Us Ne Chaha Tha Chand by Hurain Fatima Complete Urdu Novel 2023 Online Free Read



اس_نے_چاہا_تھا_چاند🌙

#حورین_فاطمہ

قسط نمبر:01

ماما میں نے دوبارہ آپ کے اس لچے لفنگے بھانجے کے ساتھ شاپنگ تو کیا کہیں اور بھی نہیں جانا ۔۔۔۔۔۔حد ہے جہاں جاتا ہے لڑائی جھگڑا شروع کر دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔شاپنگ کا سینس بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔اوپر سے ہے بھی شرابی ۔۔۔۔ساتھ میں اپنے گھٹیا دوستوں کو بھی جہاں جاتا ہے بلا لیتا ہے ۔۔۔۔۔وہ سب غلیظ نظروں سے دیکھنا شروع کر دیتے ہیں اگر ایسا ہی رہا تو کسی دن میں نے سب کے سامنے ہی اس کی چھترول کر دینی ہے پھر نہ کہیے گا کہ کنزش تم نے تو ہماری ناک ہی کٹوا دی ۔۔۔۔۔یہ کر دیا وہ کر دیا ۔۔۔۔۔۔

باہر سے آتے ہی اس نے شاپنگ کے بیگز صوفے پر پھینکے اور سبزیاں کاٹتی صوفیہ بیگم پر چڑھ دوڑی ۔۔۔۔۔۔

کنزش تمھیں بات کرنے کی تمیز کب آئے گی ،وہ اسے گھورتے ہوئے بولیں ۔۔۔۔

مجھے تمیز آئے نہ آئے اگر اگلی دفعہ آپ نے اپنے اس لچے ،لفنگے ،شرابی بھانجے کو میرے ساتھ شاپنگ پر بھیجا تو میری لاش ضرور اس گھر میں واپس آئے گی وہ غصے سے پیر پٹختی اپنے کمرے میں چلی گئی ۔۔۔۔۔

اللّٰہ نہ کرے ایسا ہو ،،کنزش کبھی تو کچھ سوچ سمجھ کر بول لیا کرو ۔۔۔۔اس کی بات سن کر صوفیہ بیگم کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی ۔۔۔۔۔

ڈرتی ہوں موت سے مگر مرنا ضرور ہے

لرزتی ہوں کفن سے مگر پہننا ضرور ہے 

 غمگین ہو جاتی ہوں جنازے کو دیکھ کر

مگر میرا جنازہ بھی اٹھنا ضروری ہے

ہوتی ہے بڑی کپکپی قبروں کو دیکھ کر

مدتوں اندھیری قبر میں رہنا ضرور ہے

دنیا تو میرے دل کو لبھاتی ہے صبح شام

سچ تو یہ ہے اسے چھوڑ کر جانا ضرور ہے

افراسیاب صاحب اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھے ۔۔۔۔ان کے بابا تو ان کے بچپن میں ہی گزر گئے تھے ۔۔۔۔ان کی ماں بھی افراسیاب صاحب کی شادی کے کچھ سال بعد ہی اپنے خالق حقیقی سے جا ملی تھیں ۔۔۔۔اس لیے وہ اپنی بیگم اور دو بچوں کے ساتھ اکیلے ہی اس گھر میں رہتے تھے ۔۔۔۔۔


اللّٰہ نے افراسیاب اور صوفیہ بیگم کو سب سے پہلے بیٹے جیسی نعمت سے نوازا تھا جن کا نام انہوں نے  شائزم رکھا تھا اس کے بعد اللہ نے انہیں بیٹی جیسی رحمت سے نوازا تھا جس کا نام انہوں نے کنزش رکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔

کنزش میں اس کے تمام گھر والوں کی جان بستی تھی اس لیے وہ تھوڑی بگڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔اسے اپنے آپ کے علاوہ کوئی دوسرا نظر ہی نہیں آتا تھا اسے لگتا تھا کہ دنیا کی ساری خوبصورتی اسی پر آکر ختم ہوگئی ہے ایک دنیا میں وہی ہے جو سب سے زیادہ حسین ہے ۔۔۔۔۔۔لیکن دل کی وہ بہت اچھی تھی ۔۔۔۔اس کی ایک ہی دوست تھی معائشہ جس پر وہ اپنی جان دیتی تھی ۔۔۔۔۔

  عفنان بیٹا کہاں ہو تم ،تمھارے ڈیڈ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے پلیز جلدی سے گھر آجاؤ ،تبسم بیگم نے اپنے  بیٹے عفنان کو کال کر کے جلدی سے گھر آنے کا کہا جو باہر اپنے دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے کے لیے گیا ہوا تھا۔۔۔۔۔


ماما آپ ٹینشن نہ لیں ان کا خیال رکھیں میں راستے میں ہی ہوں ابھی تھوڑی دیر میں پہنچ جاؤں گا اس نے تبسم بیگم کو ضامیر صاحب کا خیال رکھنے کا کہا اور خود کال کٹ کر کے گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی ۔۔۔۔۔۔

کچھ ہی دیر میں وہ گھر کے باہر موجود تھا ۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ گھر کے اندر اپنے قدم بڑھاتا اس کی نظر اپنے ہاتھ پر لگی گھڑی کی طرف گئی اور اس نے اپنے قدم وہیں روک دیے ۔۔۔۔۔


تبسم بیگم جو کب سے لاؤنج میں کھڑی اس کا انتظار کر رہی تھی اس کی گاڑی کا ہارن سن چکی تھیں لیکن جب کافی ٹائم گزر گیا اور وہ اندر نہ آیا تو خود باہر چلی آئیں ۔۔۔۔۔۔


بیٹا تم یہاں کھڑے کیا کر رہے ہو جلدی سے چلو اندر تمھارے ڈیڈ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے انہوں نے اسے بازو سے پکڑ کر اندر آنے کا کہا لیکن اس نے ان کے ہاتھ سے اپنے بازو چھڑوا لیے اور گھڑی ان کے سامنے کی جس پر بارہ بجنے والے تھے ۔۔۔۔۔اسے دیکھ کر وہ افسوس سے سر جھٹک کر رہ گئیں ۔۔۔۔۔


عفنان تم ایسے کیوں ہو ؟؟؟

تم وہم کو اپنے دماغ سے ہٹا کیوں نہیں دیتے۔۔۔۔۔۔بیٹا صیح غلط انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔سب کچھ اللّٰہ نے پہلے سے ہی طے کیا ہوا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔


نہیں موم جو ٹائم صیح نہیں ہے تو بس صیح نہیں ہے ۔۔۔۔میں نہیں چاہتا میری وجہ سے ڈیڈ کو کوئی نقصان ہو۔۔۔۔۔یا ہمارے گھر پر کوئی عذاب آئے اور آپ کم از کم ڈاکٹر کو تو کال کر دیتیں وہ آکر ڈیڈ کا چیک اپ کر لیتے ۔۔۔۔۔۔۔


اپنے بیٹے کی بات سن کر بس وہ افسوس ہی کر سکیں پتا نہیں اس کا یہ وہم کب اس کی جان چھوڑنے والا تھا یا کبھی اس کی جان چھوڑنے والا ہی نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔


کر دی تھی میں نے ڈاکٹر کو کال وہ چیک اپ کر گئے ہیں ان کا۔۔۔۔۔۔لیکن وہ میڈیسن نہیں لے رہے کہہ رہے تھے تم آؤ گے تو تمھارے ہاتھوں سے لیں گے اور انہیں تم سے کوئی ضروری بات بھی کرنی ہے ۔۔۔۔۔۔


چلیں موم چلتے ہیں ڈیڈ کے پاس وہ گھڑی پر ٹائم دیکھتے ہوئے بولا اور دونوں اندر ضامیر صاحب کے کمرے میں چل دیے ۔۔۔۔۔۔۔



ضامیر صاحب اور تبسم بیگم کی بہت بڑی خواہش تھی کہ اللّٰہ انہیں بیٹی جیسی خوبصورت رحمت سے نوازیں لیکن ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی انہیں اللہ نے بیٹے جیسی سے نوازا تھا جس کا نام انہوں نے عفنان رکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔عفنان کو شروع سے ہی وہم کرنے کی عادت تھی اس کی اس عادت کی وجہ سے ضامیر صاحب اور تبسم بیگم بہت پریشان تھے ۔۔۔۔۔۔


ہائے ،مائی سویٹ ماما جی کیسی ہیں آپ وہ اپنی ماں کے گلے لگتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔

آج تجھے اپنی ماں کی یاد کیسے آگئی وہ تھوڑی ناراضگی سے بولیں ۔۔۔۔۔آپ تو ماما ہر وقت یہاں میرے دل میں رہتی ہیں وہ اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔۔


آج کچھ زیادہ ہی مکھن لگا رہے ہو ضرور کچھ کام ہوگا مجھ سے وہ بھی اس کی ماں تھی اس کی باتوں سے فوراً سے سمجھ گئیں تھیں کہ اسے ضرور کوئی کام ہے ۔۔۔۔۔


وہ ان کے پاس آتا بھی تب ہی تھا جب اسے ان سے کوئی مطلب ہوتا تھا ورنہ تو سارا دن باہر دوستوں کے ساتھ آوارہ گردی کرتا ،،،،اپنے باپ کے پیسے اراتا ،شراب پیتا۔۔۔۔۔۔۔


آپ اور آپ کا وہ دودھ سے دھلا شوہر کبھی بھی اپنے بیٹے کو نہ سمجھنا ۔۔۔۔۔سلوک تو میرے ساتھ ایسا کرتے ہیں جیسے میں آپ لوگوں کی سوتیلی اولاد ہوں ۔۔۔۔۔


نہ میرا بچہ ایسا تھنک نہیں کرتے وہ اس کے ماتھا کا بوسہ لیتے ہوئے بولیں ۔۔۔۔۔۔


پھر آپ کب جا رہی ہیں اپنی بہن کے گھر میرے رشتے کی بات کرنے ۔۔۔۔۔


اتنا فاسٹنیس ہونے کی بھی کیا جلدی ہے تجھے ۔۔۔۔سلولی سلولی ہی ایسے وراک ہوتے ہیں وہ اپنی بالوں کی لٹ کو انگلی میں گھماتے ہوئے بولیں ۔۔۔۔۔۔


ماما جب آپ کو انگلش نہیں آتی تو بولتی ہی کیوں ہیں سب کے سامنے شرمندہ کروا دیتی ہیں ۔۔۔۔

اور ہاں آپ کے پاس کل تک کا ٹائم ہے جا کر کر لیں اپنی بہن سے بات نہیں تو میں خود کر لوں گا اپنی بات کہہ کر تبریز رکا نہیں تھا اٹھ کر کمرے میں چلا گیا تھا۔۔۔۔۔۔


لو کر لو ٹالک ۔۔۔۔یہ لڑکا تو ہر وقت ہورس  پر سوار رہتا ہے ۔۔۔۔


اجائے شام کو اس کا باپ تو کرتی ہوں ان سے ٹالک وہ خود بھی اٹھ کر کیچن سمیٹنے چلی گئیں ۔۔۔۔۔۔


حسنان اور نگین بیگم کا بھی ایک ہی بیٹا تھا تبریز ۔۔۔۔نگین بیگم صوفیہ بیگم کی بڑی بہن تھیں جس کا روب وہ ان پر جھاڑتی رہتی تھی ان کی یہی بات کنزش کو بہت بری لگتی تھی ۔۔۔۔۔۔

نگین بیگم زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھیں لیکن انہوں نے کبھی ایسا شو ہونے بھی نہیں دیا تھا کہ وہ زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہیں اس لیے جس کسی سے بھی ملتیں انگلش میں بات کرتیں اور جو ایک دفعہ ان سے مل لیتا ان کی انگلش سن کر دوبارہ ان سے نہ ملنے کی دعا کرتا۔۔۔۔۔۔


اپنے شوہر کے آتے ہی انہوں نے کنزش اور تبریز کے رشتے کی بات کر لی ہے ۔۔۔۔حسنان صاحب ایک بہت اچھے انسان تھے ۔۔۔۔انہیں کنزش اپنے بیٹے کے لائق نہیں لگتی تھی ان کا ماننا تھا کہ وہ ایک اچھا لڑکا ڈیزرو کرتی ہے لیکن اپنی بیوی اور بیٹے کی ضد کے آگے انہیں ہار ماننی ہی پڑی اس لیے آج وہ لوگ افراسیاب اور صوفیہ بیگم کے گھر پر موجود تھے ۔۔۔۔۔


کنزش کو تو جب سے پتا چلا تھا کہ اس کی خالہ اور اس کا لفنگا بیٹا آیا ہوا ہے وہ تو سر درد کا بہانہ کر کے سر پر کپڑا باندھ کر بیڈ پر لیٹی ہائے ہائے کر رہی تھی تاکہ اسے ان سے نہ ملنا پڑے ۔۔۔۔۔۔


صوفیہ بیگم اسے پچھلے آدھے گھنٹے سے منا رہی تھیں کہ وہ تھوڑی دیر ہی ان کے پاس آکر بیٹھ جائے لیکن وہ ماننے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔۔۔۔۔


کنزش بیٹا گھر پر مہمان آئے ہوئے ہیں اور تم ایسے کمرے میں بند پڑی ہو اچھا نہیں لگتا بیٹا ۔۔۔۔۔ وہ تمھاری خالہ ہیں مل لو آکر ایک دفع ان سے بعد میں پھر سے اپنے کمرے میں آجانا۔۔۔۔


ایسے انہیں لگے گا کہ تمہیں ان کا ہمارے گھر پر آنا اچھا نہیں لگا ۔۔۔۔۔۔


ہاں تو ٹھیک ہی لگے گا انہیں مجھے سچ میں ان کا اپنے گھر میں آنا اچھا نہیں لگا ۔۔۔۔۔اوپر سے آپ کی بہن کی زبان مجھ سے بھی تیز چلتی ہے ۔۔۔۔جب تک ان کے پاس بیٹھے رہو تنز ہی کرتی رہتی ہیں اور ان کی انگلش ۔۔۔۔۔توبہ۔۔۔۔۔ان کی انگلش سن کر تو مجھے بیچارے انگریزوں کی انگریزی پر افسوس ہونے لگتا ہے ۔۔۔۔۔انگلش کی ماں بہن ایک کر کے رکھ دیتی ہیں مجھے نہیں ملنا ان سے ۔۔۔۔۔

آپ جاؤ باہر اور ان کی مہمان نوازی کرو وہ صوفیہ بیگم کو اپنی بات کہہ کر آنکھیں بند کر کے سر تک کمفرٹر تان کر لیٹ گئی ۔۔۔


اب تو صوفیہ بیگم کا دل کر رہا تھا وہ جوتا ہی اتار لیں لیکن وہ ایسا بھی نہیں کر سکتی تھیں باہر اس کے سب سے بڑے حمایتی اس کے ڈیڈ اور بھائی بیٹھے ہوئے تھے اگر وہ ایسا کرتی تو معاملہ اور زیادہ بگڑ جانا تھا۔۔۔۔۔۔


یہ ایسے تو نہیں مانے گی افراسیاب کو ہی بھیجتی ہوں وہی اسے منا سکتے ہیں صوفیہ بیگم بھی سوچتی کمرے سے باہر نکل گئیں ۔۔۔۔۔۔


جب کافی دیر کمرے میں خاموشی چھائی رہی تو کنزش نے تھوڑا سا سر نکال کر باہر کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔۔واؤ آئیڈیا کام آگیا موم چلی گئی ہیں اس نے اٹھ کر بیڈ پر ہی اچھلنا سٹارٹ کر دیا ۔۔۔۔۔۔صوفیہ بیگم جو کہ باہر جا کر اپنے شوہر کو اسے باہر بلانے کا کہہ چکی تھی اب جب وہ اندر آئے تو اپنی بیٹی کو اچھلتا دیکھ کر سر جھٹک کر رہ گئے ۔۔۔۔۔۔


آہممممم ،افراسیاب صاحب کے گلہ کھنکارنے پر اس نے سائیڈ پر دیکھا تو اس کے ڈیڈ کھڑے ہوئے تھے انہیں دیکھ کر وہ جلدی سے بیڈ پر بیٹھ گئی اور سر ہاتھوں میں گرا کر پھر سے کراہنا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔


میرا ڈرامے باز بچہ ،افراسیاب صاحب اس کے پاس جا کر اسے سینے سے لگاتے ہوئے بولے ۔۔۔۔


سچی میں درد ہے وہ بچوں جیسا منہ بنا کر بولی ۔۔۔۔

اچھا جی ،، ان کے پوچھنے پر اس نے زور زور سے ہاں میں سر ہلایا افراسیاب صاحب مسکرا دیے ۔۔۔۔۔۔

موم کی بات کیوں نہیں مانی وہ اس کے ماتھے کا بوسہ لیتے ہوئے بولے ۔۔۔۔۔


مجھے نہیں ملنا موم کی اس بہن اور اس کے لفنگے دوست سے ۔۔۔۔مجھے وہ لوگ ذرا بھی اچھے نہیں لگتے ۔۔۔۔۔


ایسے نہیں کہتے بیٹا ۔۔۔۔بڑے ہیں وہ لوگ آپ سے اور میں نے ہمیشہ آپ کو بڑوں کی عزت کرنا سکھائی ہے تو کیا آپ اپنے ڈیڈ کو سب کے سامنے شرمندہ کریں گی ۔۔۔۔۔۔


نو ڈیڈ ،،،، تو پھر جلدی سے اٹھو اور باہر چلو ۔۔۔۔۔۔


ڈیڈ پلیز ،،، وہ منت بھرے لہجے میں بولی ۔۔۔۔


کنزش پلیز وہ بھی اسی کے انداز میں بولے تو دونوں باپ بیٹی مسکرا دیے ۔۔۔۔۔


ٹھیک ہے ڈیڈ آپ چلیں میں تھوڑی دیر میں ریڈی ہو کر آتی ہوں افراسیاب صاحب اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر باہر چل دیے اور وہ بھی فریش ہونے واشروم میں چل دی ۔۔۔۔۔۔۔


ڈیڈ آپ نے میڈیسن کیوں نہیں لی چلیں جلدی سے میڈیسن لیں وہ ان کے آگے میڈیسن کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔

تمھیں کونسا اپنے بوڑھے ماں باپ کی کوئی فکر ہے ۔۔۔۔۔۔

ایسی کوئی بات نہیں ہے ڈیڈ پلیز آپ یہ میڈیسن کھا لیں ۔۔۔۔۔


پہلے مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔۔ڈیڈ میں یہیں ہوں آپ میڈیسن تو کھائیں کرتے ہیں پھر بات وہ ان کا منہ کھول کر انہیں میڈیسن کھلاتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔

لو کھا لی اب کر سکتا ہوں بات وہ دونوں ماں بیٹے کو گھورتے ہوئے بولے تو تینوں مسکرا دیے ۔۔۔۔۔۔

عفنان بیٹا میری اور تمھاری ماں کی خواہش تھی کہ ہماری بھی کوئی بیٹی ہو لیکن افسوس ایسا ہو نہ سکا ۔۔۔۔۔


اس لیے ہم دونوں چاہتے ہیں کہ اب تم شادی کر لو اور اس گھر میں ایک ہماری بہو جیسی بیٹی لے آؤ جو ہمارے گھر کو خوشیوں سے بھر دے ۔۔۔۔انہوں نے امید بھری نظروں سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا تو عفنان کو ان کی یہ امید توڑنا اچھا تو نہیں لگا لیکن ابھی وہ شادی بھی نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔

ڈیڈ ابھی تو میں سٹڈی کر رہا ہوں میری سٹڈیز بھی کمپلیٹ نہیں ہوئی تو میں کیسے شادی کر لوں ۔۔۔


ختم نہیں ہوئی تو ہوجائے گی ویسے بھی تمھارا آخری سمیسٹر ہی چل رہا ہے ۔۔۔۔

نہیں ڈیڈ جب تک میری سٹڈی مکمل نہیں ہوجاتی میں شادی نہیں کروں گا۔۔۔۔اپنی بات کہہ کر وہ اٹھ کر چلا گیا جبکہ ضامیر صاحب اور تبسم بیگم افسردہ سا منہ لے کر بیٹھ گئے ۔۔۔۔


کچھ نہیں ہوتا کر لے گا شادی ابھی کونسا اس کی عمر گزر گئی ہے وہ اپنے شوہر کو حوصلہ دیتی بولیں اور خود ان کے پاس بیٹھ گئیں ۔۔۔۔۔۔


سو گائیز کیسی لگی آپ لوگوں کو پہلی قسط اچھے اچھے اور لمبے کمنٹس دیجیے گا اور ہاں نیکسٹ ایپیسوڈ دو سو لائیکس پر پوسٹ ہوگی ۔۔۔۔ایپیسوڈ پر لائیکس کریں کمنٹس کریں اور اپنے فرینڈز میں شیئر کریں ۔۔۔۔۔

میں پھر سے کہہ رہی ہوں ایپیسوڈ دو سو لائیکس پر ہی پوسٹ ہوگی ۔۔۔۔۔۔

رسپانس کے حساب سے قسط لانگ ہوتی جائے گی ،،ظالمو دل نہ توڑنا اچھے اچھے لانگ کمنٹس دینا ۔۔۔۔


Post a Comment

0 Comments