#Most_Romantic
#Forced_Marriage
#Ride_Hero
#innocent_Heroin
ستمگر_محبوب_میرا
زنور_رائیٹس
قسط_نمبر_22 (Last Episode)
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
ہاشم حور اور ہادی کے پاس جا کر ان سے بات کرنا چاہتا تھا مگر رمنا بیگم نے آکر اسے منع کر دیا اور اسے گھر جا کر بات کرنے کا کہا تو وہ بس گہری سانس ہی بھر کر رہ گیا رمنا بیگم کے چہرے سے اسے کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا۔۔۔۔۔
حور تم ٹھیک ہو ؟؟ اگر ویکنس ہورہی ہے تو میں ڈیڈ سے بات کرتا ہوں پھر گھر چلتے ہیں۔۔۔۔۔
شاہزین نے حور سے کہا جو تھکی ہوئی لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔
نہیں میں بلکل ٹھیک ہوں شاہزین۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر شاہزین سے بولی تو شاہزین نے سکون کا سانس لیا۔۔۔۔۔
تم دو منٹ انتظار کرو میں تمھارے اور ہادی کے لیے کھانا ٹیبل پر لگواتا ہوں ۔۔۔۔۔
وہ حور کا ہاتھ دبا کر اپنی جگہ سے اٹھا تو حور بس سر ہی ہلکا سکی۔۔۔۔۔
وہ اور ہادی اکیلے بیٹھے تھے کیونکہ کھانا کھل چکا تھا تو اس وقت سب کھانے میں مصروف تھے۔۔۔۔
علیشبہ حور کو اکیلا دیکھ کر اس کے پاس آکر بیٹھی ۔۔۔۔۔
عینی کیسی ہو تم ؟؟ ماشااللہ بہت خوبصورت لگ رہی ہو تم ۔۔۔۔۔
شکریہ۔۔۔۔
ایک لفظ میں جواب دیا گیا ۔۔۔۔
اور ہادی تم کیسے ہو چھوٹو۔۔۔۔
وہ جیسا بھی آپ کو اس سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔
حور نے سنجیدگی سے علیشبہ کو جواب دیا جو اپنی جگہ شرمندہ سی ہوگئی۔۔۔۔
حور تم ایسا کیوں کر رہی ہو یار ہم سب تمھارے لیے بہت پریشان تھے۔۔۔۔۔۔
علیشبہ کی بات کا اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا شاہزین کے واپس آتے ہی علیشبہ مایوسی سے حور کے قریب سے اٹھ گئی۔۔۔۔۔
کھانا کھانے کے بعد رمنا بیگم نے سحر بیگم سے بات کی کہ وہ لوگ ان کے گھر جانا چاہتے ہیں کیونکہ انھیں ضروری بات کرنی ہے سحر بیگم ان کی بات سن کر اپنی رضامندی دی اور سٹیج پر پہلی بار حور کے قریب گئیں ورنہ وہ تب کی بس ادھر ادھر ہی مصروف تھیں۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے اس کے قریب بیٹھی تو حور نے ایک نظر انھیں دیکھ کر دوبارہ اپنی نظریں جھکا لیں۔۔۔۔
شاہزین تم نے مجھے بتایا نہیں کہ حور تمہیں کب ملی ؟؟؟
سحر بیگم نے دھیمی آواز میں شاہزین سے پوچھا۔۔۔۔۔
آپ فکر مت کریں موم حور میرے ساتھ اپارٹمنٹ میں جائے گی آپ کے گھر نہیں۔۔۔۔
شاہزین نے سحر بیگم کو جواب دیا۔۔۔۔
شاہزین میرا یہ مطلب نہیں تھا اور اب حور اور ہادی ہمارے ساتھ گھر جائیں گے بس اب مزید کوئی بحث نہیں ہوگی۔۔۔۔۔
سحر بیگم کی بات سن کر شاہزین نے ان کی طرف دیکھا جو اسے گھور رہی تھیں۔۔۔۔
شاہزین نے سر جھٹک کر حور کو دیکھا جو خاموش بیٹھی تھی وہ اس کی خاموشی کی وجہ اچھے سے جانتا تھا لیکن وہ چاہتا تھا کہ ایک بار وہ اپنے گھر والوں سے مل لے۔۔۔۔
****************
سب لوگ اس وقت گھر کے لاؤنچ میں بیٹھے تھے عینی نے شاہزین سے کہہ کر ہادی کو کمرے میں بھجوا دیا تھا کیونکہ وہ تھک گیا تھا اور اسے نیند آرہی تھی۔۔۔۔
اس وقت لاؤنچ میں سب لوگ موجود تھے سوائے ہادی کے۔۔۔۔۔
حورالعین بچے ہمیں تم سے بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔۔
اچانک حدید صاحب نے عینی سے کہا تو سب اس کی جانب متوجہ ہوگئے جبکہ سحر بیگم ، شفق اور تیمور صاحب نے سوالیہ نظروں سے ان کی جانب دیکھا ۔۔۔۔
یہ میری بہن کی بیٹی ہے۔۔۔۔۔اور حدید کے بھائی کی بیٹی ہے۔۔۔۔۔
رمنا بیگم نے ان کی سوالیہ نظروں کا جواب دیا تو سحر بیگم ، شفق اور تیمور صاحب نے حیرانی سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔ اور میں آپ کو نہیں جانتی ؟؟؟ کون ہیں آپ کوگ ؟؟؟
عینی نے مضبوط آواز میں ان سے پوچھا جبکہ شاہزین اس کا ہاتھ پکڑے ساتھ ہی بیٹھا تھا۔۔۔۔
حور ہماری بات تو سن لو ایک بار۔۔۔۔۔
ہاشم نے اس بار حور سے کہا۔۔۔۔۔۔
کونسی بات ؟؟ مجھے آپ لوگوں کی کوئی بات نہیں سننی ؟؟
عینی نے کہا۔۔۔۔۔ سب لوگ اس کی طرف ہی متوجہ تھے جو اپنے لبوں کو بھینچے انھیں جواب دے رہی تھی۔۔۔۔
میں مانتا ہوں حور میری غلطی ہے تم میری غلطی کی سزا چچا چچی کو مت دو ۔۔۔۔۔
ہاشم نے حور سے کہا۔۔۔۔۔۔۔
کونسے چچا چچی ؟؟ وہ جنہوں نے مجھے اور ہادی کو آپ کی بیوی کی غلطی کی وجہ سے حویلی سے بے دخل کر دیا یا وہ میرا چچا زاد بھائی جسے میں نے مشکل وقت میں مدد کے لیے پکارا تو مجھے صاف انکار کر گیا۔۔۔۔۔
وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی بولی پہلے تو سب نے نظریں جھکائی پھر سب کی نگاہیں ارقم کی جانب اٹھیں۔۔۔۔۔
ارقم کیا حور کا تمھیں فون آیا تھا ؟؟
رمنا بیگم نے ارقم سے پوچھا
امی میری بات سنیں۔۔۔۔۔
ہاں یا نہ میں جواب دو ۔۔۔۔
رمنا بیگم نے ارقم سے پوچھا جو مضطرب سا کھڑا تھا۔۔۔۔۔
ہاں۔۔۔۔
مجھے بلکل امید نہیں تھی کہ تم بھی ہاشم جیسے ہو گے آخر کیسی بھول گئی تم دونوں تو ایک دوسرے کا عکس ہو بدلہ ضرور لیتے ہو۔۔۔۔
رمنا بیگم نے اسے غصے سے کہا جو اب شرمندگی سے لب بھینچے سر جھکائے کھڑا تھا۔۔۔۔جبکہ سب انھیں کی جانب متوجہ تھے
حور چندا ہمیں اس بارے میں بلکل نہیں پتا تھا ورنہ میں کبھی تمھیں ایسے بھٹکنے نہ دیتی ۔۔۔۔۔ بس ہمیں ایک موقع دو ہم تمھیں اور ہادیکو کوئی تکلیف نہیں پہنچائے گے۔۔۔
رمنا بیگم نے کہا
حور بچے پلیز مجھے بھی ایک موقع دو میں تمھاری اور ہادی کی ہر تکلیف کا مداوا کر دوں گا۔۔۔۔۔
ہاشم نے عینی سے کہا جو خاموشی سے انھیں دیکھ رہی تھی مگر ہاشم کی بات سن کر وہ تیزی سے اس کی جانب آئی اور چیختے ہوئے بولی۔۔۔۔
کیا آپ در بدر کی ٹھوکریں کھاسکتے ہیں ؟؟ جب آپ لوگ اپنے گھروں مزے سے آرام کر رہے تھے تب میں نے لوگوں کے گھروں میں کام کیا ان کی مار کھائی ہے کیا آپ میری جگہ یہ سب کریں گے ؟؟؟ کیا آپ میری جگہ رہ سکتے ہیں جہاں مسلسل میں اپنی عزت کے خطرے میں رہتی تھی ؟؟ کیا آپ سوکھی روٹی کھا سکتے ہیں ؟؟ کیا آپ ہماری جگہ بھوکے رہ سکتے ہیں ؟؟؟ کیا آپ ہادی کی جگہ سڑھیوں سے گر سکتے ہیں ؟؟ جب آپ اپنی دوسری شادی کی تیاری میں تھے تب میں ہوسپٹل میں ہادی کے ساتھ تھی جانتے ہیں کیسا لگتا ہے جب اپنا کوئی مر رہا ہو اور آپ کے پاس کوئی مدد کا وسیلہ نہ ہو اور آپ کے جان سے پیارے بھائی کی سانسیں لمحہ بہ لمحہ ختم ہو رہی ہوں کہاں تھے آپ جب مجھے اور ہادی کو آپ کی ضرورت تھی جواب دیں ۔۔۔۔۔
وہ بولتی ہوئی سحر بیگم ، شاہزین اور وہاں موجود ہر شخص کو شرمندہ کر گئی تھی
میں آپ کو بتاتی ہوں جب میں اور ہادی گرم تپتی ہوا میں دن رات گزارتے تھے تب آپ اے سی والے کمرے میں ہوتے تھے ۔۔۔۔۔ جب ہم مشکل میں تھے تب آپ اپنی پارٹیوں میں مصروف تھے۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں نمی جمع ہونے لگ پڑی تھی ۔۔۔۔
میں جانتی ہوں اس وقت مجھ سے آپ ایک موقع کیوں چاہتے ہیں ؟؟؟ چلیں میں آپ کو بتاتی ہوں آپ بے سکون ہیں آپ کو سکون نہیں ملتا راتوں کو جاگتے ہوں گیں کیونکہ آپ کا ضمیر آپ کو سونے نہیں دیتا ہو گا لیکن یہ جو آپ میرے سامنے کھڑے میری فضول باتوں کو سن رہے ہیں یہ بھی اپنے مطلب کے لیے ۔۔۔۔۔
وہ بولتی ہوئی اب ہانپنے لگی تھی شاہزین نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسے تھاما اور جلدی سے ملازمہ سے پانی کا گلاس منگوایا۔۔۔۔۔
اس نے عینی کو اپنے حصار میں لیتے ہوئے پانی کا گلاس اس کے منہ سے لگایا۔۔۔۔۔
ششش۔۔۔۔ خود کو سنبھالو حور۔۔۔۔۔
عینی نے تھوڑا سا پانی پینے کے بعد اپنا چہرہ شاہزین کے سینے میں چھپا لیا اور زور و شور سے رونے لگی۔۔۔۔۔۔
ہاشم نے پشیمانی اور دکھ سے حور کو دیکھا جبکہ اسے روتے دیکھ سب کی آنکھیں ہی نم ہوگئی تھیں۔۔۔۔۔
ش۔۔۔۔شاہزین یہ س۔۔۔سب اپنے م۔۔۔مطلب کے لیے آئے ہیں انھیں مجھ سے اور ہادی سے کوئی واسطہ ن۔۔۔۔نہیں ہے ی۔۔۔یہ سب مطلب پ۔۔۔پرست ہیں۔۔۔۔
وہ روتے ہوئے شاہزین کو بتا رہی تھی جس نے مضبوطی سے اسے خود میں بھینچا یوا تھا جبکہ ضبط سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا عینی کے آنسو دیکھ کر اسے شدت اپنے دل میں درد اٹھتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔
اچانک عینی شاہزین کے باہوں میں بے ہوش ہو کر جھول گئی تھی۔۔۔۔
حور ۔۔۔۔حور۔۔۔۔
شاہزین نے اس کا گال تھپتھپا کراسے اٹھانا چاہا۔۔۔
کسی لیڈی ڈاکٹر کو بلائیں ڈیڈ ۔۔۔۔
وہ پریشانی سے حور کو اٹھاتا چیختے ہوئے بولا جبکہ سب حور کو بےہوش دیکھ کر پریشان ہوگئے تھے۔۔۔۔۔
*****************
میری بیوی اب کیسی ہے ڈاکٹر ؟؟
ڈاکٹر چیک کر کے باہر آئی تو شاہزین نے فورا پوچھا
آپ کو پتا ہے ان کو ایسی کنڈیشن میں سٹریس لینا ان کے اور بےبی کے لیے کتنا خطرناک ہے میں نے آپ کو پہلے بھی بتایا تھا کہ ان کو کافی ویکنس ہے اس لیے انھیں کسی بھی طرح کی پریشانی سے دور رکھیے گا۔۔۔
ڈاکٹر برہمی سے بولی۔۔۔۔
آپ پلیز یہ بتائیں اب وہ کیسی ہے ؟؟
شاہزین نے پریشانی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر پوچھا جبکہ سب حیرانی سے شاہزین کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔کیونکہ اس نے کسی کو بھی نہیں بتایا تھا۔۔۔۔
میں نے انھیں انجیکشن لگا دیا ہے وہ اب کافی بہتر ہیں تھوڑی دیر انھیں آرام کرنے دیں اور انہیں ہر طرح کی پریشانی سے دور رکھیں اور یہ کچھ میڈسنز میں نے لکھ دی ہیں یہ انھیں ٹائم پر دے دیجیے گا۔۔۔۔
ڈاکٹر نے بتایا تو شاہزین نے جلدی سے ملازمہ کو گارڈ سے بول کر دوائیاں منگوانے کا کہا اور تیزی سے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔
عینی کے قریب جاکر اس نے محبت سے اس کا ماتھا چوما اس کی آنکھوں پر آنسوؤں کے میٹے میٹے نشان دیکھ کر اس نے ضبط سے اپنی مٹھیاں بھینچی اور اس کی آنکھوں کو چوما۔۔۔۔۔
وہ پیچھے ہٹا اور عینی کے اوپر کمفرٹر صحیح کرکے باہر چلا گیا جہاں سب اس کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔
شاہزین تم بتانا پسند کرو گے ڈاکٹر کیا کہہ رہی تھی۔۔۔۔
تیمور صاحب نے شاہزین کے باہر آتے ہی اس سے پوچھا ۔۔۔
ڈیڈ مجھے خود کل پتا چلا تھا میں آپ کو صحیح وقت پر بتانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اور آپ لوگ پلیز اب حور سے مت ملیے گا جب اس کا دل کرے گا میں آپ لوگوں کو اس سے ملنے کے لیے بلا لوں گا ابھی اسے تھوڑا وقت دیں وہ ٹھیک ہوجائے گی ابھی وہ غصے میں ہے اس کا غصہ ٹھنڈا ہونے دیں اس نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں۔۔۔۔۔
شاہزین پہلے تیمور صاحب سے پھر خاموش کھڑے ہاشم اور دوسرے لوگوں سے بولا کو پشیمانی سے نظریں جھکائے کھڑے تھے۔۔۔۔
ٹھیک ہے پھر ہم چلتے ہیں دوبارہ ملنے آئیں گے۔۔۔۔
رمنا بیگم بولی اور پھر سب سے مل کر وہ لوگ واپس چلے گئے۔۔۔
شاہزین اتنی بڑی خوشی کی خبر تم نے ہم سے کیوں چھپائی۔۔۔۔
سحر بیگم نے خوشی سے شاہزین کی طرف دیکھ کر پوچھا
اگر بتا دیتا تو کیا آپ میری بیوی کو قبول کر لیتی موم ؟؟ یا پھر اسے تھپڑ مارتیں ؟؟ یا پھر اسے زلیل کرتیں ؟؟؟
اس نے سوالیہ انداز میں پوچھا تو سحر بیگم شرمندہ سی ہوگئی۔۔۔۔
شاہزین میں اسے کبھی نہیں کروں گی مجھے لگتا تھا کہ وہ تمھیں مجھ سے چھین رہی ہے اسی وجہ سے میں اس کے ساتھ ایسا سلوک کرتی تھی۔۔۔۔۔
موم آپ کو وہ شروع سے ہی پسند نہیں تھی جبکہ اس نے کبھی آپ کو کچھ نہیں کہا تھا آپ نے ایک مظلوم پر ظلم کیا ہے ۔۔۔۔۔
موم فلحال ابھی میں مزید کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔ صبح بات کریں گے۔۔۔۔
سحر بیگم کی بات سن کر وہ سنجیدگی سے بولا اور واپس اپنے کمرے میں چلا گیا جبکہ سحر بیگم بھی شرمندہ سی تیمور صاحب کے ساتھ اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔۔۔۔۔۔
شاہزین نے کمرے میں آکر فریش ہوکر عینی کا سارا زیور اتار کر سائیڈ پر رکھا اور اسے اپنے حصار میں لیے لیٹ گیا۔۔۔۔
*****************
ایک ہفتے بعد :
موم میں بور ہو رہی ہوں میں آپ کی مدد کروا دوں ۔۔۔۔
عینی لجاجت سے سحر بیگم سے بولی۔۔۔۔
بلکل نہیں حور فورا جاکر آرام سے لاؤنچ میں بیٹھو۔۔۔۔۔ میں جوس بھیجتی ہوں تم وہ پیو۔۔۔۔
سحر بیگم نے اس سے کہا۔۔۔۔
لیکن میں فارغ ہوں آپ مجھے کوئی کام دے دیں میں وہ کر لوں۔۔۔۔
عینی نے پھر سے سحر بیگم سے کہا تو انھوں نے اسے ایک گھوری سے نوازا ۔۔۔۔۔
جاؤ شاباش باہر جاکر بیٹھو اگر شاہزین نے تمھیں اسے گرمی میں کیچن میں کھڑے دیکھ لیا تو گھر آسمان پر اٹھا لے گا۔۔۔۔۔
اوکے موم جانی۔۔۔۔
وہ باہر آکر پھر بور ہونے لگ پڑی تھی۔۔۔۔۔
اس ایک ہفتے میں اس نے خود کو سنبھال لیا تھا سحر بیگم نے اس کے ریسپشن کے اگلے دن ہی اس سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی تھی جب اس نے اپنا دل بڑا کر کے انھیں معاف کر دیا تھا وہ تب سے ہی اس کا ہر طرح سے خیال رکھ رہی تھیں اس نے ابھی تک اپنے گھر والوں سے بات نہیں کی تھی اور نہ ہی دوبارہ ملی تھی مگر پھر آج اس نے دوبارہ سب سے ملنے کا سوچا تھا ۔۔۔۔
اسی وجہ سے سحر بیگم کچن میں مصروف دعوت کا انتظام کروا رہی تھیں کیونکہ آج سب نے ان کے گھر آنا تھا۔۔۔۔
اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ سب کو معاف کر دے گی مگر ہادی کو اپنے ساتھ ہی رکھے گی اسے کسی کے پاس نہیں بھیجے گی جس میں اس کا ساتھ شاہزین بھی دے رہا تھا
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
سحر بیگم کے کہنے پر وہ اس وقت تیار ہونے اپنے روم میں آئی تھی کیونکہ تھوڑی دیر تک سب نے آجانا تھا وہ اپنا سوٹ الماری سے نکال کر فریش ہونے چلی گئی تھی۔۔۔۔
وہ فریش ہوکر آئی تو اس نے جلدی سے اپنے بال سکھا کر انھیں خوبصورت سے انداز میں بنایا اور شاہزین کے آنے کا سوچ کر اس کے کپڑے الماری سے نکال کر بیڈ پر رکھے اور خود ہادی کو اٹھانے دوسرے کمرے میں چلی گئی جو سکول سے آکر سو گیا تھا۔۔۔۔۔
ہادی ہادی۔۔۔۔شاباش اٹھو اور فریش ہو کر کپڑے بدلو مہمان آنے والے ہیں۔۔۔۔
عینی نے ہادی کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے جگایا۔۔۔۔۔
آپی پلیز تھوڑی دیر اور سونے دیں۔۔۔۔
ہادی نے بند آنکھوں سے ہی معصومیت سے کہا
بلکل نہیں ہادی جلدی سے اٹھو اور فریش ہو اگر تم نے میری بات نہ مانی تو شاہزین کو تمھاری شکایت لگاؤں گی پھر وہ جب تمہیں ایک ہفتے تک کرکٹ کھیلنے اور ٹی وی دیکھنے نہیں دے گا تو پھر مجھے مت کہنا۔۔۔۔۔
عینی نے اسے دھمکایا تو وہ فورا ہی اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
عینی آپی آپ بہت ظالم ہیں ۔۔۔۔۔
ہادی نے بیڈ سے اترتے ہوئے عینی کو کہا جو اسے مسکرا کر دیکھتے ہوئے کمرے سے چلی گئی۔۔۔۔
*****************
تھوڑی دیر بعد رمنا بیگم حدید صاحب ارقم ہاشم اور علیشبہ سب ان کے گھر موجود تھے حور اور ہادی سے وہ لوگ مل چکے تھے حور سلام دعا کے علاوہ کچھ نہیں بولی تھی ۔۔۔۔۔
لیکن وہ کم از کم آج ان سے مسکرا کر بات کر رہی تھی۔۔۔۔۔
حور چندا کیسی طبیعت ہے اب تمھاری۔۔۔۔۔۔۔۔
رمنا بیگم نے حور کو مسکراتے دیکھ پوچھا۔۔۔۔۔
الحمداللہ چچی جان اب میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔اور علیشبہ آپی آپ کو نکاح کی بہت مبارک ہو ۔۔۔۔۔
حور نے مسکراتے ہوئے جواب دیا وہ مزید بدمزگی نہیں چاہتی تھی اب وہ سکون سے شاہزین کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی تھی جس میں کوئی پچھتاوا نہ ہو۔۔۔۔۔
شکریہ حور تمھیں بھی مبارک ہو ۔۔۔۔۔
علیشبہ نے حور سے کہا تو اس نے مسکراتے ہوئے اپنا سر ہلایا ۔۔۔۔۔
آپ لوگ بیٹھے میں زرا ہادی کو دیکھ کر آتی ہوں کب سے اسے میں نے کہا تھا فریش ہو جاؤ لگتا ہے دوبارہ سوگیا ہے۔۔۔۔
***************
شفق علیشبہ کے ساتھ بیٹھی تھی جب اسے خود پر کسی کی نظریں محسوس ہوئیں اس نے دیکھا تو ارقم اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
نکاح کے بعد وہ ایک بار بھی مل نہیں سکے تھے لیکن فون پر بات ہوجاتی تھی۔۔۔۔۔
ارقم نے سب کو ایک نظر دیکھا جو باتوں میں مصروف تھے اور ایک نظر شفق کو دیکھ کر جلدی سے آنکھ ماری جو آنکھیں پھیلائے اس کی حرکت پر جلدی سے اپنا رخ موڑ گئی تھی۔۔۔۔
بس کرو ارقم اسے نظروں سے مارنے کا ارادہ ہے دیکھو بیچاری کیسے ڈر رہی ہے۔۔۔۔ اور اپنی یہ نظریں تھوڑی قابو میں رکھو یہ نہ کہ کوئی دیکھ لے اور پھر تمھاری خوب عزت افزائی ہو۔۔۔۔
ہاشم نے اس کی حرکت دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔
اللہ کا نام لیں بھائی میں کب دیکھ رہا ہوں اور آپ بھی تو اپنی منکوحہ کو تب سے گھور ہی رہے ہیں یہ مت سوچیے گا کہ کوئی دیکھ نہیں رہا اور میں نے آپ کی نکاح والے دن عالی سے ملاقات کروائی تھی آج آپ میری ملاقات شفق زے کروائیں ۔۔۔۔۔۔
ارقم نے ہاشم سے کہا ۔۔۔۔۔
لو بھئی یہ کام تو تمھاری بہن ہی کر سکتی ہے پہلے حور سے بات کرلیں پھر جانے سے پہلے ایک بار تمھیں شفق سے ملوا دیں گے ۔۔۔۔۔
ہاشم نے اسے کہا تو وہ صرف منہ بنا کر ہی رہ گیا۔۔۔۔
اگر آپ نے مجھے آج شفق سے نہیں ملوایا تو پھر عالی کی رخصتی تین ماہ بعد کرواؤں گا۔۔۔۔۔
تم جیسا کمینہ سالا میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا ارقم۔۔۔۔۔
ہاشم ارقم کی بات سن کر اسے گھورتے ہوئے بولا۔۔۔۔
آپ کو مجھ جیسا سالہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملنا تھا۔۔۔۔۔
وہ بتیسی دکھاتا ہوا بولا۔۔۔۔تو ہاشم نے اپنا سر نفی میں ہلاتے ہوئے اپنا رخ شاہزین کی طرف کیا جو کوئی بات کر رہا تھا
******************
خوشگوار ماحول میں کھانا کھانے کے بعد سب اس وقت لان میں بیٹھے ہوئے چائے پی رہے تھے۔۔۔۔
حور ہم نے تمھارے ساتھ اور ہادی کے ساتھ جو کیا ہم اس پر شرمندہ ہیں ہم نے تمھیں ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی تھی مگر ناکامی کے علاوہ ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوسکا مجھے امید ہے کہ تم ہمیں اپنی ساتھ کی گئی زیادتیوں کے لیے معاف کر دو گی۔۔۔۔۔۔
رمنا بیگم نے اچانک حور سے کہا تو سب ان کی جانب متوجہ ہوگئے۔۔۔۔۔
چچی جان سب کچھ بھولنا اتنا آسان نہیں ہے لیکن پھر بھی میں نے آپ سب لوگوں کو دل سے معاف کر دیا ہے۔۔۔۔
وہ دھیمی آواز میں بولی۔۔۔۔۔
حور بچے مجھے معاف کر دو یقین کرو مجھے اس وقت سچائی کا علم نہیں تھا مجھے بس اتنا ہی پتا تھا کہ تم لوگ حویلی چلے گئے ہو میں جانتا ہو کہ میں ایک اچھا بھائی نہیں بن سکا مگر تم نے پھر بھی ہمیشہ میرا خیال رکھا اور میں نے ہی تمھیں دربدر کر دیا۔۔۔۔۔
ہاشم شرمندگی سے عینی کے پاس آکر بولا جس نے اپنے لب کاٹتے ہوئے اسے دیکھا اور بولی۔۔۔۔۔
میں نے آپ کو معاف کیا ہاشم۔۔۔۔۔بھائی۔۔۔۔
بہت شکریہ بچے تمھارا دل بہت بڑا ہے کاش میں بھی اپنا دل اتنا بڑا کر لیتا تو تم لوگ کے ساتھ کبھی ایسا نہ ہوتا اب سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے تو میں چاہتا ہوں کہ ہادی کو اب تم ہمارے پاس بھیج دو۔۔۔۔۔
ہاشم بولا تو حور غصے سے بولی۔۔۔۔
میں نے بے شک آپ کو معاف کر دیا ہے لیکن ہادی کو کبھی بھی میں آپ لوگوں کے حوالے نہیں کروں گی اور جو شخص ایک بار ہمیں گھر سے نکال سکتا ہے وہ دوسری بار پھر ہادی کو گھر سے نکال سکتا ہے مجھے آپ پر بلکل بھی بھروسہ نہیں ہے اور میں نے صرف اس وجہ سے آپ کو معاف کیا ہے تاکہ میں خود سکون سے رہ سکوں۔۔۔۔
ٹھیک ہے حور جیسا تم چاہتی ہو ویسا ہی ہوگا ہادی تمھارے پاس ہی رہے گا۔۔۔۔۔
ہاشم نے حور کی بات سن کر مایوسی سے کہا۔۔۔۔۔
ہاشم بھائی میں نے اسے بہن کم ماں زیادہ بن کر پالا میں اسے خود سے دور نہیں کر سکتی۔۔۔۔
حور نے دھیمی آواز میں کہا تو ہاشم نے آگے بڑھ کر اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔۔
تم بلکل سہی کہہ رہی ہو ہادی کو تم ہی اپنے پاس رکھنے کی حق دار ہو ۔۔۔۔
اس کے بعد سب ہی خوش ہو گئے تھے کیونکہ سارا ماحول ہی بدل گیا تھا پہلے پھر بھی سب میں تھوڑا تناؤ تھا مگر اب وہ بھی ختم ہوگیا تھا۔۔۔۔۔
************
مجھے پانی پینا ہے آنٹی کیا آ بتائیں گی کچن کس طرف ہے۔۔۔۔
ارقم نے عالی اور شفق کے کچن میں جانے کے تھوڑی دیر بعد پوچھا
رکو بیٹا اگر میں پانی منگوا دیتی ہوں ۔۔۔۔
سحر بیگم نے کہا۔۔۔۔
ارے نہیں آنٹی کوئی بات نہیں آپ بتا دیں میں چلا جاتا ہوں۔۔۔۔
سحر بیگم نے اسے کچن کا راستہ بتایا جو وہ پہلے ہی کھاتے ہوئے دیکھ چکا تھا۔۔۔۔ وہ آرام سے ہاشم کو دانت دکھاتا اٹھا اور اندر چلا گیا۔۔۔۔۔
اہم اہم۔۔۔۔
ارقم نے کچن میں آکر ہلکا سا کھانسا تو عالی اور شفق دونوں اس کی جانب متوجہ ہوئیں ۔۔۔۔
علیشبہ ارقم کا اشارہ دیکھتے ہی کچن سے چلی گئی ۔۔۔۔
نکاح مبارک ہو شفی ۔۔۔۔۔
وہ اس کے سامنے کھڑے ہو کر بولا۔۔۔۔
جانتا ہوں تھوڑا لیٹ بولا ہے مگر میں تمھیں خود مل کر کہنا چاہتا تھا۔۔۔۔
اس کے بولنے پر شفق کے چہرہ پر حسین مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔۔۔۔
ارقم حدید بخت آپ کو بھی نکاح کی بہت مبارک ہو۔۔۔۔
وہ نظریں جھکا کر بولی۔۔۔۔تو ارقم نے مسکراتے ہوئے جھک کر اس کا گال چوما جو سرخ ہوچکا تھا۔۔۔۔
شفق نے اپنی گال پر رکھتے ہوئے آنکھیں جھپک جھپک کر اسے دیکھا تو ارقم نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھر کر اس کے دوسرے گال پر بھی مسکراتے ہوئے لب رکھے۔۔۔۔
تم اس وقت اتنی پیاری لگ رہی ہو کہ دل کر رہا ہے کہ ابھی اپنے ساتھ لے جاؤں ۔۔۔۔۔
وہ اس کے کان کے قریب جھک کر بولا اور اس کی کان کی لو پر اپنے لب رکھے ۔۔۔۔
ارقم جائیں کوئی اندر آجائے گا۔۔۔۔
شفق اس کا لمس محسوس کر کے ساری کی ساری سرخ ہوچکی تھی
جا رہا ہوں مسز ارقم حدید بخت ۔۔۔۔
وہ اس کے سر کو چوم کر بولا اور ایک نظر اس کے سرخ چہرے پر ڈالتے ہوئے سیٹی بجاتے ہوئے باہر چلا گیا۔۔۔۔۔
**************
ایک مہینے بعد :
وہ دولہن بنی سجی سنوری اس وقت ہاشم کے کمرے میں بیٹھی تھی آخر وہ وقت آ ہی گیا جس کا اس نے سالوں انتظار کیا تھا ۔۔۔۔۔
آج وہ اپنی محبت پاچکی تھی اس کا ستمحر محبوب آج اس کا محرم بن چکا تھا اسے تو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ اس کی محبت کو منزل مل گئی ہے کیونکہ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ لوگوں کو اپنی محبت مل جائے ۔۔۔۔۔
ہاشم کمرے میں داخل ہوا تو علیشبہ نظریں جھکائے بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے مضبوط قدم اٹھتا عالی کے پاس آیا جو اس کی موجودگی محسوس کر کے گھبراہٹ سے اپنے لب کاٹ رہی تھی۔۔۔۔
وہ عالی کے قریب بیٹھتا ہوا اپنی جیب سے ڈبی نکال کر جس میں انگوٹھی موجود تھی اسے باہر نکالا اور اپنا ہاتھ عالی کے سامنے بڑھایا جس نے بنا جھجھک کے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیا تھا۔۔۔۔
ہاشم نے انگوٹھی اس کی انگلی میں پہنائی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر عقیدت سے اسے چوما۔۔۔۔۔
ہاشم کا لمس محسوس کر کے اس نے ہاشم کی طرف دیکھا جو مسکراتے ہوئے اسے ہی دیکھ رہا تھا
وہ دونوں ہی خاموش تھے ان کے پاس کچھ کہنے کو تھا ہی نہیں۔۔۔۔ کمرے کی خاموشی میں بس دونوں کی دھڑکنیں رقص کر رہی تھیں۔۔۔۔
ہاشم نے آگے بڑھ کر اس کا ماتھا چوما اور گھمبیر لہجے میں بولا۔۔۔۔
تم میری پہلے نہیں مگر آخری محبت ضرور بنو گی اور یاد رکھنا محبت سے کئی زیادہ میں تمھارا احترام کرتا ہوں۔۔۔۔
ہاشم نے اس کا دوپٹہ پنوں سے آزاد کروا کر اس کی گردن پر اپنے دہکتے لب رکھے تو وہ کانپ کر رہی گئی۔۔۔۔
ہ۔۔۔۔ہاش
ابھی وہ ہاشم کو پکارتی کہ ہاشم نے اس کے باقی لفظ اس کے گداز ہونٹوں کو اپنی گرفت میں لے کر روک دیے ۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ اس سے دور ہوا اور اس کے چہرے پر جابجا اپنا لمس چھوڑنے لگا۔۔۔۔۔
عالی نے سکون سے اپنی آنکھیں بند کر کے ہاشم کا لمس محسوس کر کے خود کو اس کے حوالے کر دیا۔۔۔۔
****************
ارقم بمشکل اپنے دوستوں سے جان چھڑوا کر کمرے میں داخل ہوا جہاں شفق اس کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔
کمرے میں موجود بھینی بھینی گلابوں کے پھولوں کی خوشبو ماحول کو خوابناک بنا رہی تھی۔۔۔۔
وہ مضبوط قدم اٹھاتا شفق کے پاس گیا جو نظریں جھکائے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔
اس نے مسکراتے ہوئے پہلے جھک کر شفق کا سر چوما۔۔۔۔۔
یار یہ کہیں میں دوسرے کمرے میں تو نہیں آگیا یہ میری بیوی اتنی خوبصورت کب سے ہوگئی۔۔۔۔
ارقم نے شفق کے پاس لیٹنے کے انداز میں بیٹھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
شفق نے اسے خشمگی نظروں سے دیکھا تو ارقم نے ہنستے ہوئے اس کا دوپٹہ پکڑ کر اسے آہستہ آہستہ کھیچتے ہوئےکہا۔۔۔۔
یار ایسی نظروں سے نہ دیکھو نکاح والے دن تم نے دیکھا تھا تو پھر تم سے ملاقات بھی نہیں ہو پائی تھی۔۔۔۔
وہ مسکین صورت بنا کر اسے مزید تنگ کرتے بولا۔۔۔۔
ارقم اگر آپ نے مجھے تنگ ہی کرنا ہے تو بتا دیں میں کپڑے بدل کر سوجاؤ۔۔۔۔
وہ اس سے دور ہونے کی کوشش کرتی بیڈ سے اترنے کی ناکام سی کوشش کرنے لگی
نہ میری جان مجھ پر ایسا ظلم مت کرنا ابھی تو میں نے تمھیں سہی سے دیکھا بھی نہیں ہے۔۔۔۔
وہ جلدی سے اس کا دوپٹہ چھوڑ کر اسے اپنی طرف کھینچتا ہوا بولا جو سیدھا اس کے اوپر آکر گرگئی تھی۔۔۔۔
ارقم نے جلدی سے شفق کی کمر کے گرد بازو ڈال کر اس کی دور ہونے کی کوشش ناکام بنا دی۔۔۔۔
ا۔ ۔ارقم چھوڑیں۔۔۔آپ بس یہاں ۔۔۔۔۔
ارقم نے جھک کر اس کے ہونٹوں کو ہلکا سا چھوا تو شفق کی زبان کو بریک لگی۔۔۔۔۔
ارقم نے مسکراتے ہوئے اس کا چہرہ دیکھ کر جھک کر شدت سے اس کے دونوں گال چومے۔۔۔۔
اور اپنا ایک ہاتھ اہنی جیب سے نکال کر اس میں سے سونے کی چین نکالی اور شفق کی گردن میں چین ڈال کر اس کی گردن کو چوما۔۔۔۔۔
شفق نے شرماتے ہوئے اپنا چہرہ اس کے سینے میں چھپالیا جبکہ ارقم اب آہستہ آہستہ اس پر اپنا حصار تنگ کرتا جارہا تھا۔۔۔۔۔۔
****************
عینی اس وقت چھت پر جارہی تھی کیونکہ شاہزین نے اسے چھت پر بلایا تھا۔۔۔۔۔
وہ اپنی ساڑھی سنبھالتی آہستہ آہستہ سڑھیاں چڑھ کر اوپر آئی اور ٹیرس کا دروازہ کھول کر اوپر آئی تو ٹھنڈی ہوا اس کے جسم سے ٹکرائی جس سے وہ ہلکا سا کپکپا گئی تھی۔۔۔۔
وہ ٹیرس پر آگے بڑھی جہاں اندھیرا تھا وہ تھوڑا آگے بڑھی کہ اچانک چھوٹی چھوٹی لائٹوں سے راستہ بنا ہوا تھا وہ مسکراتے ہوئے انہیں دیکھ کر آگے بڑھ رہی تھی کہ آگے جاکر اسے شاہزین پھول پکڑے کھڑا ملا۔۔۔۔۔
شاہزین نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھاما اور اسے ٹیبل کے پاس لایا جو پھولوں کی پتیوں سے سجایا ہوا تھا اس کے اوپر ایک کیک پڑا ہوا تھا جس پر ہیپی برتھ ڈے حورالعین لکھا ہوا تھا۔۔۔۔
عینی نے خوشی سے کیک کو دیکھا اور اپنے پنجوں کے بل اٹھتے ہوئے شاہزین کی گال پر لب رکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔
مجھے تو بھول ہی گیا تھا کہ آج میری سالگرہ ہے آپ کا بہت شکریہ میری زندگی میں آنے کے لیے اور اسے اتنا حسین بنانے کے لیے۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولتی کیک کی طرف مڑی اور شاہزین کا ہاتھ پکڑ کر کیک کاٹا۔۔۔۔
ہیپی برتھ ڈے سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔
شاہزین نے اس کے منہ میں کیک ڈال کر اس کے گال پر لب رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
عینی نے مسکراتے ہوئے کیک اس کے منہ میں ڈالا اور تھوڑا سا کیک اس کی ناک پڑ لگا کر ہنس پڑی۔۔۔۔
ایسے اچھے لگ رہے ہیں آپ۔۔۔۔
شاہزین نے اپنی ناک اس کی گال پر پھیر کر کیک صاف کیا تو عینی نے اس کی حرکت پر منہ بسورا لیکن شاہزین کو مسکراتے دیکھ خود بھی مسکرا پڑی
شاہزین نے عینی کو کمر سے تھام کر اپنے ساتھ لگایا اور اپنے قریب پڑے ریموٹ سے ہلکا ہلکامیوزک چلایا اور عینی کے بازوں اپنی گردن میں ڈال کر ڈانس کرنے لگا۔۔۔۔
شاہزین نے جھک کر اس کی خوبصورت معصومیت سے بھری آنکھوں کو اپنے لبوں سے چھوا۔۔۔۔
تمھارے ساتھ میں زندگی گزار نہیں جی رہا ہو جب سے تم میری زندگی میں آئی ہو میری زندگی کا ایک نیا مقصد مجھے مل گیا ہے ۔۔۔۔ میں تم سے بے حد اور بے انتہا محبت کرتا ہوا۔۔۔۔۔
وہ جھک کر ہلکے سے اس کے لبوں کو چھو کر بولا اور جھک کر اس کی گردن پر بوسہ لے کر اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے ہلکا ڈانس کرنے لگا۔۔۔۔
****************
آٹھ سال بعد :
زیان فورا ادھر آؤ تم نے بیا ( علیشبہ اور ہاشم کی بیٹی ) کو کیوں مارا ہے۔۔۔۔
شفق نے چیخ کر اپنے بیٹے کو بلاتے ہوئے پوچھا
مما اس نے مجھے دھکا دیا تھا میں نے بھی اسے دھکا دے دیا۔۔۔۔۔
زیان نے آرام سے شفق کو بتایا۔۔۔۔
یار شفی جانے دو بچہ ہے اور بیا کو تم معصوم مت سمجھو ضرور اس نے ہی پہلے کچھ کہا ہوگا۔۔۔۔۔
علیشبہ نے شفق سے کہا۔۔۔۔
عالی تم نہیں جانتی یہ دن با دن بتمیز ہوتا جارہا ہے۔۔۔۔
شفق نے تپ کر اپنے بیٹے کو دیکھ کر کہا جو بیا کو منہ چڑھا رہا تھا۔۔۔۔
پھوپھو میرے دوست کو مت ڈانٹیں ایسی شرارتیں تو سب کرتے ہیں۔۔۔۔
عاشر ( شاہزین اور عینی کا بیٹا ) نے شفق سے کہا۔۔۔
عاشر تم تو چپ ہی رہو پتا نہیں کیوں ہر وقت سب کے ابا بنے پھرتے ہوئے۔۔۔۔۔
عینی نے اپنے بیٹے کو ڈانٹتے ہوئے کہا
موم میں ایک عقلمند بچہ ہوں اسی وجہ سے سہی کا ساتھ دیتا ہوں۔۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا بولا۔۔۔۔
افف بس کرو اور جاکر اپنی ایمان کو دیکھو کہاں ہے ؟؟
عینی نے کہا تو وہ ہنستے ہوئے بولا
موم آپ جانتی ہے وہ زیادہ تر نعمان ( علیشبہ اور ہاشم کا بڑا بیٹا ) کے پاس ہی پائی جاتی ہے۔۔۔
پھوپھو ایمان کو بھوک لگی ہے کچھ کھانے کو دے دیں۔۔۔۔
ابھی عینی اسے کہتی کہ کمرے سے نعمان کی آواز اسے سنائی دی۔۔۔۔
نعمان جب بھی ایمان سے ملتا تھا تو اسے اپنے ساتھ ساتھ ہی رکھتا تھا
عاشر جا کر دیکھو ہادی کو کچھ چاہیے تو نہیں ابھی بچارا تھکا ہوا یونیورسٹی سے آیا۔۔۔
عینی نے کچن میں جاتے ہوئے عاشر سے کہا تو وہ ہادی کے پاس چلا گیا جبکہ شفق اور عالی اپنے اپنے بچوں کو سنبھالنے لگی تھیں جو اب تقریبا ایک دوسرے کے منہ نوچنے تک آگئے تھے۔۔۔۔۔
وہ لوگ اس وقت حویلی موجود تھے تبھی سب بچے ایک دوسرے کے ساتھ کھیل اور لڑ رہے تھے۔۔۔۔
*******************
چار سال پہلے ہی حمنا کی شادی ڈاکٹر حمزہ سے ہوگئی تھی وہ اپنی زندگی میں بے حد خوش اور مطمئن تھی۔۔۔۔۔
مما مما۔۔۔۔ دیکھیں بابا نے میرے سارے بال خراب کر دیے ہیں۔۔۔۔۔
عنایہ اپنے بال حمنا کو دیکھاتے ہوئے بولی جو ابھی واشروم سے باہر آئی تھی۔۔۔۔۔
حمنا نے اس کے بالوں کو دیکھ کر اپنی مسکراہٹ چھپائی اور حمزہ کو مصنوعی گھورا۔۔۔۔
کوئی بات نہیں تم ادھر آؤ میں جلدی سے بال بنا دیتی ہوں اور تم نے ناشتہ کرلیا ہے۔۔۔۔
حمنا نے جلدی سے ڈریسنگ ٹیبل سے برش اٹھا کر اس کے بالوں میں پھرتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
جی مما بابا نے ناشتہ کروا دیا ہے۔۔۔۔
حمنا نے جلدی سے عنایہ کے بال بنائے تو وہ اپنا بیگ لیتی باہر چلی گئی جہاں ڈرائیور اسے سکول لیجانے کے لیے کھڑا تھا۔۔۔۔
جان دن بہ دن حسین ہوتے جارہی ہو۔۔۔۔
حمزہ حمنا کے قریب آکر اس کا بھرا بھرا وجود اپنی باہوں میں بھر کر اس کے گال پر لب رکھتا بولا۔۔۔۔
وہ سات مہینے کی پریگننٹ تھی چار سال بعد آخر اللہ نے اسے اولاد سے نواز ہی دیا تھا وہ شکر کرتے نہیں تھکتی تھی کہ اس کی زندگی میں حمزہ جیسا ہمسفر آیا جس نے اسے قبول کر کے اس کی زندگی کو سنوار دیا تھا۔۔۔۔۔
حمزہ مجھے نہ بہت بھوک لگی ہے پلیز کیا ہم ناشتہ کرنے چلیں۔۔۔۔
وہ حمزہ کی طرف مڑتی مسکرا کر بولی جس نے اب اس کے دوسرے گال پر لب رکھے تھے۔۔۔۔
اچھا تو میرے بےبی کی اماں اور بےبی کو بھوک لگ گئی ہے ۔۔۔۔چلو پھر جلدی سے ناشتہ کریں پھر تمھیں ڈاکٹر کے پاس بھی لے کر جانا ہے۔۔۔۔۔
وہ اس کے پیٹ پر ہاتھ رکھے مسکرا کر بولا اور اسے اپنے ساتھ باہر لے کر چلاگیا۔۔۔۔۔
**************
وہ سب لوگ اس وقت ایک ساتھ بیٹھے چائے پی رہے تھے جبکہ بچے کھیل رہے تھے۔۔۔۔
شاہزین میں بہت خوش ہوں کہ میں نے آپ کی بات مان کر سب کو معاف کر دیا ۔۔۔۔
عینی سب کو ہنستے مسکراتے ہوئے دیکھ کر دھیمی آواز میں اپنے ساتھ بیٹھے شاہزین سے بولی جو محبت سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ سب اپنی اپنی زندگیوں میں خوش تھے غلطیاں سب سے ہوتی ہیں جو انسان وقت پر اپنی غلطیاں سدھار لے اس کی زندگی آسان ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔
ختم شد
0 Comments