#Most_Romantic
#Forced_Marriage
#Rude_Hero
#innocent_Heroine
ستمگر_محبوب_میرا
زنور_رائیٹس
قسط_نمبر_12
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
💖شاہزین اور حورالعین (عینی) نکاح سپیشل💖
حمنا ہاشم کی پابندی سے تنگ آگئی تھی وہ گھومنے پھرنے کی عادی تھی گھر میں تو اس کا رہنے کو دل ہی نہیں کرتا تھا اس نے اپنی دوستوں کو نہ ملنے کا یہ بہانہ بنایا تھا کہ اس کی طبیعت نہیں ٹھیک تھی
آج تیسرے دن مسلسل گھر رہنے کے بعد آخر وہ ہاشم کی غیر موجودگی میں اپنی ایک دوست سے ملنے چلے گئی
ہاشم جو اپنے آفس میں بیٹھا کوئی فائل دیکھ رہا تھا کہ اسے گھر کے نمبر سے کال آئی اس نے کال اٹھائی تو دوسری جانب سے ملازمہ نے اسے حمنا کہ گھر سے نکلنے کی خبر دی جسے سن کر اس نے غصے سے اپنے لب بھینچے اور اس کی بات سن کر کال بند کر دی ۔۔۔۔۔
اس نے خود پر قابو پاتے ہوئے حمنا کو کال کی تو اس نے پہلے کال اٹھائی نہیں اور دوسری بار تو اس نے کال کاٹ کر فون ہی بند کر دیا تھا
ہاشم نے غصے سے پیپر ویٹ اٹھا کر پھینکا اور ابھی وہ اپنا غصہ کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا جب اس کی سیکرٹری نے آکر اسے پندرہ منٹ بعد شروع ہونے والی میٹنگ کے بارے میں بتایا تو وہ غصہ کنٹرول کرتا فائل اٹھا کر میٹنگ روم کی جانب چل دیا
مگر دل ہی دل میں ہاشم حمنا کو سزا دینے کا پختہ ارادہ کر چکا تھا۔۔۔۔۔
ہادی کی چونکہ طبیعت اب ٹھیک ہو چکی تھی تو عینی اسے دوبارہ ہاسٹل چھوڑ آئی تھی پہلے تو ہادی نہ جانے کی ضد کر رہا تھا مگر عینی اسے سمجھا کر چھوڑ ہی آئی
وہ ہادی کو چھوڑ کر آکر پر سکون سی اپنے کاموں میں مصروف ہو گئی تھی وہ کچن میں سبزی بنارہی تھی جب اسے سحر بیگم نے اپنے کمرے میں بلایا۔۔۔۔۔
وہ جلدی سے ان کے کمرے میں ناک کر کے داخل ہوئی اور سحر بیگم سے پوچھا
ج۔۔۔جی میم آپ نے بلایا۔۔
ہاں میں نے بلایا ہے یہ میرا سوٹ لو اور اسے اچھے سے استری کرکے لاؤ اور دھیان سے کرنا شام میں ایک پارٹی میں جانا ہے میں نے اگر کچھ بھی ڈریس کو ہوا تو تمھارا منہ توڑ دوں گی ۔۔۔۔
سحر بیگم اسے ایک سوٹ نکال کر پکڑاتی ہوئیں کرخت آواز میں بولیں۔۔۔۔
میم آپ فکر مت کریں میں احتیاط سے استری کر دوں گی۔۔۔۔
عینی نے سوٹ پکڑ کر کہا تو سحر بیگم نے ہنکار بھرا۔۔۔۔
عینی سوٹ پکڑ کر استری کرنے چلی گئی اور احتیاط سے استری کر کے واپس سحر بیگم کے کمرے میں رکھ آئی۔۔۔۔
شام کو شفق سحر بیگم اور تیمور صاحب ایک پارٹی میں چلے گئے وہ تیمور صاحب کے دوست کے بیٹے کی کامیابی میں دی گئی پارٹی تھی جس کی وجہ سے شاہزین ان کے ساتھ نہ گیا تھا کیونکہ وہ وہاں جاکر سب کی باتیں نہیں سننا نہیں چاہتا تھا
چونکہ شام کو کوئی کام نہ تھا تو عینی اپنے جو تھوڑے بہت کام تھے اسے کر کے اپنے کمرے میں آگئی جبکہ آج رزیہ بھی اپنے گاؤں گئی ہوئی تھی اور اس نے صبح واپس آنا تھا اس لیے وہ رزیہ کے کام کر کے بھی اب صرف آرام کرنے والی تھی۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے کو لاک لگا کر شاور لینے گئی جب وہ شاور لے کر واپس کمرے میں آئی اور اپنے بالوں کو تولیے سے خشک کر رہی تھی تب اچانک سے دروازے پر دستک ہوئی تو وہ ڈر گئی لیکن اصل خوف تو اسے تب محسوس ہوا جب باہر سے شاہزین کی آواز سنائی دی۔۔۔۔
حور دروازہ کھولو۔۔۔۔۔۔
عینی نے جلدی سے خود پر دوپٹہ اوڑھا اور جلدی سے واشروم کے اندر جا کر دروازہ بند کر کے اس سے ٹیک لگا کر نیچے بیٹھ گئی جبکہ اپنی عزت و ناموس کو خطرہ میں پا کر وہ ڈر سے کانپ رہی تھی اسے مسلسل باہر سے شاہزین کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔۔۔
حور اگر تم باہر نہ آئی تو یاد رکھنا وہ تمھارا بھائی کیا نام ہے اس کا ہاں ۔۔۔۔ہادی وہ کس ہوسٹل میں ہے اور اب کیا کر رہا ہے مجھے سب پتا ہےاگر تم نہیں چاہتی کہ اسے کوئی نقصان پہنچے تو میرے دس گننے سے پہلے باہر آجاؤ۔۔۔
دس۔۔۔۔
نو۔۔۔۔
شاہزین سے ہادی کا ذکر سن کر وہ تڑپ کر اٹھتی اپنے آنسوؤں کو صاف کر کے کانپتے ہوئے باہر نکلی لیکن کمرے کا دروازہ ابھی بھی اس نے نہ کھولا تھا
پانچ ۔۔۔۔۔
چار ۔۔۔۔۔
یاد رکھنا اگر تم باہر نہ آئی تو اپنے بھائی کو کبھی دیکھ نہیں سکو گی۔۔۔۔۔
وہ ہادی کا ذکر سن کر کانپتی ٹانگوں سے دروازے کی جانب بڑھی جبکہ اس کی آنکھوں سے روانی سے آنسو بہہ رہے تھے
دو۔۔۔۔
عینی نے آہستہ سے دروازے کا لاک کھولا تو سامنے ہی شاہزین اپنی جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا۔۔۔۔
تمھیں خدا کا واسطہ ہے پلیز میرا پیچھا چھوڑ دو میں نے کیا بگاڑا ہے تمھارا جو تم مجھے یوں پر یشان کر دہے ہو۔۔۔
وہ روتے ہوئے شاہزین سے بولی تو شاہزین اس کی بات کو نظر انداز کر کے بولا۔۔۔۔
جاؤ جا کر ایک چادر سے خود کو ڈھک کر آؤ اور چادر سے اپنا منہ بھی چھپا کر آؤ۔۔۔۔
عینی نے اس کی بات سن کر نا سمجھی سے اسے دیکھا تو شاہزین مزید بولا۔۔۔۔
ہمارا نکاح ہے ابھی مولوی صاحب اور میرے کچھ دوست اندر موجو ہیں اور مجھے امید ہے تم انکار کرنے کی کوشش بھی نہیں کرو گی ورنہ۔۔۔۔
شاہزین کی بات سن کر وہ جو منع کرنے والی تھی آخر پر شاہزین کی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے خاموشی سے اپنے آنسو صاف کر کے کمرے میں اپنے سامان سے چادر نکال کر اسے اچھی طرح اوڑھ کر اپنا منہ چھپا کر باہر نکلی جبکہ اس سب میں وہ یہ تو بھول ہی گئی تھی کہ وہ اپنے اصل رنگ و روپ میں اس کے سامنے موجود ہے۔۔۔
شاہزین عینی کو لے کر گھر کے اندر داخل ہوا جہاں اس کے کچھ دوست اور مولوی موجود تھا عینی کو اپنے ساتھ والے صوفے پر بیٹھا کر اس نے مولوی سے نکاح پڑھانے کا کہا تو عینی بے آواز رونے لگی کتنے ارمان تھے اس کے جو اس ستمگر نے نوچ ڈالے تھے۔۔۔۔۔۔
جب عینی سے نکاح پوچھا گیا تو اپنی بےبسی پر اس نے ماتم کناں ہوتے ہوئے کانپتی آواز میں " قبول ہے " کہا
نکاح کے ہوتے ہی شاہزین اپنے دوستوں سےگلے ملا اور انھیں چھوڑنے گیٹ تک گیا تو عینی جو کب سے خود پر قابو کرتے ہوئے بے آواز رو رہی تھی ہچکیوں سے رو پڑی۔۔۔
شاہزین واپس آیا تو اسے صوفے ہر بیٹھے روتے دیکھ کر وہ سگریٹ سلگا کر بولا۔۔۔۔۔۔
کوئی مرا نہیں جو تم یوں رو رہی ہو ۔۔۔۔ اور رونا بند کرو مجھے الجھن ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔ ویسے ایک بات بتاؤ کیسا لگ رہا ہے میری بیگم بن کر حورر۔۔۔۔۔
عینی اس کی بات سن خاموشی سے اپنے کام یعنی رونے میں مصروف رہی تو اس پر اپنی بات کا اثر ہوتے نہ دیکھ وہ اس کے قریب گیا اور چادر میں سے ہی اس کے بالوں کو پکڑ کر اس کا منہ اونچا کیا جس سے چادر اس کے منہ سے کھسک کر پیچھے ہوگئی تو اس کےچہرے کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے بولا۔۔۔۔۔
میں نے ابھی شاید تم سے کچھ کہا تھا وہ سمجھ نہیں آیا تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔
شاہزین کی گرفت میں اپنے بالوں کو پاکر اور اس کی سنجیدہ آواز سن کر اس نے اپنی بھیگی آنکھوں سے شاہزین کو دیکھا اور اپنے آنسو روکے
شاہزین نے اپنی سگریٹ زمین پر گرا کر اسے بجھاتے ہوئے اپنے ہاتھ کے انگوٹھے سے اس کی گال پر موجود آنسو کو صاف کیا تو اس کی حرکت پر عینی اس کی گرفت میں کسمسا کر رہ گئی۔۔۔۔۔۔ اور اٹکتے ہوئے اس سے بولی
پ۔۔۔پلیز م۔۔۔مجھے اب جانے د۔۔۔دو
اب تم کبھی بھی مجھ سے دور نہیں جاسکتی سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس کے چہرے پر جھک کر اس کے گال کو ہلکا سا اپنے لبوں سے چھو کر بولا تو اس کا لمس محسوس کر کے عینی کی دوبارہ آنکھیں بھیگنے لگیں۔۔۔۔۔
تمھیں یاد ہے نہ تم نے کچھ مہینے پہلے مجھے تھپڑ مارا تھا ۔۔۔۔۔
وہ اس کے بالوں پر اپنی پکڑ مضبوط کرتا ہوا سرد آواز میں بولا تو عینی کو یاد آیا کہ وہ تو اپنے اصل حولیے میں موجود ہے مگر اس کی بات نے اس کو یہ بتا دیا کہ وہ کب سے اسے پہچان چکا تھا۔۔۔۔
س۔۔۔سوری م۔۔۔میں نے غلطی سے تھپڑ مار دیا تھا م۔۔۔میرا پ۔۔پہلے کبھی کسی لڑکے نے ہ۔۔۔ہاتھ نہیں پکڑا ت۔۔تھا ت۔۔۔تو جب تم نے پکڑا تو م۔۔۔میں ڈر گئی تھی پ۔۔۔پلیز مجھے معاف کر دو اور مجھے چھوڑ دو میں ہم۔۔۔ہمیشہ ک۔۔کے لیے یہاں سے چلی جاؤں گ۔۔۔گی۔۔۔۔
اس کو پہلے کسی لڑکے نے نہ چھوا تھا یہ سن کر شاہزین کو عجیب سی خوشی محسوس ہوئی لیکن آخری بات سن کر وہ غصے سے اس کے کان کے قریب جھک کر غرایا
یہ تمھاری سب سے بڑی غلط فہمی ہے کہ کبھی تم مجھ سے دور بھی جاسکو گی تم ہمیشہ میری قید میں رہو گی اور یاد رکھنا اگر تم نے مجھ سے دور جانے کی کوشش بھی کی تو تم دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود ہوئی تو تمھیں ڈھونڈ نکالوں گا
اپنی بات مکمل کر کے اس نے اس کے کان کی لو کو اپنے دانتوں سے زور سے کاٹا
آہ۔۔۔۔
وہ اپنے کان کی لو پر درد محسوس کر کے کراہ اٹھی اسے یقین ہو گیا تھا کہ اب وہ ستمگر اس کا جینا اجیرن کر دے گا۔۔۔۔۔۔
شاہزین اسے چھوڑ کر پیچھے ہٹا اور ٹائم دیکھتے ہوئے اسے جانے کا کہا کیونکہ کہ جلد ہی تیمور صاحب واپس آنے والے تھے
عینی اس کی اجازت ملتے ہی تیزی سے انیکسی کی طرف گئی اور دروازہ بند کرکے اس سے ٹیک لگا کر نیچے بیٹھتے ہوئے رونے لگی۔۔۔۔۔
اسے نہیں معلوم وہ کتنی دیر روتی رہی مگر روتے ہوئے ہی وہ سو گئی تھی
ہاشم جب کام سے واپس گھر آیا تب تک حمنا بھی گھوم پھر کر واپس آچکی تھی
ہاشم اپنی ٹائی ڈھیلی کرتے ہوئے حمنا کے قریب گیا جو صوفے پر بیٹھی موبائل چلا رہی تھی
میں نے تمہیں کال کی تھی حمنا تم نے اٹھائی نہیں۔۔۔۔
وہ دراصل ہاشم آج میں خود میڈ کے ساتھ مل کر تمھارے لیے کھانا بنا رہی تھی اس وجہ سے فون اٹھا نہ سکی اور تمھاری کال اس وجہ سے کاٹی تھی کہ میں چاہتی کہ پورے دھیان سے اور پیار سے تمھارے لیے کھانا بناؤ۔۔۔۔
ہاشم کی بات سن کر وہ اپنا موبائل سائیڈ پر رکھتی مکاری سے معصوم بنتے ہوئے بولی تو ہاشم جو اپنا غصہ ضبط کر رہا تھا اس کے صفائی سے جھوٹ بولنے پر اس کی طرف بڑھا
چٹاخ۔۔۔۔۔
ہاشم نے ایک زوردار تھپڑ حمنا کے جڑا اور اس کے منہ کو دبوچتے ہوئے اپنے سامنے کرتے ہوئے غصے سے دھاڑا
مکار عورت تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے جھوٹ بولنے کی ۔۔۔۔اور میری اجازت کے بغیر تم نے گھر سے باہر قدم کیسے رکھا۔۔۔۔۔۔بولو۔۔۔۔
حمنا جو تھپڑ کھا کر سن ہو گئی تھی ہاشم کے منہ دبوچنے اور غصے سے بولنے پر وہ خوف زدہ ہو گئی۔۔۔۔
مگر یہ سوچ کر کے ہاشم نے اسے تھپڑ مارا ہے خوف کی جگہ غصے نے لے لی اور وہ بھی غصے سے چیختے ہوئے بولی۔۔۔
تم جاہل انسان تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھت تھپڑ مارنے کی گاؤں کے جاہل گنوار کہیں کہ۔۔۔۔
چٹاخ۔۔۔۔
ابھی وہ مزید بولتی کے دوسرے پڑنے والے تھپڑ نے اس کا منہ بند کر وا دیا۔۔۔۔
ہاشم اسے غصے سے دوبارہ تھپڑ مارنے کے بعد اسے بازو سے پکڑ کر گھسیٹ کر ایک کمرے میں لایا اور اس میں دھکا دے کر غصے سے بولا
یہاں سڑتی رہو جب تک تمھارا دماغ ٹھکانے پر نہیں آجاتا اور میں جاہل گنوار نہیں بلکہ تم خود ایک پڑھی لکھی فحاشہ ہو پتا نہیں کیسے میں نے تم سے شادی کر لی تم میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی ہو۔۔۔۔ اب مڑو یہاں پر بھوکی پیاسی۔۔۔
وہ اپنی بات مکمل کر کے کمرے سے نکل گیا اور کمرے کو باہر سے لاک کر کے ملازمہ کو بلا کر سختی سے کہا کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی دروازہ نہیں کھولے گا
ہاشم کے جانے کے بعد وہ اس کی باتیں سن کر اور تھۂڑ کھا کر ابھی تک بے یقین تھی اس نے اس وجہ سے بھی ہاشم سے شادی کی تھی کہ وہ ساری عمر اس کے اشاروں پر چلے گا مگر وہ تو اسے ہی مارنے لگا تھا
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
شفق یونیورسٹی میں اپنی کلاس لے کر اپنے کلاس فیلو لڑکے اسامہ سے بات کر رہی تھی چونکہ عالی آج نہیں آئی تھی تو وہ اکیلی ہی تھی اسامہ اس سے کوئی نوٹس مانگ رہا تھا جب دور سے ارقم نے یہ منظر دیکھا جو اسے شدید ناگوار گزرا
وہ کافی دنوں سے نوٹ کر رہا تھا کہ شفق اسے اگنور کر رہی ہے مگر یہ سوچ کر کہ اسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا وہ بھی شفق کو اگنور کر دیتا مگر آج اسے کسی لڑکے سے بات کرتے دیکھ اس کو شدید غصہ آیا اور وہ لمبے لمبے ڈھگ بھرتا شفق کے قریب گیا
شفق مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔
شفق جو اسامہ کو نوٹس کل دینا کا بتا رہی تھی اپنے پیچھے اچانک ارقم کی آواز سن کر وہ ڈر گئی
اسامہ جس کی بات شفق سے ہوگئی تھی وہ جانے والا تھا کہ ارقم کو دیکھ کر اپنی جگہ پر جم گیا جبکہ ارقم مسلسل اسامہ کو گھور رہا تھا۔۔۔۔
ج۔۔۔جی کیا بات کرنی ہے آپ نے ۔۔۔۔۔۔
شفق نے ارقم سے پوچھا
یہاں نہیں پرسنل بات کرنی ہے اس وجہ سے اکیلے میں بات کرنی اگر تم فارغ ہوگئی ہو تو میرے ساتھ چلو۔۔۔۔
ارقم کی بات سن کر شفق نے ناسمجھی سے اسے دیکھا
آپ نے جو بات کرنی ہے یہاں ہی کر لیں ۔۔۔
شفق کی بات سن کر اسے شدید غصہ آیا مگر ضبط کر کے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ کھیچنے کے انداز میں لے جانے لگا شفق جو اس سب کے لیے تیار نہ تھی مجبوراً اس کے کھیچنے پر منہ بگاڑتے ہوئے ساتھ چلنے لگی۔۔۔۔۔
ارقم نے اسے تھوڑی دور ایک جگہ جہاں رش کم تھا لا کر اس کا ہاتھ چھوڑا تو شفق نے اس سے جھٹ پوچھا۔۔۔
کیا " پرسنل " بات آپ نے کرنی ہے ؟
وہ پرسنل پر خاصہ زور دیے بولی۔۔۔۔
علیشبہ نے کہا تھا کہ تم سے نوٹس لیتا آؤ آج کے کام کے۔۔۔۔
ارقم نے جواب دیا ۔۔۔
تو اس میں " پرسنل " بات کیا ہوئی آپ مجھ سے اسامہ کے سامنے بھی تو لے سکتے تھے یہاں ہیرو کی طرح میرا ہاتھ کھینچ کر لانے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔
ارقم نے اسے غصے سے گھورا تو اس کی گھوری کو نظر انداز کیے وہ ویسے ہی اس کے سامنے سراپاِ سوال بنی کھڑی رہی ۔۔۔۔۔
پرسنل بات یہ ہے کہ مجھے قطعاً پسند نہیں کہ میری بہن کی جس سے دوستی ہو وہ لڑکوں سے بات کرتی پھرے
اس کی بات سن کر شفق نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچی اور دھیمی آواز میں غرائی۔۔۔
اپنی حد میں رہیں اگر آپ سے تمیز سے بات کرتی ہوں تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ میرے کردار پر انگلی اٹھائیں مجھے قطعاً ان لڑکیوں کی طرح مت سمجھیں جو اپنے کر دار پر بات سن کر خاموش رہتی ہیں میں ہر اس شخص کا منہ توڑ دوں گی جو میرے بارے میں یہ الفاظ استعمال کرے گا اور یہ مت سوچیے گا کہ میں علیشبہ کی وجہ سے آپ کو کچھ نہیں کہوں گی مجھے اس وقت آپ سے شدید نفرت محسوس ہو رہی ہے اور آئندہ کے بعد مجھ سے بات کرنے کی کوشش بھی مت کیجیے گا ۔۔۔۔
وہ اپنی بات مکمل کر کے اس کا کوئی بھی جواب سنے بغیر وہ اس سے دور چلی گئی جبکہ ارقم اب بھی اپنی جگہ کھڑا اسے دور جاتا دیکھ رہا تھا اس کی بات کا یہ مطلب تو نہیں تھا اس نے بس جلدی جلدی میں جو سوچا وہی اسے بول دیا تھا مگر اب شفق کی بات سن کر اسے اپنی غلطی کا احساس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔
عینی کی صبح آنکھ کھولی تو خود کو زمین پر سویا پا کر وہ اٹھی رات کے مناظر کسی فلم کی طرح اس کے سامنے چل رہے تھے جبکہ زمین پر سونے کی وجہ سے اس کی کمر اکڑ گئی تھی اور رونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں بھی درد کر رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔
وہ فریش ہو کر اور اپنا حولیہ صحیح کر کے گھر کے اندر گئی چونکہ رزیہ ابھی نہیں آئی تھی تو اس نے ہی ناشتہ تیار کرنا تھا
اس نے سب کو سوائے شاہزین کے ناشتہ کروایا تو شفق یونیورسٹی چلی گئی اور تیمور صاحب آفس اور سحر بیگم اپنے کمرے میں چلی گئی تھیں مگر جاتے جاتے اسے سارے کام کرنے کا بول کر گئی تھی
وہ اب دوپہر کے لیے سبزی بنا رہی تھی جب کچن میں شاہزین داخل ہوا اس کے حولیے سے ایسے معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ ابھی نیند سے جاگا ہو۔۔۔۔۔
اس نے شاہزین کو کچن میں داخل ہوتے دیکھ کر اپنے سر پر دوپٹہ صحیح کیا شاہزین اس کے قریب آکر حکم دینے والے انداز میں بولا۔۔۔۔۔
میرے لیے ایک اچھی سی کافی بناؤ اور ساتھ کچھ بنا کر دو۔۔۔۔۔
عینی اس کی بات سن کر جلدی سے اس کے لیے کافی بنانے لگی جبکہ شاہزین اس کے قریب کاؤنٹر سے ٹیک لگائے کھڑا تھا عینی اس پر دھیان دیے بغیر اپنا کام کر رہی تھی۔۔۔۔۔
اس نے کافی بنا کر شاہزین کے قریب کاؤنٹر پر رکھی تو شاہزین نے کافی اٹھا کر اچانک سے اس کے بائیں ہاتھ کو پکڑ کر اس کی دو انگلیوں کو کافی میں ڈبویا تو عینی جو اس آفت کے لیے تیار نہ تھی اس نے اپنے دوسرے ہاتھ کو اپنی چیخ روکنے کے لیے منہ پر رکھا
شاہزین اس کی انگلیاں کافی سے نکال کر پانی کے نیچے کر کے اسے سرد لہجے میں بولا۔۔۔
پہلے بھی تمھیں کہا تھا کہ مجھے نظر انداز کرنے کی کوشش بھی مت کرنا لگتا ہے تم بھول گئی تھی مجھے امید ہے اس کے بعد بھولنے کی کوشش بھی نہیں کرو گی۔۔۔۔۔
اب مجھے اگنور کرنے کی کوشش کرو گی۔۔۔۔ جواب دو مجھے۔۔
عینی اس کی بات سن کر کانپتی آواز میں بولی ۔۔۔۔۔
ن۔۔۔نہیں۔۔۔۔
شاباش آئندہ کے بعد میری بات کو یا مجھے اگنور کیا تو ایسے ہی سزا دوں گا
وہ اس کا ہاتھ چھوڑتا اس کے کانپتے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے درندگی کا نشانہ بنا کر بولا ۔۔۔۔۔
میرے لیے دوبارہ کافی بناؤ اور میرے کمرے میں دے کر جاؤ وہ بھی پندرہ منٹ کے اندر اندر۔۔۔۔۔
عینی نے اس کی بات سن کر جلدی سے سر ہلایا اور اپنے آنسو روکنے کی کوشش کرنے لگی اسے آج اپنی زندگی سے بھی نفرت محسوس ہو رہی تھی وہ تو یہ سوچ رہی تھی کہ وہ زندہ ہی کیوں ہے ؟
شاہزین اسے چھوڑ کر واپس اپنے کمرے میں چلا گیا تو عینی اپنے آنسو صاف کرتی اس کے لیے دوبارہ کافی بنانے لگی جبکہ اسے اپنی انگلیوں پر جلن صاف محسوس ہو رہی تھی لیکن وہ تکلیف برداشت کرتی لب بھینچے اپنے کام میں مگن ہوگئ۔۔۔
حمنا کو ہاشم نے دو دن سے کمرے میں بند کیا ہوا تھا بس اسے ملازمہ کھانا دے کر چلی جاتی ۔۔۔۔۔۔
اس نے ہاشم سے معافی مانگنے کا سوچا اور ملازمہ سے کہا کہ ہاشم کو کہنا کہ مجھے اس سے ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔۔
ہاشم تک جب حمنا کا پیغام پہنچا تو وہ آفس سے واپس آیا تھا ملازمہ کی بات سن کر اس نے آرام سے ڈنر کیا اور ڈنر کے بعد کچھ سوچتے ہوئے حمنا کی بات سننے چل دیا۔۔۔۔
ہاشم کمرے میں داخل ہوا تو حمنا کو بیڈ پر لیٹا دیکھا ۔۔۔
حمنا نے دروازہ کھولنے کی آواز پر دروازے کی جانب دیکھا تو ہاشم کو دیکھ کر اٹھی
کیا بات کرنی ہے تم نے جو بھی بات ہے جلدی جلدی کرو۔۔۔۔۔۔ ویسے مجھے یقین ہے اب تک تمھارا دماغ ٹھکانے پر آگیا ہو گا
ہاشم کی بات سن کر وہ دھیمی آواز میں بولی ۔۔۔۔
ایم سوری میری غلطی تھی مجھے تمہیں برا بھلا نہیں کہنا چاہیے تھا اور نہ ہی جھوٹ بولنا چاہیے تھا پلیز اب مجھے یہاں سے باہر نکلنے دو اس کمرے میں رہ کر اب میرا دم گھٹنے لگا ہے۔۔۔۔
کیا گارنٹی ہے کہ تم اب مجھ سے جھوٹ نہیں بولو گی یا فضول بکواس نہیں کرو گی۔۔۔۔
ہاشم نے اس سے کرخت لہجے میں پوچھا۔۔۔۔
ہاشم پ۔۔۔پلیز مجھے ایک موقع دے دو میں تمھیں مایوس نہیں کرو گی پلیز۔۔۔۔۔
حمنا کی فریاد سن کر ہاشم کچھ سوچتے ہوئے بولا
میں تمھیں یہاں سے نکال دوں گا اور دوسرا موقع بھی دے دوں گا مگر یاد رکھنا مجھ سے گیم کھیلنے یا چالاکی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔
ہاشم کی بات سن کر اس نے اپنا سر ہاں میں ہلایا تو ہاشم حمنا کے لیے دروازہ کھلا چھوڑ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔
حمنا نے اس کمرے سے نکلنے کا سوچ کر پر سکون سانس لی اور جلدی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
0 Comments