہ وہ ہادی کو اپنے ساتھ لے جارہی ہے۔۔۔۔۔
وہ ہادی کو اپنے ساتھ گھر لے گئی اور اسے انیکسی میں موجود اپنے کمرے میں لے گئی عینی مے اسے لیٹنے کا کہا اور جلد سے کچن سے جا کر ہادی کے لیے جو راستے سے بیسکٹ اور دودھ وغیرہ لائی تھی اسے برتنوں میں ڈال کر نیم گرم کیا جبکہ رزیہ بھی کچن میں ہی تھی
عینی دودھ گرم کر کے ہادی کے پاس لائی اور اسے اٹھاتے ہوئے بیسکٹ دودھ میں ڈبو کر کھلانے لگی بیسکٹ کھلانے کے بعد اس نے ہادی کو دوائی دی اور باقی دودھ پلا کر برتن سائیڈ پر رکھ کر اسے لیٹا کر اس کے چہرے سے بال ہٹا کر سر پر بوسہ دیا اور جلدی سے کچن سے ٹھنڈا پانی لے کر آئی اور تھوڑی دیر اس کی پٹیاں کی جب اسے لگا کہ ہادی کا بخار ہلکا ہوگیا ہے تو وہ اس کے قریب سے اٹھی جو سویا ہوا تھا اور باہر سحر بیگم کے کپڑے استری کرنے چلی گئی جو انھوں نے اسے شام تک کر کے دینے کو کہا تھا۔۔۔۔۔
وہ کپڑے استری کر کے دو گھنٹے بعد فارغ ہوئی اور ہادی کو ایک نظر کمرے میں دیکھنے گئی وہ ہر آدھے گھنٹے بعد ہادی کو ایک نظر دیکھنے جاتی تھی کہ کہیں وہ اٹھ نہ گیا ہو یا اسے کسی چیز کی ضرورت نہ ہو۔۔۔۔
ہادی کو دیکھ کر وہ رزیہ کے پاس گئی جس نے اسے شاہزین کے کمرے میں کباب اور کافی دینے جانے کا کہا تو وہ پہلے انکار کرنے لگی مگر رزیہ کو خود کو گھورتے پا کر وہ جلدی سے ٹرے پکڑ کر شاہزین کے کمرے کی جانب چل دی جب کہ صبح کی بھاگ دوڑ سے اب اسے تھکاوٹ ہونے لگی تھی
وہ دل میں بس یہی دعا کر رہی تھی کہ شاہزین کمرے میں نہ ہو ۔۔۔۔وہ کمرے کا دروازہ ناک کرکے اندر داخل ہوئی تو شاہزین کو صوفے پر بیٹھا دیکھ کر اس کا دل حلق کو آگیا وہ اپنے خشک ہونٹوں کو زبان سے تر کرتی اندر داخل ہوئی اور ٹرے اس کے سامنے ٹیبل پر رکھی
شاہزین نے اسے آتا دیکھ اپنے دوست کو میسج کر کے موبائل میز پر رکھا اور اس کی طرف دیکھا جو نظریں زمین پر جھکا کر اس کی طرف دیکھے بنا ٹرے رکھے واپس جانے کے لیے مڑنے لگی کہ شاہزین نے تیزی سے اٹھ کر اس کا ہاتھ پکڑا۔۔۔۔
اسے ہاتھ پکڑتا دیکھ عینی ڈر گئی اور اس سے ہاتھ چھوڑا نے کے لیے دوسرے ہاتھ سے اس کے کندھے پر مکے مارنے لگی
شاہزین نےاس کی ناکام کوشش دیکھی تو ہلکا سا قہقہہ لگایا
تم کبھی بھی میری گرفت سے آزاد نہیں ہو سکتی۔۔۔۔جلد ہی میں تمھیں اپنے پاس قید کرلوں گا اور تمھیں کہیں نہیں جانے دو گا سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔
شاہزین کی بات سن کر عینی نے اپنی خوف سے پھیلی آنکھوں سے اسے دیکھا اور رندھی ہوئی آواز میں منمنائی۔۔۔
پ۔۔۔پلیز ج۔۔۔۔جانے دیں۔۔۔۔۔م۔۔۔میرا ہ۔۔۔ہاتھ چھوڑ دیں۔۔۔۔آپ کو خدا کا واسطہ۔۔۔۔۔م۔۔۔میں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے ۔۔۔۔
شاہزین نے اس کی کانپتی آواز سن کر اس کا ہاتھ چھوڑنے کی بجائے اس پر گرفت اور مضبوط کر دی۔۔۔۔۔
کبھی سوچنا بھی مت کہ شاہزین تمھیں جانے دے گا اور یہ ہاتھ میں جلد ہی ہمیشہ کے لیے تھام لوں گا
اس کے ہاتھ کو آخری بار دبا کر چھوڑتا وہ واپس صوفے پر آکر بیٹھا۔۔۔۔
عینی اس کی بات کا مطلب سمجھے بنا اس کی گرفت سے رہائی پاتے تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔۔
شفق یونیورسٹی سے آئی تو اس کا دل کسی چیز میں نہیں لگ رہا تھا بار بار سامنے ارقم اور اس لڑکی کی تصویر آرہی تھی جس کے ساتھ ارقم مسکرا رہا تھا
پتا نہیں خود کو سمجھتا کیا ہے میرے سامنے تو کبھی ہلکا سا بھی نہیں مسکرایا بس ہر وقت منہ میں انگارے ہی چبائے پھیرتا ہے ۔۔۔۔۔اور دوسروں کے ساتھ کیسے مسکرا مسکرا کر بات کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
شفق اپنے سامنے نوٹس رکھے ارقم کو برا بھلا کہہ رہی تھی وہ ارقم کے خیالات کو جھٹک کر دوبارہ اپنے نوٹس کی طرف متوجہ ہونے کی ناکام کوشش کر رہی تھی آخر تھک ہار کر وہ نوٹس بند کرکے اٹھی اور باہر لان میں چلے گئی مگر جاتے ہوئے رزیہ سے چائے کا کہنا نہیں بھولی۔۔۔۔
ہادی کب سے جاگ کر عینی کا انتظار کر رہا تھا اس کا بخار اب تقریباً اتر ہی گیا تھا آخر انتظار کرنے کے بعد تنگ آکر وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور انیکسی کے دروازے کی طرف بڑھنے لگا کہ اسی وقت عینی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی اور اسے اٹھتے دیکھ کر اس کے قریب آئی۔۔۔۔
ہادی میری جان اب کیسا محسوس کر رہے ہو۔۔۔۔
عینی اپی اب میں ٹھیک ہوں بس تھوڑی دیر کے لیے باہر گارڈن میں جانا چاہتا ہوں
وہ معصومیت سے بولا تو عینی نے اسے بےبسی سے جواب دیا
ہادی آپ کو بخار ہے نہ آپ شاباش لیٹ کر آرام کرو۔۔۔۔
نہیں اپی مجھے باہر جانا۔۔۔۔۔
ہادی ضد سے بولا
اچھا ٹھیک ہے لیکن تم انیکسی کے سامنے ہی رہو گے پورے گارڈن میں نہیں گھومو گے اور اگر کوئی کچھ کہے تو فورا واپس کمرے میں آجانا میں بس تمھیں دیکھنے آئی تھی مجھے ابھی واپس کام کرنے اندر جانا ہے۔۔۔۔
عینی ہادی کے بال اس کے ماتھے سے پیچھے کر کے اپنے ہاتھ سے اس کا درجہ حرارت چیک کیا اور ہلکے سے اس کے ماتھے کو چوم کر بولی۔۔۔۔
اوکی اپی میں جلد ہی واپس آجاؤں گا ۔۔۔۔۔
ہادی بولتے ہی عینی کو ہاتھ سے پکڑ کر باہر کی طرف سے کھنچتے ہوئے بولا عینی اس کے ساتھ چلتی ہوئی باہر آئی اور اسے لان میں چھوڑ کر واپس گھر کے اندر چلی گئی
شفق جو گھر کے گرد موجود سارے لان میں واک کر رہی تھی انیکسی کے سامنے ایک چھوٹے بچے کو بیٹھا دیکھ کر اس کے قریب آئی
ہادی گھاس پر بیٹھا اسے اپنے انگھوٹے سے ہلکا ہلکا خرچ رہا تھا کہ اپنے سامنے کسی لڑکی کو کھڑے دیکھ کر اس نے اپنی متجسس آنکھوں سے اسے دیکھا ۔۔۔۔۔
کون ہو تم ؟۔۔۔۔
شفق اس کے قریب بیٹھتے یوئے بولی ویسے بھی وہ اپنا دھیان ارقم سے ہٹانا چاہتی تھی اسی وجہ سے اس نے ہادی کا انٹرویو لینے کا سوچا۔۔۔۔۔
میں ۔۔۔۔۔اممم۔۔۔ میں ایک انسان ہوں۔۔۔۔
ہادی پہلے اپنی طرف اشارہ کر کے پھر سوچتے ہوئے شرارت سے بولا تو شفق نے اس کی بات سن کر ہلکا سا مسکرائی اور بولی۔۔۔۔
میرا مطلب تھا کہ نام کیا ہے تمھارا اور یہ پیارا بچہ ہمارے گھر کیا کر رہا ہے ؟
میرا نام حیدر یے لیکن پیار سے سب ہادی کہتے ہیں اور میں عینی اپی کے ساتھ آیا ہوں۔۔۔۔
ہادی نے اسے جواب دیا تو شفق نے حیرت سے اس گورے چٹے بچے کو دیکھا اور پھر ذہن میں سنولی سی حور کا چہرا آیا۔۔۔۔
کیا تم اس کے بھائی ہو ؟!۔۔۔۔
او ہو ابھی تو بتایا نہ کہ وہ میری اپی ہے اس کا مطلب یہی ہوا کہ میں ان کا بھائی ہوں
شفق کی بات سن کر اس نے ماتھے پر ہلکا سا ہاتھ مارتے ہوئے سیانوں کی طرح بولا تو شفق اس کی یہ ادا دیکھ کر مسکرا اٹھی۔۔۔۔
اچھا تو تم یہ بتاؤ کہ آج تم یہاں کیا کر رہے ہو ہادی پہلے کہاں رہتے تھے؟!
میں پہلے ہوسٹل میں رہتا ہوں آج مجھے بخار تھا تو اپی اپنے ساتھ یہاں لے آئی اور آپ مجھ سے سوال پوچھے جا رہی ہیں اپنے بارے میں نہیں بتا رہیں کہ آپ کا کیا نام ہے۔۔۔۔۔
اچھا سہی تبھی تم آج یہاں موجود ہو اور میرا نام شفق ہے اور یہ میرا ہی گھر ہے۔۔۔۔
شفق نے مسکرا کر جواب دیا اور ہادی کے ساتھ بیٹھ کر مزید باتیں کرنے لگی پھر مغرب کی اذان پر اس کے قریب سے اٹھی اور اسے بھی واپس کمرے میں بھیج کر خود نماز ادا کرنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
0 Comments