#Most_Romantic
#Forced_Marriage
#Ride_Hero
#innocent_Heroin
ستمگر_محبوب_میرا
زنور_رائیٹس
قسط_نمبر_21 ( 2nd Last Episode)
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
حدید صاحب رمنا بیگم اور علیشبہ کے ساتھ اس وقت شفق کے گھر موجود تھے وہ اس وقت ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوئے تھے ان کے سامنے ہی سحر بیگم بیٹھی ہوئیں تھی اور ساتھ تیمور صاحب بیٹھے ہوئے تھے شاہزین اس وقت گھر نہیں تھے مگر تیمور صاحب نے اسے کال کر دی تھی جس وجہ سے اس نے بھی تھوڑی دیر میں آجانا تھا۔۔۔۔۔
آج ہم ایک اہم کام کی وجہ سے آپ سے ملنے آئے ہیں۔۔۔۔
رمنا بیگم نے سحر بیگم سے کہا تو وہ مسکراتی ہوئی ان کی جانب متوجہ ہوئیں
ہم اپنے بیٹے ارقم کے لیے آپ کی بیٹی شفق کا رشتہ لے کر آئے ہیں ہمیں امید ہے آپ ہمیں مایوس نہیں کریں گے۔۔۔۔
رمنا بیگم نے شائستہ لہجے میں بات مکمل کی۔۔۔۔۔۔
ہمیں تھوڑا وقت چاہیے سوچنے کے لیے پھر ہم آپ کو جواب دیں گے۔۔۔۔۔
سحر بیگم نے تیمور صاحب کو ایک نظر دیکھ کر رمنا بیگم سے کہا۔۔۔۔
جی جی آپ نے جتنا وقت لینا ہے لے لیں ۔۔۔۔۔۔ اور اگر آپ شفق کو ایک بار بلا دیں میں اسے ایک بار ملنا چاہتی ہوں
رمنا بیگم نے کہا ۔۔۔۔۔
بلکل ابھی میں بلاتی ہوں اسے۔۔۔۔۔
سحر بیگم اٹھتے ہوئے بولی اور باہر جاکر رزیہ سے شفق کو ڈرائنگ روم میں بھیجنے کا کہا۔۔۔۔
شفق جو بے چینی سے اپنے کمرے میں چکر لگا رہی تھی کہ رزیہ دروازہ ناک کر کے اندر داخل ہوئی تو اس نے لب کاٹتے ہوئے رزیہ کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔۔۔
میم نے آپ کو ڈرائنگ روم میں بلوایا ہے۔۔۔۔۔
رزیہ کی بات سن کر وہ سر ہلاتی ہوئی باہر نکلی اور روم کی طرف جانے لگی کہ راستے میں ہی اسے شاہزین مل گیا جو خود ڈرائنگ روم کی طرف جا رہا ہے۔۔۔۔۔
کون آیا ہوا ہے شفی ؟؟
شاہزین نے شفق کو تنگ کرنے کے لیے پوچھا تو وہ جواب دینے کی بجائے بس منہ بسور کر رہ گئی۔۔۔۔
ارے شفی تم نے جواب نہیں دیا ؟؟
اللہ بھائی جب ہم اندر داخل ہوں گے تو آپ کو پتا چل جائے گا۔۔۔۔۔
وہ جھنجھلا کر بولی کہ شاہزین کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔۔۔۔
وہ دونوں ڈرائنگ روم میں اکٹھے داخل ہوئے تو سب ان کی جانب متوجہ ہوگئے ۔۔۔۔۔
اسلام و علیکم !
شاہزین اور شفق نے یک زبان سلام کیا۔۔۔۔
یہ میرا بڑا بیٹا شاہزین ہے اور یہ میری بیٹی شفق ہے۔۔۔۔۔
سحر بیگم نے ان دونوں کا تعارف کروایا تو شاہزین حدید صاحب سے گلے مل کر ان کے ساتھ ہی بیٹھ گیا جبکہ شفق مسکراتی ہوئی رمنا بیگم اور علیشبہ سے ملنے لگی۔۔۔۔۔
ماشااللہ بہت پیاری لگ رہی ہو شفق۔۔۔۔۔
علیشبہ نے شفق سے کہا تو وہ صرف مسکرا ہی سکی۔۔۔۔
وہ ان کے ساتھ ہی بیٹھ گئی تھی تھوڑی دیر شفق اور باقی سب سے بات کر کے حدید صاحب رمنا بیگم اور علیشبہ واپس چلے گئے تھے۔۔۔۔۔۔
اب تیمور صاحب شاہزین اور سحر بیگم کے ساتھ ہال میں بیٹھے تھے جبکہ شفق اپنے کمرے میں جاچکی تھی۔۔۔۔۔
شاہزین میں چاہتا ہوں کہ تم ان کے بارے میں ساری معلومات نکالو ان کے بیٹے کے بارے میں بھی سب کچھ پتا کرواؤ اور اپنی ماں سے کہو کہ شفق سے ایک بار پوچھ لے اسے اس رشتے سے کوئی اعتراض تو نہیں پھر ہی ہم بات آگے بڑھائیں گے ویسے مجھے وہ لوگ کافی پسند آئے ہیں۔۔۔۔
تیمور صاحب پہلے شاہزین سے بولے اور پھر سحر بیگم کو بلانے کی بجائے شاہزین کو ہی سحر بیگم سے بولنے کا کہا وہ اب تک سحر بیگم سے سہی سے بات نہیں کر رہے تھے حالانکہ وہ ان سے دو تین بار معافی مانگ چکی تھیں۔۔۔۔۔
سحر بیگم نے برہمی سے تیمور صاحب کی طرف دیکھا جو ان کی طرف بلکل متوجہ نہیں تھے۔۔۔۔۔
ڈیڈ میں ان کے بارے میں آپ کو پتا کروا دوں گا آپ فکر مت کریں۔۔۔۔۔
شاہزین نے جواب دیا اور اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا فلحال وہ خود بھی سحر بیگم سے بات نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔
تیمور میں آپ سے کتنی بار معافی مانگ چکی ہوں اب آپ ناراضگی ختم کر دیں اور آپ کہ کہے کے مطابق میں نے شمائلا کو بھی رشتے کے لیے منع کردیا ہے۔۔۔۔۔۔
وہ منت بھرے انداز میں بولیں تو تیمور صاحب نے انہیں دیکھ کر ایک گہرا سانس خارج کیا اور پھر بولے۔۔۔۔۔
سحر بات معافی کی نہیں بات تمھیں اپنے کیے پر شرمندگی کی ہے تم نے جو کیا اس پر تم زرا سی بھی پشیماں نظر نہیں آرہی ہو ۔۔۔۔۔۔
تیمور میں واقع پچھتا رہی ہو آپ پلیز ایسا مت کہیں۔۔۔۔۔
سحر بیگم نے کہا تو تیمور صاحب ہنکار بھرتے ہوئے بولے۔۔۔۔
ٹھیک ہے مان لیا تو شرمندہ ہو اور پچھتا رہی ہو لیکن جب بھی حور اور ہادی ملیں گے تمھیں ان سے بھی معافی مانگنی ہو گی ۔۔۔۔۔
تیمور صاحب کی بات سن کر وہ کشمکش کا شکار ہوگئیں وہ تو ان سے مشکل سے معافی مانگ رہی تھی کجا کہ حور سے معافی مانگنا ۔۔۔۔ پھر اچانک سحر بیگم کہ ذہن میں خیال آیا کہ حور کونسا ابھی ملی ہے جب ملے گی تب وہ سوچیں گی اس بارے میں۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے تیمور آپ جیسا کہیں گے میں ویسا ہی کروں گی بس اب آپ ناراضگی ختم کریں۔۔۔۔
وہ تیمور صاحب سے بولیں تو تیمور صاحب نے مسکراتے ہوئے اپنا سر ہلایا۔۔۔۔
************************
شاہزین نے ان کے بارے میں سب کچھ پتا کروالیا تھا اور ایک بار وہ سحر بیگم اور تیمور صاحب کے ساتھ حویلی بھی ہو آئے تھے اور ارقم سے بھی مل آئے تھے انھیں یہ رشتہ پسند آیا تھا اور سب سے بڑی بات شفق اس کے لیے راضی تھی تو اس وجہ سے انھوں نے رشتے کے لیے ہامی بھر لی تھی۔۔۔۔
حدید صاحب نے انھیں بتایا تھا کہ وہ علیشبہ کا نکاح اگلے مہینے کر رہے ہیں اور اس سے اگلے دن وہ لوگ ارقم کا نکاح بھی کرنا چاہتے ہیں جس پر پہلے تو تیمور صاحب اتنی جلدی شادی کے لیے تیار نہیں تھے مگر صرف نکاح کا سوچ کر وہ بھی راضی ہو گئے تھے۔۔۔۔
ایک مہینہ کیسے گزرا پتا ہی نہیں چلا آج علیشبہ کا نکاح تھا اور اس وقت علیشبہ کو پالر والی لڑکی تیار کر رہی تھی۔۔۔۔۔
اس نے سفید شارٹ کرتی کے ساتھ سفید ہی شرارہ پہنا ہوا تھا اور ساتھ سرخ دوپٹہ تھا جو فلحال ابھی پالر والی اس کا میک اپ اور بال بنانے کے بعد سیٹ کر رہی تھی۔۔۔۔۔
ہلکے میک اپ کے ساتھ وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی اس نے خود ہی ڈارک میک اپ نہیں کروایا تھا کیونکہ اسے پسند نہیں تھا۔۔۔۔۔۔
علیشبہ کی بڑی خواہش تھی کہ شفق بھی آج کے دن اس کے ساتھ ہوتی مگر شفق کا چونکہ کل نکاح تھا اس وجہ سے وہ نہیں آئی تھی مگر اس کے گھر سے باقی سب لوگ آئے تھے۔۔۔۔
وہ مکمل تیار ہوچکی تھی جب رمنا بیگم کمرے میں داخل ہوئیں۔۔۔۔۔۔۔
ماشااللہ میری بیٹی کتنی خوبصورت لگ رہی ہے اللہ نظر بد سے بچائے۔۔۔۔۔
رمنا بیگم علیشبہ کو ساتھ لگاتی اس کا سر چوم کر بولیں تو علیشبہ نے مسکرا کر ان کی طرف دیکھا۔۔۔۔
رمنا بیگم نے اپنی بیٹی کے چہرے پر زندگی سے بڑپور مسکراہٹ دیکھ کر دل میں اللہ کا شکر ادا کیا جس نے اس کی بیٹی کی زندگی میں دوبارہ خوشیاں شامل کردیں تھیں۔۔۔۔۔
امی آپ بھی بہت خوبصورت لگ رہی ہیں۔۔۔۔
علیشبہ رمنا بیگم کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر بات بدلنے کے لیے بولی تو رمنا بیگم نے مسکرا کر اسے دیکھا۔۔۔۔۔
رمنا بیگم علیشبہ سے تھوڑی دیر بات کر کے دوبارہ باہر مہمانوں کے پاس چلی گئیں۔۔۔۔۔
ہاشم اس وقت حویلی باہر موجود لان میں بیٹھا تھا جہاں سارے انتظامات کیے گئے تھے اس کے ساتھ احمر بھی موجود تھا مگر پتا نہیں کیوں ہاشم کو بڑی گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔
یار تم اتنا گھبرا کیوں رہے ہو فکر مت کرو ارقم تمھارا کم از کم نکاح والے دن منہ نہیں توڑے گا۔۔۔۔۔
احمر نے ہاشم کو تسلی دی تو ہاشم اس کے الفاظ سن کر صرف اسے گھور ہی سکا۔۔۔۔۔
تجھ جیسا کمینہ دوست اللہ کسی کو نہ دے۔۔۔۔
ہاشم کے غصے بھری آواز سن کر اس نے اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے مزید کہا۔۔۔۔
لو بھئی بھلائی کا تو کوئی زمانہ ہی نہیں ہے ایک تو تم لڑکی کی طرح گھبرا رہے ہو میں نے تو تمھیں تسلی دی مگر نہیں تم تو مجھ پر ہی غصہ کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔
بکواس نہ کرو احمر میں نے تمھارے دانت توڑ دینے ہیں۔۔۔۔
اچھا اچھا اپنا منہ بند کر لے ارقم اس طرف ہی آرہا تھا۔۔۔۔۔
احمر ارقم کو اپنی طرف آتا دیکھ کر بولا تو ہاشم نے منہ بندھ کر کے اسے گھورا۔۔۔۔
احمر بھائی کیا آپ دومنٹ ہمیں اکیلا وقت دے سکتے ہیں مجھے ہاشم بھائی سے بات کرنی ہے۔۔۔۔۔
ہاں ہاں ضرور ۔۔۔۔
ارقم کی بات سن کر احمر فورا بولا اور ان سے تھوڑی دوع چلا گیا۔۔۔۔۔
ہاشم بھائی نکاح بس شروع ہونے والا ہے میں بس آپ کو یاد دلانے آیا تھا کہ اگر آپ نے عالی کے ساتھ کچھ بھی غلط کیا تو آپ جانتے ہیں نہ میں آپ کیا کروں گا۔۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے بول رہا تھا تاکہ ارد گرد موجود لوگوں کو لگے کہ وہ کوئی اچھی بات ہی کر رہا ہے۔۔۔۔۔
بلکل میرے ہونے والے سالے صاحب مجھے یاد ہے اور اب میرا بی پی لو کرنے کی بجائے جاکر نکاح شروع کروا دو اس کے بعد مجھے دھمکیاں دیتے رہنا۔۔۔۔۔
ہاشم بھی مسکرا کر بولا تو ارقم صرف ہنکار بھرتا مولوی صاحب کو لینے چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر میں ہی ہاشم اور علیشبہ کا نکاح ہوچکا تھا نکاح نامے پر سائین کرتے ہوئے علیشبہ کے ہاتھ کانپ رہے تھے مگر پھر اپنے سر پر حدید صاحب کا شفقت بھرا ہاتھ محسوس کر کے اس نے سائین کیے تھے وہ اتنا جانتی تھی کہ اس کے گھر والے کبھی بھی اس کے مشکل وقت میں اس کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔۔۔۔۔
شاہزین تیمور صاحب کے ساتھ ابھی ہاشم اور ارقم کو مبارک باد دے کر پیچھے ہٹا ہی تھا کہ اس کے فون پر عینی کی کال آئی جسے دیکھ کر وہ فورا ایک سائیڈ پر جاکر کال سننے لگا۔۔۔۔
فون کے دوسری جانب سے ہادی کی روتی ہوئے آواز سن کر اس کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا۔۔۔۔۔
بھائی۔۔۔ آ۔۔۔آپی کو پ۔۔پتا نہیں کیا ہوا ہے وہ اٹھ نہیں رہیں۔۔۔۔۔
کیا مطلب ہے ہادی ٹھیک سے بتاؤ۔۔۔۔
وہ آپی کی صبح سے طبیعت نہ ٹھیک تھی ابھی میں تھوڑی دیر پہلے ان کے کمرے میں آیا ہوں تو وہ زمین پر بے ہوش پڑی ہیں اٹھ نہیں رہیں۔۔۔۔۔
ہادی نے اسے ساری بات بتائی تو شاہزین نے پریشانی سے اپنے بالوں کو ایک ہاتھ سے جکڑتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔
ہادی حور کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارو جلدی سے۔۔۔۔۔
ہادی شاہزین کی بات سن کر جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھا اور بیڈ کے پاس پڑا پانی کا گلاس اٹھا کر اس میں سے تھوڑا پانی عینی کے چہرے پر گرایا تو عینی کو ہلکا ہلکا ہوش آنے لگا ہادی نے جلدی سے پانی کے اور چھینٹے عینی کے چہرے پر مارے تو وہ ہوش میں آچکی تھی۔۔۔
ہ۔۔۔ہادی مجھے پانی لا کر دو ۔۔۔۔۔۔
عینی نے آنکھیں بمشکل کھول کر ہادی سے کہا تو ہادی فون عینی کے پاس رکھتا فورا کچن میں پانی لینے بھاگا۔۔۔۔۔
حور۔۔۔حور تم ٹھیک تو ہو ؟؟؟
عینی نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے موبائل کو پکڑا کر اپنے کان سے لگایا اور نقاہت بھری آواز میں بولی۔۔۔۔
ج۔۔جی ٹھیک ہوں۔۔۔۔
تم نے مجھے صبح کیوں نہیں بتایا کہ تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس کا جواب تو میں بعد میں تم سے لوں گا فلحال تم پانی پی کر اور کچھ کھا کر ریسٹ کرو میں ایک گھنٹے تک تمھارے پاس پہنچ جاؤں گا اور فون بند مت کرنا۔۔۔۔
ہادی عینی کے لیے پانی لے کر آیا تو عینی نے پانی پی کر شاہزین کو جواب دیا۔۔۔۔۔
آپ ابھی رہنے دیں میں اب بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔
بلکل نہیں حور مجھے ابھی کوئی فضول بحث نہیں کرنی میں جلد ہی تمھارے پاس پہنچ رہا ہوں ۔۔۔۔
عینی نے اس کی بات سن کر صرف ہوں میں ہی جواب دیا اور ہادی کو اپنے ساتھ لگا کر اس کے چہرے سے آنسو صاف کیے اور اپنی آنکھیں موند لیں
شاہزین تیمور صاحب سے بات کر کے انھیں سب کچھ بتا کر جلدی سے یہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔ وہ بس جلد از جلد عینی کے ہاس پہنچنا چاہت تھا۔۔۔۔۔۔
********************
ہاشم نکاح کے بعد سب لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا وہ ایک بار علیشبہ سے ملنا چاہتا تھا مگر ارقم کسی ناگ کی طرح اس کے راستے میں بیٹھا تھا۔۔۔۔۔
اب اسے احساس ہو رہا تھا کہ اسے پہلے ہی ارقم سے صلح کر لینی چاہیے تھی چونکہ رخصتی ایک مہینے بعد علیشبہ کے امتحانات کے بعد تھی اس وجہ سے وہ صرف ایک بار اس سے ملنا چاہتا تھا۔۔۔۔
اس نے ارقم کے جگہ رمنا بیگم سے بات کرنے کا سوچا۔۔۔۔۔
اب تقریبا بہت سے مہمان جاچکے تھے صرف قریبی لوگ ہی موجود تھے وہ ایکسکیوز کر کے سب کے درمیان سے اٹھ کر حویلی کے اندر داخل ہوا تو پیچھے ہی ارقم بھی اس کے ساتھ ہی حویلی میں داخل ہوا۔۔۔۔
خیریت بھائی۔۔۔۔ کہیں جانا ہے آپ کو۔۔۔۔۔
ارقم نے ہاشم سے طنزیہ مسکراہٹ سے پوچھا۔۔۔۔۔
مجھے چچی جان سے بات کرنی ہے۔۔۔۔۔
وہ ارقم سے بولا۔۔۔۔۔
ہمم آپ تو بڑے چالاک ہیں امی سے بات کرکے عالی سے ملنا چاہتے ہیں تو میں آپ کو بتا دوں امی کبھی بھی آپ کو ملنے نہیں دے گیں۔۔۔۔۔
ارقم ہاشم کی چالاکی سمجھ کر بولا۔۔۔۔
تمھارا بھی کل نکاح ہے نہ ۔۔۔۔ اگر تم نے مجھے آج علیشبہ سے ملنے نہ دیا تو یاد رکھنا کل تمہیں میں کسی بھی حال میں شفق سے ملنے نہیں دوں گا۔۔۔۔۔۔
ہاشم کی بات سن کر اس نے منہ بسورا۔۔۔۔۔۔
ہم ایک ڈیل کرتے ہیں آپ کو میں علیشبہ سے آج ملنے دوں گا مگر کل کو آپ میری ملاقات شفق سے کروائیں گے ۔۔۔۔۔۔
ارقم کی بات سن کر ہاشم کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔۔۔۔
ضرور ۔۔۔۔۔ اب چلو جلدی سےمجھے علیشبہ سے ملوا دو مجھے اس سے ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔
ہاشم کی بےچین آواز سن کر ارقم نے اپنی آنکھیں گھمائیں اور علیشبہ کے کمرے میں جا کر وہاں موجود دو تین لڑکیوں کو پہلے تو باتوں میں الجھا کر باہر نکالا اور پھر عالی کے قریب جاکر بولا۔۔۔۔۔
ہاشم تم سے بات کرنا چاہتا ہے عالی وہ بس ابھی میرے جاتے ہی تم سے بات کرنے آئے گا گھبرانا مت میں کمرے کے باہر ہی موجود ہوں۔۔۔۔۔
وہ عالی کے سر پر ہاتھ رکھ کر اس کے سر ہلانے پر باہرچلا گیا اور ہاشم کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔۔
عالی نے ایک نظر سفید شلوار قمیض اور براؤن شال میں ملبوس ہاشم کو دیکھا لیکن اسے اپنی جانب متوجہ پاکر فورا اپنی نظریں جھکا لی۔۔۔۔۔
ہاشم دھیمی چال چلتا اس کے قریب آیا ۔۔۔۔۔
میں نے ماضی میں بہت سی غلطیاں کی ہیں جنہیں میں ٹھیک کرنے کی ابھی تک کوشش کر رہا ہوں لیکن کبھی یہ مت سمجھنا کہ میں نے کسی پچھتاوے میں آکر تم سے شادی کی ہے یا اپنے کسی مطلب کے لیے تم سے شادی کی ہے۔۔۔۔۔۔۔
مجھے تم اچھی لگتی ہو اسی وجہ سے میں نے تم سے شادی کی ہے مجھے ابھی تم سے محبت نہیں ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ تم آہستہ آہستہ مجھے تم سے محبت کرنے پر مجبور کر دو گی۔۔۔۔۔
اور میں تمھیں خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کروں گا بس تم میرا ساتھ ضرور دینا ۔۔۔۔۔۔
ہاشم نے اپنی بات مکمل کر کے علیشبہ کے قریب آکر جھک کر عقیدت سے اس کے سر کو چوما۔۔۔۔۔۔
تو علیشبہ نے اپنی آنکھیں بند کر کے اس ستمگر کا پہلا عقیدت بھرا لمس محسوس کیا تھا اسے یقین تھا کہ وہ ہاشم کو خود سے محبت کروا دے گی بس اسے تھوڑا صبر سے کام لینا تھا۔۔۔۔۔
ہاشم کا سر چوم کر ایک نظر اس پر ڈال کر کمرے سے چلا گیا۔۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
شاہزین اس وقت عینی کے ساتھ ہوسپٹل میں موجود تھا عینی کا چیک اپ ہو رہا تھا جبکہ شاہزین ہادی کے ساتھ بے چین سا بیٹھا تھا۔۔۔۔۔
وہ جب گھر پہنچا تو عینی سے نقاہت اور کمزوری کی وجہ سے اٹھا بھی نہیں جا رہا تھا عینی کا زرد چہرہ دیکھ کر تو اسے ویسے ہی گھبراہٹ اور پریشانی ہونے لگی تھی۔۔۔۔۔
کیسی ہے میری وائف ؟؟
ڈاکٹر کے باہر آتے ہی شاہزین نے بے چینی سے پوچھا۔۔۔۔
ابھی ہم نے کچھ ٹیسٹ کیے ہیں اس کے رزلٹ آتے ہیں تو پھر آپ کو بتائیں گے وہ ابھی ریسٹ کر رہی ہیں آپ مل لیں ۔۔۔۔
ڈاکٹر کی بات سن کر شاہزین نے اپنے سر کو ہلکا سا خم دیا اور ہادی کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا جہاں عینی کمزوری کے باعث آنکھیں موندے لیٹی تھی۔۔۔۔
سویٹ ہارٹ !!
شاہزین نے قریب جا کر عینی کو پکارا اور اس کے سر کو ہلکا سا چوما۔۔۔۔
عینی نے اپنی آنکھیں آہستہ سے کھولیں ۔۔۔۔۔ شاہزین اور ہادی کو دیکھ کر وہ ہلکا سا مسکرائی۔۔۔۔۔
آپی اب آپ ٹھیک ہیں ؟؟؟
ہادی نے عینی سے پوچھا
ہاں میں اب بلکل ٹھیک ہوں ہادی ۔۔۔۔۔
وہ اٹھ کر بیٹھتے ہوئے بولی اور تھوڑی سی جگہ بنا کر ہادی کو اپنے ساتھ بیٹھایا جبکہ شاہزین ان کے قریب ہی کھڑا تھا عینی کو ٹھیک دیکھ کر وہ اب کافی پرسکون تھا
عینی نے مسکرا کر ایک نظر شاہزین کو دیکھا جو خشمگی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
سوری ۔۔۔۔۔
عینی نے ہلکی آواز میں کہا تو شاہزین سنجیدگی سے بولا۔۔۔۔
آئندہ اگر تمھاری طبیعت خراب ہوگی تو تم مجھے فورا بتاؤ گی حور مجھے قطعاً منظور نہیں کہ تم مجھے خود سے بے خبر رکھو۔۔۔۔۔
عینی نے معصوم شکل بناتے ہوئے اپنا سر ہلایا تو شاہزین کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد ہادی حور سے باتیں کرتے ہوئے اس کے ساتھ ہی سو گیا تھا جب ڈاکٹر ناک کر کے کمرے میں داخل ہوئی
اب آپ کیسا محسوس کر رہی ہیں ؟؟
شاہزین نے ڈاکٹر کی طرف دیکھا جو مسکرا کر عینی کی طرف دیکھ رہی تھی
اب کافی بہتر ہوں۔۔۔
عینی نے دھیمی آواز میں جواب دیا اب وہ پہلے سے کافی اچھا محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
کوئی پریشانی والی بات تو نہیں ہے ڈاکٹر ؟؟؟
شاہزین نے بے چینی سے پوچھا۔۔۔۔۔
نہیں بلکہ خوشخبری ہے آپ کی وائف ٹو ویکس پریگننٹ ہیں مبارک ہو آپ دونوں کو ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر نے مسکرا کر بتایا تو شاہزین نے پہلے آنکھیں پھیلا کر ڈاکٹر کو دیکھا پھر عینی کو دیکھا جو مسکرا کر نم آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
شاہزین کے چہرے پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اس نے جھک کر عقیدت سے عینی کا سر چوما۔۔۔۔۔
انھیں کچھ ویکنس ہے میں آپ کو کچھ ویٹامنز لکھ دوں گی اور کچھ میڈسنز جس سے یہ کافی بہتر محسوس کریں گی۔۔۔۔۔
ڈاکٹر نے شاہزین کو بتایا اور کمرے سے چلی گئی۔۔۔۔
ایک خوشی کا آنسو تھا جو ٹوٹ کر شاہزین کی آنکھ سے گرا تھا جسے عینی نے اپنے ہاتھ سے صاف کیا تھا
حور میں تمھیں بتا نہیں سکتا کہ میں کتنا خوش ہوں۔۔۔۔
وہ مسکرا کر حور کا سر دوبارہ چوم کر بولا۔۔۔۔
میں بھی بہت خوش ہوں شاہزین۔۔۔۔۔
عینی نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
*******************
شفق نروس سی ہال کے برائیڈل روم میں تیار بیٹھی تھی آج اس کا اور ارقم کا نکاح تھا اس کی خوشی کی انتہا تھی کہ اس کا نکاح اس شخص سے ہو رہا تھا جسے اس نے چاہا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ سرخ جوڑے میں بے حد خوبصورت لگ رہی تھی کہ دیکھنے والا ایک بار دیکھ لے تو نظر نہیں ہٹا پائے گا۔۔۔۔
گھبراہٹ سے اسے ٹھنڈے پسینے آرہے تھے دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے دروازے کی جانب دیکھا تو سحر بیگم نم آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔
سحر بیگم نے قریب آکر اس کا سر چوما۔۔۔۔
مجھے پتا ہی نہ چلا کہ میری شفی اتنی بڑی ہوگئی ہے کہ آج اس کا نکاح بھی ہونے والا ہے۔۔۔۔
وہ نم لہجے میں بولیں۔۔۔۔تو شفق کو اپنی آنکھوں میں نمی تیرتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔۔
موم ابھی تو میں یہاں ہی ہوں آج تو صرف نکاح ہی ہے۔۔۔۔
ہاں بلکل میری جان ۔۔۔۔۔
وہ اس کے سر پر دوپٹہ ٹھیک کرتی بولیں۔۔۔۔
****************
اور سالے صاحب کیسا محسوس ہو رہا ہے۔۔۔۔۔
ہاشم ارقم کے پاس جا کر مسکراتا ہوا بولا۔۔۔۔
بہت اچھا جیجا جی ۔۔۔۔۔
وہ بھی مسکراتا ہوا بولا۔۔۔۔
میری بیگم نظر نہیں آرہی کہیں سالے صاحب۔۔۔۔۔
ہاشم نے نے اپنی نظریں ہر جگہ گھماتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
جیجا جی وہ اس وقت میری بیگم کے پاس موجود ہے ۔۔۔۔اور آپ نے میرا کام کر دیا جو میں نے آپ سے کہا تھا۔۔۔۔۔
پہلے تو وہ بھی مسکراتے بولا لیکن آخری بات سنجیدگی سے بولا۔۔۔۔
آہاں ۔۔۔۔۔ تھوڑے دنوں پہلے مجھے پتا چلا تھا کہ دو لڑکیوں کو وہ ہراس کر رہا تھا پھر میں نے اس کے خلاف ثبوت اکٹھے کروا کر اسے جیل بھجوا دیا ہے اب چکی پیس رہا ہوگا۔۔۔۔تم فکر مت کرو وہ اب کافی عرصہ جیل میں ہی گزارے گا۔۔۔۔۔
ہاشم نے ارقم کو مسکراتے ہوئے بتایا تو اس نے سکون کا سانس لیا ارقم نے اسے کچھ دن پہلے حزیفہ کے بارے میں بتا کر اس کا کچھ کرنے کا بولا تھا وہ جانتا تھا کہ اس جیسے لڑکے جلد ہی کسی لڑکی کا پیچھا نہیں چھوڑتے تھے ۔۔۔۔۔
*****************
تھوڑی دیر میں سب کی موجودگی میں شفق اور ارقم کا نکاح ہوگیا تھا۔۔۔۔۔
شفی تم خوش ہو نہ ؟؟؟
شاہزین نے مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھتے شفقت سے پوچھا
جی بھائی میں بہت خوش ہوں۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر شاہزین سے بولی ۔۔۔۔۔
اگر تمہیں کبھی بھی کوئی بھی مشکل ہو تو تم نے سب سے پہلے اپنے بھائی کو بتانا ہے۔۔۔۔ میں ہمیشہ تمھارے ساتھ ہوں یہ مت سمجھنا کہ تمھارا نکاح ہوگیا ہے تو تم پرائی ہوگئی ہو۔۔۔۔
وہ مسکرا کر شفق سے بولا اور اپنی فون پر میسج کی بل سن کر اسے دیکھا
بھائی ابھی میں یہاں ہی ہو اور جب بھی مجھے کوئی مشکل ہوئی میں آپ کو ضرور بتاؤں گی۔۔۔۔
اچھا شفی مجھے ایک ضروری کام ہے تم تب تک اپنی دوست سے بات کرو۔۔۔۔
وہ بولتا ہوا روم سے چلا گیا۔۔۔۔۔
نکاح مبارک ہو بھابھی جی۔۔۔۔
علیشبہ نے مسکراتے ہوئے شفق کو چھیڑا جس نے سرخ چہرے کے ساتھ اسے گھورا۔۔۔۔
شفی یار اپنی ان قاتل آنکھوں کا جادو مجھ پر مت چلاؤ بھائی پر چلانا ۔۔۔۔۔
علیشبہ نے اسے مزید چھیڑا۔۔۔
تم بہت بدتمیز ہو عالی۔۔۔۔
شفق منہ بناتی بولی تو علیشبہ نے قہقہہ لگایا۔۔۔
اچھا اچھا سوری ۔۔۔۔۔
وہ شفق کو گلے لگاتے بولی۔۔۔ تو شفق بھی مسکرا اٹھی۔۔۔۔
*******************
سحر بیگم کے کہنے پر عالی شفق کو باہر لے آئی تھی جہاں سٹیج پر اسے ارقم کے ساتھ بیٹھایا گیا تھا۔۔۔۔
بہت خوبصورت لگ رہی ہو شفق۔۔۔۔۔
وہ دھیمی آواز میں شفق سے بولا جس نے صرف مسکرانے پر ہی اکتفا کیا کیونکہ ان کی توجہ اب تیمور صاحب کی طرف تھی جو مائک میں کچھ بول رہے تھے۔۔۔۔
لیڈیز ایندڈ جینٹل مین آج صرف میری بیٹی کا نکاح ہی نہیں بلکہ میرے بیٹے کا ریسپشن بھی ہے ۔۔۔۔ میرے بیٹے کا نکاح کچھ عرصے پہلے ہوا تھا مگر کچھ وجوہات کی بنا پر فنکشن ارینج نہیں کرپائے تھے ۔۔۔۔۔۔
ایوری ون ویلک مائی سن شاہزین اینڈ مائی ڈاٹر ان لا حورالعین۔۔۔۔۔
تیمور صاحب کے بولتے ہی سپوٹ لائٹ اینٹریس کی طرف سب متوجہ ہوئے جہاں حورالعین گولڈن میکسی پہنے شاہزین کے بازو میں اپنا بازو ڈالے کھڑی تھی جبکہ شاہزین ڈارک بلیو پینٹ کوٹ پہنے اپنے دوسری طرف ہادی کو لیے کھڑا تھا جس نے شاہزین کے جیسا ہی سوٹ پہنا ہوا تھا۔۔۔۔۔
سب کی توجہ اپنی جانب پاکر حور ہلکا ہلکا کانپنے لگ پڑی تھی۔۔۔۔۔
حور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے میں ہوں نہ تمھارے ساتھ۔۔۔ بس تم گہرا سانس لو اور میرے ساتھ چلنا شروع کرو۔۔۔۔۔
شاہزین نے دھیمی آواز میں مسکراتے ہوئے حور سے کہا جو اس کے کہے پر عمل کر رہی تھی۔۔۔۔
جبکہ دوسری طرف سٹیج پر بیٹھے ارقم نے حیرت سے حور اور ہادی کو شاہزین کے ساتھ دیکھا جبکہ ہاشم بھی حور اور ہادی کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
رمنا بیگم ، علیشبہ اور حدید صاحب بھی حیرت سے حور اور ہادی کو شاہزین کے ساتھ دیکھ رہے تھے مگر وہ یہ سوچ کر تھوڑا پرسکون ہوگئے تھے کہ دونوں ٹھیک ہیں۔۔۔۔
حور نے گہرا سانس لے کر سامنے سٹیج کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھا تو سامنے ہاشم ارقم علیشبہ اور رمنا بیگم کو دیکھ کر اسطکے چہرے پر ایک سایہ لہرایا تھا مگر اس نے جلد ہی اپنے چہرے کے تاثرات ایسے کر لیے جیسے انھیں جانتی ہی نہ ہو بلکہ اس نے ایک نظر شاہزین کو دیکھا جس نے ہلکا سا اس کا ہاتھ دبا کر اسے تسلی دی تھی۔۔۔۔۔
اس نے پہلے ہی اپنے ماضی کے بارے میں سب کچھ شاہزین کو بتا دیا تھا اور شاہزین بھی ان سب کے بارے میں جانتا تھا۔۔۔۔۔۔
عینی نے ایک گہرا سانس خارج کر کے اپنے چہرے پر ایک جاندار مسکراہٹ قائم کر کے سامنے کی طرف دیکھا جہاں سب اس کی طرف ہی متوجہ تھے اور ہھر اس نے ہادی کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اس نے آنکھوں سے ہادی کو تسلی دی جو مسکراتے ہوئے ہی شاہزین کے ساتھ کھڑا تھا۔۔۔۔۔
سحر بیگم اور شفق بھی حیران تھیں کہ شاہزین کو عینی کب ملی اور اس نے انھیں کیوں نہیں بتایا تھا۔۔۔۔۔
حور کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر وہاں موجود سب لوگوں کو پتا چل گیا تھا کہ اس کی مسکراہٹ کیا کہہ رہی ہے وہ انھیں بتا رہی تھی کہ دیکھ لیں آپ لوگوں کے چھوڑنے کے بعد بھی میں الحمداللہ بہتر حالت میں ہوں۔۔۔۔۔
شفق اور ارقم کے ساتھ ہی سٹیج پر ایک سائیڈ پر ان کے لیے سیٹ اپ کیا گیا تھا جو پہلے انہیں نہیں پتا تھا کہ کس لیے ہے لیکن اب سب کو پتا چل گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
شاہزین نے پہلے ہادی کو سٹیج پر بھیج کر پھر خود چڑھ کر عینی کو ہاتھ دے کر اوپر سٹیج پر چڑھایا اور اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے اسے اپنے ساتھ بیٹھایا۔۔۔۔۔
ان کے بیٹھتے ہی بہت سے لوگ ان کو مبارک باد دینے آنے لگے جسے حور اور شاہزین مسکراتے ہوئے وصول کر رہے تھے۔۔۔۔۔
جب سٹیج پر تھوڑا رش کم ہوا تو رمنا بیگم عینی کے قریب آئیں اور اس کے ساتھ بیٹھ کر اس کا سر چومنے لگیں کہ عینی نے فورا اپنا رخ موڑ لیا۔۔۔۔۔
حور چندا کیسی ہو تم ؟؟؟ ہم تمھارے لیے بہت فکر مند تھے
رمنا بیگم نے آہستہ سے عینی سے پوچھا۔۔۔۔
معذرت کے ساتھ آنٹی کیا میں آپ کو جانتی ہوں ؟؟؟؟
عینی نے انجان بن کر پوچھا تو رمنا بیگم کے چہرے پر ایک سایہ لہرایا ۔۔۔۔۔ عینی اب تک بھولی نہیں تھی کہ کیسے ان لوگوں نے اسے اور ہادی کو ہاشم کے ساتھ ہمیشہ کے لیے حویلی سے نکال دیا تھا۔۔۔۔
آنٹی کیا کوئی مسئلہ ہے ؟؟
شاہزین نے رمنا بیگم سے پوچھا تو وہ نفی میں سر ہلاتی بولی
نہیں بیٹا آپ لوگوں کو بہت مبارک ہو اللہ آپ لوگوں کو ہمیشہ خوش رکھے۔۔۔۔
وہ دعا دیتی اداسی سے عینی کے پاس سے اٹھ گئی جس نے ایک نگاہ غلط بھی ان میں سے کسی پر دوبارہ نہیں ڈالی تھی۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
0 Comments