#Most_Romantic
#Forced_Marriage
#Rude_hero
#innocent_heroin
ستمگر_محبوب_میرا
زنور_رائیٹس
قسط_نمبر_1
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
وہ لڑکھڑاتا ہوا رات کے دو بجے گھر میں داخل ہوا تو سامنے ہی اس کا باپ بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا وہ اپنے باپ کو دیکھ کر آہستہ آہستہ اپنے قدم جما کر چلنے لگا تاکہ انھیں پتا نہ چل سکے کہ اس نے شراب پی ہے اور اپنی آنکھیں کھولی رکھنے کی کوشش کرنے لگا جو نیند کی کمی کی وجہ سے سرخ انگارا ہوئی پڑی تھیں
اس کا باپ جو ٹی وی پر میچ دیکھ کر اس کا انتظار کر رہا تھا اسے آتا دیکھ کر میچ کی آواز ہلکی کی اور اس کی جانب دیکھا جو اپنے قدم زمین پر جمانے کی بھرپور کوشش کر رہا تھا مگر ہلکا ہلکا لڑکھڑا رہا تھا
آئیے شاہزین صاحب زرا اپنے باپ کے آگے حاضری تو لگوائیں ورنہ تو تمہیں گھر والوں سے ملنے کی اب فرصت ہی نہیں ملتی صبح کو تم سوئے ہوتے ہو اور رات کو شراب پی کر سڑکوں کی خاک چھان کر آجاتے ہو
گھر کی خاموش فضا میں تیمور صاحب کی آواز گونجی
ڈیڈ صبح بات کریں گے میں اب تھک گیا ہوں سونا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
شاہزین نے اپنے باپ کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا
کل صبح آٹھ بجے تم مجھے سٹڈی روم میں ملو گے اگر تم نہ آئے تو یاد رکھنا تمہارا بینک اکاونٹ دس بجے تمھیں بند ملے گا
تیمور صاحب اپنی کرخت آواز میں بولے
ٹھیک ہے ڈیڈ پھر صبح کو ملتے ہیں ابھی مجھے بہت نیند آرہی ہے
شاہزین اپنے کمرے کی طرف جاتا ہوا بولا اور اپنے کمرے میں جا کر بیڈ پر ڈھیر ہو گیا جبکہ اس کے اس طرح جانے پر تیمور صاحب بھی غصے سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلے گئے
یہ ایک چھوٹی سی گلی کا منظر تھا ہر طرف پانی اور کچرا جگہ جگہ اکٹھا تھا اسی گلی کے ایک چھوٹے مکان میں ایک لڑکی اپنے بھائی کو اپنی آغوش میں لیے اپنی ناختم ہونے والی سوچوں میں گم تھی رات کے تیسرے پہر بھی نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی اس معصوم نے تو خود ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تھا جب اسے اس کے چھوٹے بھائی کے ساتھ گھر سے نکال دیا گیا
وہ محلوں میں رہنے والی لڑکی بنا کسی قصور کے اس چھوٹے سے مکان میں رہنے پر مجبور تھی ابھی تو اس نے خواب دیکھنا شروع کیے تھے وہ اپنی سوچوں میں ہی گم تھی کہ کب اس پر نیند مہربان ہوئی اسے پتا ہی نہ چلا اور وہ خوابوں کی دنیا میں سیر کرنے چلی گئ
صبح اس کی آنکھ کسی کے بلانے پر کھلی اس نے اپنی آنکھیں کھول کر دیکھا تو اس کا بھائی اسے بولا رہا تھا
کیا ہوا ہادی کیوں بلا رہے ہو تھوڑی دیر اور سونے دو مجھے رات کو لیٹ سوئی تھی میں۔۔۔۔۔
اس نے کروٹ بدلتے ہوئے کہا
عینی اپی اٹھو مجھے بھوک لگ رہی ہے کچھ بنا کر دو پھر سوجانا اور آپنے آج میرا ایڈمیشن بھی کروانا تھا اور نوکری کے کیے بھی جانا تھا
ہادی کی معصوم آواز اس کے کانوں میں گونجی تو اس کی بات سن کر اس کی نیند بھک سے اڑ گئی وہ تو بھول ہی گئی تھی کہ آج اسے ہادی کا ایڈمیشن کسی سرکاری سکول میں کروانا ہے مگر سرکاری سکول کا سوچ کر ہی اس کا دل ٹوٹ سا گیا وہ تو پہلے شہر کے مشہور اور مہنگے ترین سکول میں پڑھتا تھا مگر اپنوں کی ستم ظریفی کے وہ آج ایسے حالات میں تھے
اچھا ہادی میں اٹھ گئ ہوں منہ ہاتھ دھو کر تمھارے لیے کچھ بناتی ہو تب تک تم کونے والی دکان سے دودھ لے آؤ میرے سر میں درد ہے میں چائے پی لوں گی اور تمھیں چائے کے ساتھ پراٹھا بنا دوں گی اور پیسے میرے پرس سے لے لو۔۔۔۔
عینی نے اپنے بالوں کو جوڑے کی شکل دیتے ہوئے ہادی سے کہا اور منہ ہاتھ دوھنے چلے گئ
وہ جب فریش ہو کر آئی تب تک ہادی دودھ لے کر آچکا تھا اس نے جلدی سے چائے بنائی اور آٹا گوندھ کر اپنے اور ہادی کے لیے پراٹھے بنانے لگی دو ہوتے پہلے کی بات ہے کہ اسے آٹا گوندھنا بھی صحیح سے نہیں آتا تھا اور روٹیاں بھی عجیب شکل کی بناتی تھی مگر اب روٹیاں گزارے لائق بنا لیتی تھی
ناشتہ کرنے کے بعد وہ ہادی کو لے کر اس کا ایڈمیشن گھر سے دور ایک سرکاری سکول میں کروانے چلے گئ
وہ دروازے پہ ہونے والی مسلسل دستک سے اٹھا اور خونخوار نظروں سے دروازے کو گھورا جیسے دروازے کے پار شخص کو اپنی نظروں سے سالم نگلنے کا ارادہ ہو
وہ اپنے دکھتے سر سے اٹھا اور دروازہ کھولا جہاں ان کے گھر کا ملازم کھڑا تھا ملازم نے اسے دروازہ کھولتے دیکھ جلدی سے کہا
وہ سر تیمور نے کہا تھا کہ آپ کو یاد دلا دوں کہ آٹھ بجے آپ سٹڈی روم میں موجود ہوں ۔۔۔۔۔
یاد ہے مجھے اور آئندہ کے بعد ایسے دروازہ بجایا تو تمھارا ہاتھ توڑ دوں گا اور میرے لیے فورا سے لیموں پانی لے کر آؤ اور دروازہ بجانے کی بجائے ٹیبل پر گلاس رکھ جانا ۔۔۔۔۔
شاہزین نے غصے سے اسے کہا اور اپنے درد سے پھٹتے سر کے ساتھ شاور لینے چلا گیا جب وہ شاور لے کر آگیا تو میز پر موجود لیموں پانی کا گلاس اٹھا کر ایک ہی سانس میں ختم کر گیا
اس نے اپنے بال سکھائے اور اپنے باپ سے ملنے سٹڈی روم میں چلا گیا اس نے دروازہ ناک کیا اور اجازت ملتے ہی اندر داخل ہوگیا
تیمور صاحب کرسی پر بیٹھے اپنے سامنے موجود میز پر رکھی کسی فائل کا مطالعہ کر رہے تھے شاہزین کو آتا دیکھ کر انھوں نے اپنی فائل بند کی اور میز کے دوسری طرف موجود کرسی پر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا
میں سیدھی بات کروں گا شاہزین مجھے تمھارا یہ نیا لائف سٹائل بلکل بھی پسند نہیں پہلے تم صرف رات دیر تک باہر رہتے تھے مگر اب تو حد ہی ہوگئ تم شراب بھی پینے لگے مجھے لگا تھا کہ تم چاہے جو مرضی کرو گے مگر شراب جیسی گھٹیا چیز کو ہاتھ بھی نہیں لگاؤ گے۔۔۔۔
مجھے دیکھ لو کتنے عرصے سے بزنس مین ہوں کبھی جو کسی پارٹی میں تم نے مجھے شراب پیتے تو کیا ہاتھ لگاتے بھی دیکھا ہے مجھے تو تمہیں بیٹا کہتے ہوئے بھی شرم آرہی ہے ایک شرابی کیسے میرا بیٹا ہوسکتا ہے ؟ ہاں بولو اب مجھے تمھارا جواب چاہیے ابھی۔۔۔۔
شاہزین کے بیٹھتے ہی تیمور صاحب اس پر برس پڑے وہ چاہے جتنے بھی موڈرن ہوں مگر انہیں شراب سے سخت نفرت تھی
ڈیڈ ایم ریئلی سوری پتا نہیں کیوں دوستوں کی باتوں میں آکر پی گیا۔۔۔۔۔ اب میں بلکل بھی نہیں پیوں گا ڈیڈ آپ پلیز مجھ سے ناراض مت ہوں
اس نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے شرمندگی سے کہا وہ پہلے تو شراب نہیں پیتا تھا مگر کچھ دنوں سے اس کے دوست کسی نہ کسی بہانے سے اسے پینے پر مجبور کر دیتے تھے مگر وہ جانتا تھا کہ اس کا اپنا بھی قصور ہے وہ کیوں ان کی باتوں میں آجاتا ہے
ہاں تم تو بچے ہو ابھی تمھیں کچھ بھی نہیں پتا میں یہ تمھیں پہلی اور آخری وارننگ دے رہا ہوں شاہزین اس کے بعد جو کروں گا وہ تمہیں بلکل پسند نہیں آئے گا اور تمھیں ہوش بھی ہے تمھاری جان سے پیاری بہن کی ٹانگ دو دن پہلے ٹوٹ چکی ہے
تیمور صاحب غصے سے اسے بولے
کیا شفق کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور مجھے کسی نے بتانا بھی گوارا نہیں کیا کیسی ہے اب ؟ وہ اور کہاں ہے وہ؟ اور اس کی ٹانگ ٹوٹی کیسے ؟
اپنی جان سی پیاری بہن کے بارے میں سن کر وہ بھی غصے سے بولا
سڑھیوں سے اپنی دائیں ٹانگ کے بل گری ہے وہی ٹانگ ٹوٹی ہے کل شام کو ہی ہوسپٹل سے واپس آئی ہے اپنے کمرے میں موجود ہے ابھی صرف ایک نظر اسے دیکھ لو سو رہی ہو گی وہ اپنی یونیورسٹی سے واپس آکر اسے مل لینا۔۔۔
تیمور صاحب اپنی فائل کو دوبارہ کھولتے ہوئے بولے
اچھا ٹھیک ہے میں اسے ایک نظر دیکھ لوں پھر واپس آکر اس سے بات کروں گا
شاہزین اٹھتے ہوئے گویا ہوا اور شفق کو دیکھنے اس کے کمرے کی جانب چلا گیا وہ اس کے کمرے کا دروازہ آہستہ سے کھول کر داخل ہوا
شفق کا کمرہ پرپل اور سفید رنگ کا امتزاج تھا کیونکہ اسے یہ دونوں رنگ بہت پسند تھے کمرے کے درمیان میں کوئین سائز بیڈ اور اس کے دائیں طرف کھڑکی موجود تھی جبکہ کھڑکی کے قریب ایک سٹڈی ٹیبل موجود تھا بیڈ کے سامنے دو چھوٹے صوفے اور ان کے سامنے شیشے کا میز جبکہ اس سے تھوڑے فاصلے پر ایک بڑی سی الماری کمرے میں بنی ہوئی تھی کمرے کے بائیں طرف واشروم کا دروازہ تھا مکمل طور یہ کمرا بہت خوبصورت لگتا تھا
شاہزین شفق کے قریب گیا اور اس کا چہرہ دیکھا جو نائٹ بلب کی ہلکی روشنی میں زرد لگ رہا تھا جبکہ ٹانگ اس کی کمفرٹر میں چھپی ہوئی تھی جس کی وجہ سے وہ اس کی ٹانگ نہ دیکھ سکا اس نے اپنی معصوم گڑیا کے ماتھے پر ہلکا سا بوسہ دیا اور اس پر کمفرٹر صحیح کر کے کمرے سے باہر چلا گیا
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں ....
A66e a66e reviews dai apni tarah...😜😜
Reviews a66e mile tho 9:00 pm p next aa jayegi...
Nhiii tho pher kal....
0 Comments