#Most_Romantic
#Forced_Marriage
#Rude_Hero
#innocent_Heroine
ستمگر_محبوب_میرا
زنور_رائیٹس
قسط_نمبر_13
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
ہاشم اپنے کمرے میں بیٹھا اپنا موبائل استعمال کر رہا تھا جب آٹھ سالہ ہادی اس کے کمرے میں بھاگتے ہوئے داخل ہوا ۔۔۔۔۔۔
بھیا۔۔۔۔۔
ہاں بولو ہادی ۔۔۔۔۔
ہاشم اسے اپنے ساتھ بٹھاتا ہوا لاڈ سے بولا
مجھے آج سکول میں ایک لڑکے نے مارنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔۔
ہادی نے معصومیت سے اسے بتایا۔۔۔۔
کیا مطلب کس نے مارا ہے ہادی کو بتاؤ مجھے بلکہ تمھیں بھی اسے مارنا چاہیے تھا۔۔۔۔
بھیا میں نے بھی یہی کیا تھا میں نے اسے زور سے دھکا دیا تو وہ نیچے گر گیا تھا اور پھر ٹیچر نے میری شکایت عینی اپی کو لگا دی اب وہ مجھ سے بول نہیں رہی آپ انھیں کہیں مجھ سے بات کریں اب میں کبھی کسی کو دھکا نہیں دوں گا۔۔۔۔۔
اوہ یہ تو بڑا مسئلہ ہے بھئ ویسے تم اس سے معافی کیوں نہیں مانگتے۔۔۔۔
بھیا میں نے معافی مانگی ہے مگر وہ مان نہیں رہی ۔۔۔۔۔۔ لیکن میں دوبارہ آپ کی بات مان کر عینی اپی کو سوری بول کر آتا ہوں وہ اس کے قریب سے اٹھ کر دروازے کی جانب بھاگا۔۔۔۔۔
اچانک وہ ہاشم کو خود سے دور جاتا ہوا لگا اس نے ہادی کو پکارنے کی کوشش کی مگر وہ اس کی بات نہیں سن رہا تھا
اچانک اسے ہادی کی آواز دور سے سنائی دی
بھیا آپ بہت برے ہیں ۔۔۔۔۔ عینی اپی سچ بول رہی ہیں ۔۔۔۔
اس نے ایک تھپڑ کھینچ کر ہادی کے گال پر مارا
اب اسے عینی کی آواز سنائی دے رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
آپ کی ہمت کیسے ہوئی میرے بھائی کے تھپڑ مارنے کی آپ نے کہہ دیا ہے تو ہم جا رہے ہیں لیکن یاد رکھیے گا روزِمحشر آپ اس سب کے جواب دہ ہوں گے۔۔۔۔۔
ہاشم اچانک گھبرا کر اپنی نیند سے بیدار ہوا اسے لگا اس کا سانس بند ہو رہا ہے اس نے اپنی سائیڈ سے پانی کا گلاس اٹھا کر منہ کو لگایا تو تھوڑا اسے سکون ملا اس نے ایک نظر اپنے ساتھ سکون سے سوئی حمنا پر ڈالی اور بیڈ سے اٹھ کر اپنا سگریٹ کا پیکٹ اٹھا کر وہ بالکونی میں چلا گیا۔۔۔۔۔۔
سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے اس کے ذہن میں دوبارہ ہادی اور عینی کی باتیں گوجنے لگیں اور وہ واقعہ یاد کرکے اسے ہادی کی یاد آئی وہ تب کا واقع تھا جب عینی نے اسے احساس دلایا کہ انھیں اس کے پیار اور توجہ کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔
اس نے صبح حویلی فون کر کے ہادی اور عینی سے بات کرنے کا سوچ کر سگریٹ کا کش لیا کیونکہ اس کے خیال میں ہادی اور عینی حویلی میں موجود ہیں۔۔۔۔۔۔
ارقم اپنے بیڈپر چت لیٹا چھت کو گھورتے ہوئے شفق کے بارے میں سوچ رہا تھا
اسے بس یہ افسوس ہورہا تھا کہ اس نے شفق سے بات ہی کیوں کی لیکن چونکہ اب وہ اس سے بات کر چکا تھا تو اس نے اسے اب اگنور کرنے کا سوچا بے شک وہ اپنی غلطی مان چکا تھا مگر معافی مانگنا اس کی شان کے خلاف تھا ۔۔۔۔۔
اور ویسے بھی جاگیرداروں کا خون اس کی رگوں میں دوڑتا تھا وہ اسے کبھی بھی جھکنے نہیں دیتا تھا۔۔۔۔۔
اسے لگتا تھا کہ وہ صرف شفق کی پرسنیلٹی اور سٹائل وغیرہ کی وجہ سے اسے اچھی لگتی ہے مگر اسے کیا پتا یہ تو آغازِ محبت ہے۔۔۔۔۔
اس کی سوچوں کا اچانک رخ حورالعین کی طرف گیا احد صاحب اس کی شادی حورالعین سے کروانا چاہتے تھے وہ اس کی منگ تھی مگر جب ہاشم اور اس کی بیوی نے علیشہ پر الزام لگائے تو اس نے بھی حورالعین کو ٹھکرا دیا ۔۔۔۔
حورالعین بلاشبہ شفق سے زیادہ خوبصورت تھی مگر اس میں کنفیڈنس شفق جتنا نہ تھا۔۔۔۔۔وہ اب صرف اس وجہ سے حیدر اور حورالعین کو ڈھونڈ رہا تھا کیونکہ وہ گلٹ کا شکار تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ اب ہاشم کے کیے کی سزا وہ حور کو دے مگر یہ بات تو وہ خود جانتا تھا اگر وہ اس دن حور پر غصہ نہ کرتا تو آج حور اور ہادی حویلی میں ہوتے۔۔۔۔۔
سحر بیگم شاہزین کے ساتھ لان میں بیٹھی باتیں کر رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔
شاہزین میرے خیال میں اب تمھیں آفس جوائن کر لینا چاہیے۔۔۔۔
موم اب آپ بھی ڈیڈ کی طرح ایک ہی بات بار بار مت کریں میں نے پہلے بھی کہا تھا اب دوبارہ کہہ رہا ہوں کہ میں آفس اپنی مرضی سے جاؤ گا ۔۔۔۔۔۔
شاہزین بےزاریت سے بولا ۔۔۔۔۔
میرے ساتھ تمیز سے بات کرو شاہزین میں نے کچھ برا بھی نہیں کہا اور دوسری بات تمھاری خالہ بار بار فون کر کے عشا کا تمھارے ساتھ رشتہ پکا کرنے پربضد ہے مگر تمھارے خالو چاہتے ہیں کہ تم پہلے بزنس سنبھالو اسی وجہ سے وہ بھی مجھ پر زور دے رہی کہ میں تمھیں بزنس جوائن کروا دوں اب۔۔۔۔
سحر بیگم نے اسے پہلے تھوڑا سخت اور پھر تھوڑا آرام سے کہا۔۔۔۔۔
موم آپ نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں اس پلاسٹک کے منہ والی جس نے پتا نہیں کتنی سرجریاں کروائیں ہوئی ہیں سے شادی کروں گا ۔۔۔۔۔
شاہزین ماتھے پر بل ڈالے بولا جب کہ اس کی نظریں چائے لاتی عینی پر تھیں جسے سحر بیگم کی تیز نظروں نے بھی دیکھ لیا تھا۔۔۔۔۔۔
شاہزین یہ بکواس میرے ساتھ مت کرو تمھاری شادی عشا سے ہی ہوگی اور یہ فائنل ہے۔۔۔۔۔
سحر بیگم عینی کے ٹیبل پر چائے رکھتی ہوئیں بولی۔۔۔۔۔
جبکہ نے عینی ان کی بات پر دھیان دیے بغیر چائے سحر بیگم کو پکڑائی تو شاہزین اسے ہی دیکھ رہا تھا جو اس کی شادی کا ذکر سن کر کیسے پر سکون تھی اس نے ایک بار بھی نظر اٹھا کر شاہزین کو نہ دیکھا تھا جس سے اچانک ہی شاہزین کو غصہ آیا اور وہ سحر بیگم سے بولا۔۔۔۔
اس بارے میں بعد میں بات کریں گے موم اور تم میرے کمرے میں کافی دے کر جاؤ۔۔۔۔۔
وہ آخر میں عینی کی طرف اشارہ کر کے بولا۔۔۔۔۔اور اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔۔
جبکہ سحر بیگم اب اپنے سامنے کھڑی عینی کو گھور رہی تھیں۔۔۔۔۔
اپنی اوقات میں رہنا لڑکی اور میرے بیٹے پر تم نے ایسا کیا جادوں کیا جو وہ کافی دنوں سے تم سے ہی کام کرواتا ہے ۔۔۔۔۔ یاد رکھنا اگر میرے بیٹے کو پھسانے کی کوشش کی تو تمھارے ساتھ جو ہوگا وہ تمھاری سوچ میں بھی نہیں ہوگا اور یہ مت بھولو میں تو تمھیں کب سے کام سے فارغ کر چکی ہوتی اگر تم نے میری منتیں نہ کی ہوتی ورنہ تمہیں کام سے فارغ کرتے مجھے دیر نہ لگتی ۔۔۔۔ میری ان باتوں کو یاد رکھنا اور جاؤ اسے کافی دے کر آؤ ۔۔۔۔۔
وہ چائے پیتے ہوئے نخوت سے بولیں تو عینی سبکی محسوس کر کے جلدی سے کافی اٹھا کر شاہزین کے کمرے کی طرف لے جانے لگی مگر اس کا دل سوکھے پتے کی طرح کانپ رہا تھا یہ سوچ کر کہ اگر شاہزین نے اسے کچھ کہا یا پھر اس کا ہاتھ جلانے کی کوشش کی تو وہ کیا کرے گی ۔۔۔۔
وہ یہاں سے دور چلی جانا چاہتی تھی مگر جاتی کہاں ؟ یہ سوال اسے اس زلت بھرے کام کرنے پر مجبور کرتا تھا اور اب تو وہ یہ بھی جان گئی تھی کہ شاہزین اسے کبھی بھی اپنی قید سے آزاد نہ کرے گا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی شاہزین کے کمرے میں داخل ہوئی تو شاہزین کو کمرے میں نہ پا کر وہ کافی رکھ کر جانے ہی والی تھی جب شاہزین واشروم سے نکل کر اس کے قریب آنے لگا ۔۔۔۔۔
اسے اپنے قریب آتا دیکھ وہ اپنے قدم پیچھے کو اٹھانے لگی پیچھے ہوتے ہوئے وہ دیوار سے جا لگی تو شاہزین نے اس کے قریب آکر دونوں اطراف بازو رکھ کر جھک کر اس کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔۔
تم نے مجھے پھر نظرانداز کیا اور میرے کمرے سے بغیر میری اجازت کے جانے لگی تھی ۔۔۔۔۔ رات کو یہ میک اپ دھو کر اپنے اصلی حولیے میں میرا انتظار کرنا آخر تمھیں سزا بھی تو دینی ہے ۔۔۔۔۔۔
شاہزین کے قریب آنے پر وہ سانس روکے اس کی بات سن رہی تھی مگر اس کی آخری بات سن کر اس نے بے اختیار اس کی جانب نظر اٹھائی تو وہ بھی سیدھا ہو کر اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
عینی نے ہمت کر کے اسے زور سے دھکا دے کر دور کرنے کی کوشش کی شاہزین اس کی کوشش کو دیکھ کر اسے چھوڑ کر پیچھے ہوا تو عینی کی غصے سے کانپتی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔۔۔۔۔۔
مجھ سے دور رہیں اور ہاں میں نے آپ کو اگنور کیا جانتے ہیں کیوں تاکہ آپ کی والدہ مجھے بدکردار نہ کہیں یہ نہ کہیں کہ میں نے ان کے عظیم بیٹے کو پھنسا رہی ہوں جانتے ہیں وہ کہہ رہیں تھی میں اپنی اوقات میں رہوں مگر میں اتنی بھی گری پڑی ہر گز نہیں ہوں کہ آپ مجھے اپنی حوس کا نشانہ بنائیں مجھے شدید نفرت ہے آپ سے سنا آپ نے مجھے شدید نفرت ہے ۔۔۔۔۔۔
جب جب آپ مجھے چھوتے ہیں تو میرا مرنے کو دل کرتا ہے سنا آپ نے گھن آتی ہے خود سے یہ نکاح جو ہے نہ صرف اپنے بدلہ کے لیے آپ نے کیا ہے نہ مجھے تکلیف پہنچانا چاہتے ہیں نہ آپ ۔۔۔۔۔
وہ ہزیانی انداز میے بولتی ہوئی شاہزین کے قریب سے گزر کر گرم کافی اٹھا کر اپنے ہاتھ اور بازو پر گرانے لگی کہ شاہزین جو کب سے اپنا غصہ ضبط کر رہا تھا اس نے آگے بڑھ کر اس سے کافی پکڑ کر ایک تھپڑ کھنچ کر اسے مارا ۔۔۔۔۔۔
ہاں تمھیں تکلیف پہچانا چاہتا ہوں میں مگر وہ بھی خود پہنچاؤ گا یاد رکھنا اور تمھاری اوقات تمھیں بہت جلد پتا چل جائے گی اور تمھیں میرے چھونے سے گھن آتی یے نہ رات کو دیکھو گا کہ تم خود کو کیسے میرے لمس سے آزاد کرواتی ہو اگر دروازہ کو لاک لگانے کا سوچا بھی تو یاد رکھنا کسی کا بھی لحاظ کیے بغیر دروازہ توڑ کر تمھیں باہر نکالوں گا ۔۔۔۔۔۔
وہ ساکن کھڑی عینی کو جھنجوڑ کر بولا۔۔۔۔
پ۔۔۔پلیز س۔۔۔سوری می۔۔۔میرا ایسا م۔۔۔مطلب نہ ت۔۔تھا و۔۔وہ ب۔۔۔بس غصے میں غ۔۔غلطی سے بول گئی۔۔۔
عینی اس کی بات سن کر ہوش میں آتے بولی۔۔۔۔
بلکل بھی نہیں یہ سوری اپنے پاس رکھو اور جاؤ جا کر اپنا کام کرو ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسے دروازے کی جانب دھکا دیتا ہوا بولا تو عینی مردہ قدموں سے اس کے کمرے سے باہر چلی گئی ۔۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
حمنا آج کافی دنوں بعد گھر سے نکل کر اپنی دوستوں سے ملنے جارہی تھی ہاشم سے اس نے بس ایک بار پوچھ لیا تھا جس نے اسے اجازت دے دی تھی ۔۔۔۔۔
وہ پہلے اپنی دوستوں سے ملنے ریسٹورنٹ گئی جہاں پر اس نے اپنی دوستوں کے ساتھ تصویریں کھینچ کر ہاشم کو بھیجیں اور اپنی دوستوں کے ساتھ تھوڑی دیر بیٹھ کر ایمرجنسی کام بول کر وہاں سے نکل گئی۔۔۔۔۔
دراصل آج وہ شاہزیب سے ملنے جا رہی تھی وہ واپس آچکا تھا مگر ہاشم کی وجہ سے وہ اس سے ملنے نہ جاسکی ۔۔۔۔۔
شاہزیب نے اسے ہوٹل کے ایک کمرے میں بولایا تھا وہ بھی حمنا کے کہنے پر وہ نہیں چاہتی تھی کہ کوئی جاننے والا اسے شاہزیب کے ساتھ دیکھ کر ہاشم کو بتائے۔۔۔۔۔
اس نے کالی چست شرٹ کے ساتھ تنگ سا پجامہ پہنا ہوا تھا۔۔۔۔ وہ ہوٹل میں داخل ہوئی اور شاہزیب کے بتائے گئے کمرے کے باہر آکر اس نے دروازہ ناک کیا تو باتھ روب پہنے شاہزیب نے دروازہ کھولا۔۔۔۔
شاہزیب نے ایک بھرپور نظر اس پر ڈالی اور حمنا کے چہرہ کی طرف دیکھا جو اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔۔
اس نے حمناکو اندر داخل ہونے دیا تو حمنا مزے سےجاکر بیڈ پر بیٹھ گئی جبکہ چہرے سے مسکراہٹ اس کے ایک منٹ کے لیے بھی غائب نہیں ہورہی تھی۔۔۔۔
کچھ کھانے کے لیے منگواؤ تمھارے لیے حمنا ۔۔۔۔۔۔
شاہزیب نے بالوں میں پھیرتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
نہیں فلحال میں صرف تم سے ملنے آئی ہوں ۔۔۔۔اور زیبی تم وہاں کیوں کھڑے ہو یہاں آکر میرے ساتھ بیٹھو ۔۔۔۔۔میں نے تمہیں ان دنوں بہت یاد کیا۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے بالوں کی لٹ کو اپنی انگلی پر لپیٹ کر مسکرا کر بولی تو شاہزیب بھی مسکرا کر اس کے ساتھ آکر بیٹھ گیا۔۔۔۔
ہاں بولو حمنا تم نے کیا بات کرنی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا۔۔۔۔
میں بس یہ پوچھنا چاہتی تھی کہ تم نے بتایا تھا کہ تمھیں کوئی لڑکی پسند آگئی ہے اگر تم کہو تو میں اس سے بات کرتی ہوں ۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیکھ کر بولی۔۔۔۔
آہاں ۔۔۔۔ تم جانتی ہو اسے جسے میں پسند کرتا ہوں۔۔۔۔
شاہزیب نے جب حمنا کو اپنا ہاتھ کھینچتے نہ دیکھا تو اسے اور شہ مل گئی اور اس نے اس کے ہاتھ لو اپنے لبوں سے ہلکا سا چھوا۔۔۔۔
کیا تم سچ کہہ رہے ہو؟۔۔۔۔ کیا وہ لڑکی میں ہوں ؟۔۔۔۔۔
اس نے اپنی مسکارے سے بھری پلکیں اٹھاتے گراتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔۔
ہاں بلکل ۔۔۔۔ وہ تمہی ہو مگر پتا نہیں تمہیں آخر کیا جلدی تھی جو تم نے اتنی جلدی ہاشم سے شادی کروا لی۔۔۔۔؟ تھوڑے سال میرا انتظار کیا ہوتا تو آج ہم ساتھ ہوتے ؟۔۔۔
تم خود ہی مجھے چھوڑ کر چلے گئے تھے ورنہ میں کیوں اس جاہل گوار سے شادی کرتی ہنہ۔۔۔۔ اتنا بڑا بزنس مین وہ بن چکا ہے مگر پھر بھی اس کی سوچ میڈل کلاسوں والی ہے ۔۔۔ میرا بس چلے تو میں ایک منٹ نہ لگاؤں اس سے الگ ہونے سے۔۔۔۔۔
وہ نخوت سے ہاشم کے بارے میں بولی حالانکہ وہ خود جانتی تھی کہ ہاشم کو اس نے خود اپنی خوبصورتی کے جال میں پھنسایا تھا مگر اب وہ پابندیاں لگانے لگا ہے تو پہلے جو وہ اسے بے حد پسند تھا اب اس سے ہی نفرت کرنے لگی تھی
کیا واقعی تم اسے علیحدگی لے لو گی ؟؟۔۔۔۔
ہاں بلکل اگر تم میرا ساتھ دو تو میں اس سے علیحدگی لے لوں گی مگر یاد رکھنا میرا ہاتھ پھر تمہیں تھامنا پڑے گا۔۔۔۔۔
حمنا کی بات سن کر اس نے اپنے ہاتھ سے اس کے چہرے پر آئے بال پیچھے کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
کیوں نہیں میں تمھارا ہاتھ کبھی بھی نہیں چھوڑوں گا اور تمھیں میرے ساتھ مکمل آزادی بھی حاصل ہوگی۔۔۔۔
سچی ۔۔۔۔۔ واہ پھر تو میں جلد ہی کوئی بہانہ بنا کر اس سے علیحدہ ہو جاؤ گی۔۔۔۔۔
وہ پاگل اس کی مکروہ مسکراہٹ دیکھے بغیر بولی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاشم اپنے آفس میں بیٹھا صبح سے حویلی فون کر کے ہادی اور حورالعین سے ایک بار بات کرنا چاہتا تھا مگر اس میں ہمت نہیں ہو رہی تھی وہ دو بار فون ملا کر کاٹ چکا تھا ۔۔۔۔
علیشبہ جو آج حویلی رمنا بیگم اور حدید صاحب سے ملنے آئی تھی اور حال میں موجود صوفے پر بیٹھی تھی کونے میں پڑے ٹیلی فون کو دو بار بجتے دیکھ اپنی جگہ سے اٹھی مگر جب بھی وہ قریب جاتی فون بند ہو جاتا۔۔۔۔
آخر تنگ آکر اب وہ فون کے پاس ہی کھڑی ہوگئی۔۔۔۔۔احد صاحب حویلی میں داخل ہوئے تو عالی کو فون کے پاس کھڑے دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔
عالی بیٹا کسی کا فون آنا ہے جو آپ یہاں کھڑی ہو ؟؟؟؟۔۔۔
نہیں بابا وہ کسی کا دو بار فون آچکا ہے جب بھی اٹھ کر ریسور اٹھانے لگتی ہوں تو بند ہوجاتا ہے اور آپ کو پتا ہے اس فون پر بہت کم ہی لوگ کال کرتے ہیں تو میں نے سوچا کسی کی ضروری کال نہ ہو۔۔۔۔
ابھی وہ بات کر رہی تھی کہ فون دوبارہ بج اٹھا ۔۔۔۔ عالی نے فون فورا اٹھا کر بولی۔۔۔۔
اسلام و علیکم !۔۔۔۔۔
کون بات کر رہا ہے ؟؟؟ اور آپ کو کس سے بات کرنی ہے ؟؟؟
عالی کو دوسری جانب سے جواب نہ ملا تو وہ مزید بولی تو دوسری طرف ہاشم جس نے کال اٹھانے کے بعد کسی کی خوبصورت دھیمی آواز سنی تو اسے پہچاننے میں تھوڑی دیر لگی کہ یہ آواز کسی اور کی نہیں بلکہ علیشبہ کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
ع۔۔علیشبہ ۔۔۔۔
وہ ہمت کرتا بولا تو دوسری جانب سے جانی پہچانی آواز میں اپنا نام سن کر اسے فورا پتا چل گیا تھا کہ اس ستمگر کا فون ہے اس نے بغیر کچھ بولے احد صاحب جو قریب ہی بیٹھے تھے انھیں ریسور پکڑایا اور جلدی سے اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔
کیا کچھ یاد نہ آیا تھا اسے اس ستمگر کی وجہ سے اس کے زخم اور درد بھری یادیں جنہیں بھولنے کی وہ روزانہ کوشیش کرتی تھی مگر اس کی آواز سن کر دوبارہ وہ سب کچھ اسے یاد آگیا تھا۔۔۔۔
احد صاحب نے ریسور پکڑ کر کان سے لگایا اور اپنی روعب دار آواز میں سلام کرتے ہوئے کون بات کر رہا ہے پوچھا۔۔۔۔۔
تو ہاشم نے ان کی آواز سن کر اپنے خشک ہوتے ہونٹوں پر زبان پھیر کر جواب دیا۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام چچا جان ہاشم بات کر رہا ہوں ؟؟؟
کون ہاشم ؟؟! میں کسی ہاشم کو نہیں جانتا جسے جانتا تھا وہ ڈیڑھ سال پہلے ہی مر چکا ہے ۔۔۔۔
وہ انجان بنتے ہوئے بولے تو ہاشم کو ان کے انجان بننے پر تکلیف محسوس ہوئی۔۔۔۔۔
چچا جان ایک منٹ میری بات سنیں فون مت رکھیے گا پلیز ایک دفعہ میری بات ہادی اور حور سے کروادیں ۔۔۔۔
وہ جو فون رکھنے لگے تھے ہاشمکی بات سن کر ناسمجھی سے پوچھا۔۔۔۔ اور آخری بات جان کر بولی
کیامطلب تمھارا ؟؟ حور اور ہادی حویلی میں موجود نہیں ہے وہ تو تمھارے ساتھ تھے نہ ؟؟
چچا جان آپ ایسا کیوں بول رہے ہیں مجھے خود حمنا نے بتایا تھا کہ حور اور ہادی حویلی میں آپ کے پاس ہیں ؟؟؟
کیا بکواس کر رہے ہو تم کیا انھیں حویلی کا راستہ پتا تھا جو وہ یہاں آتے ہاشم ؟؟ اور ایک بات میں تمھیں بتا دوں دو مہینے پہلے مجھے پتا چلا تھا کہ تم نے انہیں گھر سے نکال دیا ہے اور تب سے میں اور ارقم انھیں ڈھونڈ رہے ہیں مگر ان کا کچھ پتا نہیں چل رہا اگر انھیں کچھ بھی ہوا تو اس سب کے تم زمہ دار ہو گے اور اپنی بیوی پر جتنا تم نے اندھا اعتماد کیا تھا نہ اس نے تمہیں اتنا ہی برباد کر دیا ہے اور اب دوبارہ یہاں فون کرنے کی ہمت بھی مت کرنا۔۔۔
اللہ نگہبان !
احد صاحب نے اپنی بات مکمل کر کے کال بند کر دی جبکہ دوسری جانب حور اور ہادی کے حویلی نہ موجود ہونے کے انکشاف نے اور احد صاحب کے الفاظ نے اسے جھنجوڑ دیا تھا وہ بے اختیار اپنی کرسی سے اٹھا اور اپنے آفس سے نکل گیا اسے نہیں معلوم وہ کتنی دیر گاڑی میں بیٹھ کر شہر کی خاک چھانتا رہا بس اس کے کانوں میں باربار احد صاحب کے الفاظ گونج رہے تھے کہ وہ حویلی میں نہیں ہیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عینی جب سے شاہزین کے کمرے سے واپس آئی تھی اسے بس ایک ہی فکر ستا رہی تھی کہ شاہزین اسے آج نہیں چھوڑے گا وہ جانتی تھی اگر اس نے کہا ہے کہ وہ رات کو اس کے کمرے میں آئے گا تو وہ ضرور آئے گا ۔۔۔۔۔
وہ چاہتی تھی کہ کچھ ایسا ہوجائے کہ شاہزین اس کے کمرے میں نہ آسکے وہ بس یہی دعا کر رہی تھی کہ وہ آج رات کسی ضروری کام سے کہیں چلا جائے ۔۔۔۔۔
اس نے رزیہ کے ساتھ سب کو ڈنر کروایا تو شاہزین بھی آج سب کے ساتھ بیٹھا کھانا کھا رہا تھا اور شفق کے ساتھ ہلکی پھلکی گفتگو بھی کر رہا تھا ۔۔۔۔
جب کھانے کے بعد سب اپنے کمرے میں چلے گئے تو وہ بھی مردہ قدموں سے انیکسی کی جانب اپنے کمرے میں چلی گئی اس نے جلدی سے دروازہ بند کر کے شاور لیا اور اپنے بال تولیے سے ہلکے سے سکھا کر دروازے کو لاک لگا کر جلدی سے سونے کے لیے لیٹ گئی کہ جب شاہزین اس کے کمرے میں آنے کی کوشش کرے اور شاید آ بھی جائے تو وہ اسے سوئی ہوئی ملے ۔۔۔۔۔
وہ اپنی آنکھیں بند کر کے سونے کی ناکام کوشش کر رہی تھی مگر اسے نیند نہیں آرہی تھی اس نے گھڑی پر ٹائم دیکھا تو گیارہ بج کر دس منٹ ہو رہے تھے اس نے اپنی آنکھیں دوبارہ بند کر کے سونے کی کوشش کی مگر نیند تو جیسے آج اس سے روٹھ گئی تھی
تھوڑی دیر بعد اسے دروازے پر ہلکی سی دستک سنائی دی تو اس نے اپنی آنکھیں اور زور سے میچ لیں
شاہزین جو سب کے سونے کے بعد انیکسی کی طرف عینی کے کمرے میں آیا تھا دروازے کو لاک لگا دیکھ کر ہلکا سا بجایا مگر اندر سے جب کوئی جواب نہ سنائی دیا تو وہ اس کمرے کی دوسری جانب موجود کھڑکی کی طرف گیا اور اسے کھولنے کی کوشش کرنے لگا ہی تھا کہ وہ اسے کھولی ہوئی ملی۔۔۔۔
بڑی آئی دروازہ لاک کرنے والی ایک کھڑکی کو بند نہ کرسکی ۔۔۔۔ وہ مسکرا کر منہ ہی منہ میں بڑبڑایا
جب عینی کو دوبارہ دروازہ بجنے کی آواز سنائی نہ دی تو اس نے پر سکون سانس خارج کیا اور اپنی آنکھیں کھول کر بیٹھنے لگی کہ اپنے سامنے شاہزین کو کھڑے دیکھ کر وہ ڈر سے چیخ مارنے لگی کہ شاہزین نے اگے بڑھ کر اس کے ہونٹوں کو اپنی قید میں لیتے ہوئے اس کی چیخ کو روک دیا ۔۔۔۔
جبکہ عینی اس کی جسارت پر آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی اور سمجھ آنے پر کہ کیا ہو رہا ہے اسے جلدی سے خود سے دور کرنے کی کوشش کرنے لگی کہ شاہزین پہلے ہی پیچھے ہٹ گیا اور مسکرا کر اس کے سرخ چہرے کو دیکھا جو اس کے چھوڑنے پر گہرے گہرے سانس لے رہی تھی
افسوس تم کھڑکی بند کرنا بھول گئی تھی ویسے تم کیا سمجھی میں واپس چلا گیا ہوں۔۔۔۔۔
وہ بیڈ پر گھٹنہ ٹیکے اس پر جھکا ہوا تھا جبکہ وہ بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
عینی کادل اس کی بات سن کر خود کو ایک تھپڑ لگانے کا کیا جو کھڑکی بند کرنا بھول گئی تھی
ویسے چاند کی روشنی میں اور بھی خوبصورت لگتی ہو مسز۔۔۔۔
وہ اس پر جھکا اس کے گال کو لب سے چھو کر بولا تو عینی نے فورا اپنے ہاتھ سے دونوں گالوں کو اس کے لمس سے محفوظ رکھنے کے لیے چھپانے کی ناکام کوشش کی تو شاہزین اس کی معصوم حرکت دیکھ کر مسکرایا اور بے ساختہ اس کے ماتھے کو چوما۔۔۔۔۔
اس بار عینی نے شاہزین کے پیچھے ہٹتے ہی دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا لیا تو شاہزین مسکراتا ہوا بیڈ پر چڑھ کر اس کی گود میں سر رکھے لیٹ گیا ۔۔۔۔۔
عینی کا دل اس کا نرم گرم لمس محسوس کرکے زوروں سے دھڑک رہا تھا وہ ستمگر تو اس وقت کوئی اور ہی معلوم ہو رہا تھا ۔۔۔۔
اپنی گو میں وزن محسوس کر کے اس نے آنکھیں کھولیں تو اس کی نظریں سیدھی اس کے گود میں سر رکھے شاہزین سے ٹکرائیں جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
ی۔۔۔یہ آ۔۔۔آپ ؟؟۔؟
میرا سر دباؤ درد ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔
شاہزین اس کی بات کاٹ کر بولا تو وہ اس کے سر کو ہلکا ہلکا دبانے لگی۔۔۔۔۔ جبکہ شاہزین نے اس کے ہاتھ کا لمس اپنے سر پر محسوس کر کے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔۔۔
تم اپنا چہرہ کالا کیوں کرتی ہو حور ؟؟؟
شاہزین نے اچانک آنکھیں کھول کر اس سے پوچھا ۔۔۔۔
و۔۔وہ س۔۔سحر میم نے بولا تھا کہ ایسا کروں گی تو ہی وہ نوکری دیں گی۔۔۔۔۔
اس نے ہچکچاتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔
شاہزین نے اس کی بات سن کر اس کا چہرہ دیکھا جہاں جھوٹ کا کوئی آثار نظر نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔
اس کی بات سن کر وہ خاموشی سے دوبارہ آنکھیں موند گیا۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
Waise kitni pyari saza thi na....
Khair pata nhiiii....aage kya karne wala hai...soooooooo like kare....and enjoy kare...our a66a sa response diya kare...tho daily hi 5 epi dongi.....
Ab khush hai na sub...5 epi diye aaj.....
0 Comments