Sitamgar Mehbob Mera Romantic Urdu Novel Episode 10 Online Free Read

 #Most_Romantic 

#Forced_Marriage

#Rude_hero 

#innocent_heroin 

 

Long epi....


ستمگر_محبوب_میرا

زنور_رائیٹس

قسط_نمبر_10


💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖


عالی کل کہیں گھومنے پھرنے کا پلان بناؤ میں گھر میں رہ کر بور ہوچکی ہوں کیوں نہ ہم شوپنگ پر چلیں۔۔۔۔


شفق علیشبہ کے سامنے کھڑی ہوتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔


ہممم۔۔۔۔ آئیڈیا تو اچھا ہے تمھارا لیکن بھائی سے پوچھنا پڑے گا۔۔۔۔


علیشبہ نے جواب دیا تو شفق کے سامنے مغرور سے ارقم کا چہرہ نمودار ہوا اس سے دوسری بار ملاقات علیشبہ نے کروائی تھی جس دن ان کا لیکچر فری تھا تب ارقم عالی سے بات کرنے آیا تھا جب شفق کو پتا چلا کہ وہ علیشبہ کا بھائی ہے تو اس کو اپنی پہلی ملاقات ارقم کے ساتھ یاد کرکے شرمندگی محسوس ہوئی مگر جب اسے خود کو اگنور کرتے دیکھا تو پھر اس نے بھی اسے دوبارہ نہیں بلایا تھا اور ساری شرمندگی بھی وہ بھول گئی تھی 


ہمم ۔۔۔۔ تمھارا وہ سڑو بھائی ہمیں کبھی بھی نہیں جانے دے گا عالی یہ بات تم مجھ سے لکھوا لو۔۔۔۔۔


شفق پانی پیتے ہوئے بولی اس کی بات سن کر علیشبہ نے اسے مصنوعی گھوری سے نوازا وہ اچھے سے جانتی تھی کہ شفق ارقم کو بلکل بھی نہیں پسند کرتی اور اس کی وجہ شفق نے اسے اپنی پہلی ملاقات راقم کے ساتھ بتا کر بیان کی تھی  


ایسی بھی کوئی بات نہیں شفی بھائی بس تھوڑا سریس رہتے ہیں ویسے بہت اچھے ہیں ۔۔۔۔


علیشبہ نے شفق سے کہا تو اس نے منہ بگاڑتے ہوئے کہا 


ہاں جانتی ہوں تمھارے ارقم بھائی بہت اچھے ہیں لوگوں کی مشکل میں مدد کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔


شفق نے بات کرتے ہوئے اپنے ہاتھ میں موجود بوتل سے پانی کا گھونٹ منہ میں بھرا کہ اپنے پیچھے کسی کہ گلا کھنگارنے پر مڑی اور ارقم کو دیکھتے ہی اس کے منہ میں موجود پانی فورے کی صورت میں ارقم کی شرٹ اور گردن پر گرا لمبا قد ہونے کی وجہ سے ارقم کا منہ بچ گیا تھا


ارقم نے اپنی گیلی شرٹ اور گردن پر پانی کے چھینٹے محسوس کرکے اسے خونخوار نظروں سے گھورا جب کہ عالی کا یہ سب دیکھ کر قہقہہ گونجا۔۔۔۔۔


شفق خود پر اس کی نظریں محسوس کرکے الٹا اس پر ہی الزام ڈالتے ہوئے گویا ہوئی


یہ آپ کی غلطی ہے آپ کو کسی کے پیچھے کھڑے نہیں ہونا چاہیئے مجھے کیا پتا تھا پیچھے آپ کھڑے ہیں ورنہ میں پانی پی کر مڑتی ۔۔۔۔۔۔


تم ایسا کیوں نہیں کرتی اپنے اردگرد ایک چار دیواری بنا کر پھیرا کرو تاکہ تمہیں کوئی مسئلہ نہ ہو کبھی تمھارے قدم لڑکھڑا رہے ہوتے ہیں تو کبھی تمھارا منہ لیک کر رہا ہوتا ایک دفعہ گھر جا کر اپنی مرمت کروا لینا ۔۔۔


ارقم اس کی بات سن کر بکواس باتیں سن کر بولا


آپ خود کو سمجھتے کیا ہیں اپنی مرمت کروائیں آپ کے دماغ کے نٹ بولٹ سب ڈھیلے ہوئے پڑے ہیں اور اپنے منہ کی بھی جب دیکھو سڑے ہوئے کریلے جیسی اس سے بو آتی ہے ہنہ۔۔۔۔۔


شفق اس کی بات سن کر اپنا منہ بگاڑتے ہوئے 


تمھیں بڑا پتا ہے خود کہ منہ سے تو تمھارے جیسے پھول جھڑتے ہیں سڑی ہوئی مرچی کہیں کی اور آئندہ میرے ساتھ تمھیں بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور عالی میرا آخری لیکچر فری ہے میں گاڑی میں تمھارا انتظار کر رہا ہوں آج جانا۔۔۔۔۔


ارقم پہلے غصے سے شفق اور پھر عالی سے بولو جو اپنی ہنسی روکنے کے چکر میں سرخ ہوئی پڑی تھی علیشبہ نے ارقم کی بات سن کر اپنا سر ہلایا تو ارقم تن فن کرتا اپنی گاڑی کی جانب چل دیا 


تمھارا سڑا ہوا بھائی مجھے سڑی ہوئی مرچی بول کر گیا  


شفق عالی کی طرف اپنا رخ کرکے غصے سے بولی جبکہ اس کی بات سن کر عالی جو کب سے اپنی ہنسی روک رہی تھی ایک بار جو ہنسنا شروع ہوئی تو ہنستی چلی گئی 


مجھ سے بات مت کرنا عالی جا رہی ہو میں ۔۔۔۔۔


شفق نے اسے ہنستا ہوا دیکھ کر دھمکی دی 


اچھا اچھا سوری ویسے تم دونوں کی لڑائی دیکھ کر مجھے بڑا مزا آیا اور میں تم سے کل بات کروں گی بھائی میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔۔۔۔۔ اور تم سڑی ہوئی نہیں میٹھی مرچ ہو 


عالی شفق کو گلے لگا کر جلدی سے بولی اور دور جاتے ہوئے آخری بات بولی تو شفق جھنجھلا کر بولی 


میں مرچ نہیں ہو ہنہ۔۔۔۔۔


اپنے ڈرائیور کو آتا دیکھ وہ بھی اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گئ اور اپنے دل میں ارقم کو برا بھلا کہتے ہوئے گاڑی میں بیٹھی ۔۔۔۔۔


شاہزین اپنے کمرے میں موجود تھا جب رزیہ اس کے کمرے میں ناشتہ لے کر داخل ہوئی ناشتہ ٹیبل پر رکھ کر رضیہ جانے لگی تو شاہزین نے اسے روکتے ہوئے پوچھا 


رزیہ کل کیا حور نے چھوٹی کی تھا ؟ 


جی سر وہ اپنے بھائی سے ملنے گئی تھی ۔۔۔۔۔


رزیہ نے شاہزین کو جواب دیا 


اچھا اس کا بھائی بھی ہے ۔۔۔۔۔ ویسے کہاں رہتا ہے وہ۔۔۔۔


شاہزین نے اس کا جواب سن کر پوچھا تو رزیہ نے اس کو ایک مشکوک نظر سے دیکھا تو شاہزین نے اس کے آگے کچھ پیسے بڑھائے جسے پکڑتے ہوئے وہ جلدی سے بولی 


اس کا چھوٹا بھائی ہوسٹل میں رہتا ہے سر اس سے ہر دو ہفتے بعد حور ملنے جاتی ہے ۔۔۔۔


شاہزین نے اس کی بات سن کر مزید پوچھا 


کیا اس کے ماں باپ نہیں ہے ؟ 


نہیں سر وہ اور اس کا چھوٹا بھائی ہی ہیں اور رشتے داروں میں کوئی نہیں ہے 


رزیہ نے جواب دیا تو شاہزین نے اسے جانے کا شارہ کیا تو رزیہ کمرے سے چلی گئی 


شاہزین نے سگریٹ سلگائی اور بیڈ پر بیٹھتے ہوئے حور کے بارے میں سوچنے لگا تھا اب صرف ایک چیز رہ گئی تھی وہ تھا حور کا رنگ جو اس نے دیکھنا تھا۔۔۔۔


ماضی : 


ہاشم اپنے ماں باپ کی وفات پر حویلی واپس آیا تو حورالعین اور حیدر کو ضد کر کے واپس اپنے ساتھ شہر والے گھر میں لے گیا وہ ان دونوں کو بے حد چاہتا تھا اور اب انہیں کھونا نہیں چاہتا تھا 


احد صاحب تو حورالعین اور حیدر کو اپنے ساتھ ہی حویلی رکھنا چاہتے تھے کیونکہ ان کے مطابق رمنا بیگم ان دونوں کی اچھی تربیت کر سکتی تھیں جبکہ ہاشم کے پاس اتنا وقت نہ تھا کیونکہ اس نے اپنا نیا بزنس بھی شروع کیا تھا ہاشم خود گرز ہو کر اپنی تنہائی کو دور کرنے کے لیے حورالعین اور حیدر کو اپنے ساتھ شہر لے گیا جبکہ وہاں جاکر تو اس کے پاس ان کے ساتھ گزارنے کے لیے بلکل بھی وقت نہ ہوتا تھا 


ارقم اور علیشبہ حور اور حیدر کے جانے کے بعد اداس ہوگئے تھے مگر وہ بھی کیا کرسکتے تھے۔۔۔ اور تب علیشبہ دل ہی دل میں ہاشم کی پرسنیلٹی سے مرعوب تھی شاید محبت کی پہلی کونپل اس کے دل کی سرزمین پر اگنے والی تھی 


ہاشم کی دوستی احمر زمان سے یونیورسٹی میں آکر ہوئی تھی اور دونوں ایک دوسرے کے جگری یار تھے احمر ہاشم کے ہر مشکل وقت میں ساتھ تھا 


حورالعین نے جب ہاشم کو حیدر اور خود پر توجہ دیتے نہ دیکھا تو وہ حیدر کو اپنے ساتھ ساتھ رکھتی اس کا ہر کام خود کرتی تھی دونوں ایک دوسرے کی جان تھے 


ہاشم ان سے صرف ڈنر پر یا پھر ناشتے پر ہی بات کرتا تھا وہ بھی اگر کبھی گھر ہوتا۔۔۔۔۔ 


اس کے رویہ سے وہ دلبرداشتہ ہوکر ایک دن حورالعین نے ہاشم سے بات کرنے کا فیصلہ کیا ہاشم اس وقت اپنے کمرے میں تھا جب وہ اس کے کمرے میں داخل ہوئی 


بھائی مجھے آپ سے بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔ حور ہاشم کے پاس جاکر بولی جو بیڈ پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر کچھ کر رہا تھا اسے دیکھ کر ہاشم نے اپنا لیپ ٹاپ بند کیا اور اسے اپنے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا 


ہاں کیا بات کرنی ہے عینی سب ٹھیک تو کوئی پریشانی تو نہیں بچے ۔۔۔۔۔


جی ۔۔۔ بھائی سب ٹھیک ہے میں ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔ ہادی (حیدر) اور میں واپس ح۔۔۔۔۔حویلی جانا چاہتے ہیں ہمارا یہاں دل نہیں لگتا ۔۔۔۔۔


حورالعین ڈرتے ڈرتے بولی تو اس کی بات سن کر ہاشم غصے سے بولا


کبھی بھی نہیں اب تم لوگ میرے ساتھ یہاں ہی رہو گے اور تم لوگوں کو یہاں کسی چیز کی کبھی کمی نہیں ہوئی تو واپس کیوں جانا چاہتے ہو ؟


بھائی جو چیزیں یہاں ہمیں ملتی ہیں وہ حویلی میں بھی مل جاتی ہیں مگر بات چیزوں کی نہیں بات محبت اور توجہ کی ہے جو ہمیں حویلی میں ملتی ہے آپ کے پاس تو ہمارے ساتھ وقت گزارنے کا ٹائم بھی نہیں ہے یہاں تک کہ ڈنر بھی آپ کبھی کبھار ہی ہمارے ساتھ کرتے ہیں 


حور کی بات سن کر ہاشم کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا اور وہ اس سے بولا 


بچے میں تھوڑا مصروف تھا اس وجہ سے آپ دونوں کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ہی نہیں ملتا تھا لیکن اب سے میں آپ لوگوں کے ساتھ ہی وقت گزاروں گا اور موم اور ڈیڈ کے جانے کے بعد میں تم دونوں کو خود سے دور نہیں کرنا چاہتا بچے اس وجہ سے مجھے ایک موقع دو تم لوگوں کو مجھ سے اب بلکل بھی شکایت نہ ہوگی 


ہاشم کی بات سن کر حور بولی 


ٹھیک ہے بھائی ۔۔۔۔۔۔


اس کے بعد ہاشم حور اور حیدر کے ساتھ وقت گزارنے لگا تھا ان کا ہر طرح کا خیال خود رکھتا تھا۔۔۔۔


حال :


ڈنر کے بعد شاہزین نے عینی کو اپنے کمرے میں موجود پانی کا جگ بھر کر لانے کا کہا اور اپنے کمرے میں جا کر اس کا انتظار کرنے لگا


عینی پانی کا جگ اس کے کمرے میں رکھنے آئی اور جگ کو اس کی جگہ پر رکھنے لگی کہ شاہزین نے آگے بڑھ کر اس سے جگ پکڑتے ہوئے اس کے ہاتھ پر ہلکا سا پانی گرایا تو عینی نے اپنے ہاتھ پر پانی گرتے ہوئے محسوس کر کے بوکھلا گئی اور جلدی اپنا ہاتھ اپنے دوپٹے کے پیچھے کر لیا 


جبکہ شاہزین کی تیز نظروں نے اس کے ہاتھ کی رنگت کو ویسے ہی دیکھا مگر اس کا گھبرانا وہ صاف محسوس کر چکا تھا جس سے اس کو کچھ گڑبڑ لگی مگر اس نے ایسے ظاہر کروایا کہ جیسے غلطی سے پانی گرا ہو 


عینی اس کی بات سنے بغیر جلدی سے کمرے سے باہر چلی گئی اس نے شکر ادا کیا کہ اس نے واٹر پروف فاؤنڈیشن استعمال کیا تھا ورنہ اس کا راز آج شاہزین کو پتا چل جانا تھا.


💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖


ہاشم اپنے آفس میں بیٹھا تھا جب ایک شخص اس کے آفس میں داخل ہوا اور ہاشم کے اشارے پر اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے ایک فائل اس نے ہاشم کی طرف بڑھائی جسے ہاشم نے پکڑا اور اس میں موجود حمنا کی مختلف جگہ لوگوں کے ساتھ لی گئیں تصویریں تھیں 


ایک تصویر پر تو اس کا خون ہی کھول اٹھا جس میں حمنا تنگ سا لباس پہنے کلب میں موجود تھی ۔۔۔۔۔


ایک تصویر میں وہ شاہزیب کے ساتھ ریسٹورنٹ میں بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔


ایک تصویر اس کی اپنی دوستوں کے ساتھ تھی ایسی کئی بہت سی تصویریں اس فائل میں موجود تھی 


ہاشم نے فائل بند کرکے اپنے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا اور چیک لکھ کر اسے دیا اور اسے مزید حمنا پر نظر رکھنے کا کہ کر اسے جانے کا اشارہ کیا اور اپنی کرسی کو موڑتے ہوئے سگریٹ سلگا کر حمنا کے بارے میں سوچنے لگا


وہ جب اس سے ملا تھا تو وہ اسے بےحد معصوم لگی تھی مگر اب اسے احساس ہو رہا تھا وہ اس کے سامنے کچھ اور ہے اور اس کا اصل چہرہ کچھ اور ہے 


اس نے سگریٹ کا کش لیتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کی تو اسے حورالعین اور ہادی کا معصوم چہرہ دکھا اور ان کی آوازیں اس کے کانوں میں گونجنے لگیں


بھائی پلیز ۔۔۔ہمیں گھر سے مت نکالیں ہم کہاں جائیں گے ۔۔۔۔


بھائی میں نے ایسا نہیں کیا ۔۔۔۔۔


بھائی حیدر کو رکھ لیں اپنے ساتھ میں چلی جاؤں گی ۔۔۔۔


بھائی اپی نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔۔


اس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور غصے سے اپنے میز پر موجود چیزیں ہاتھ مار کر نیچے گرادیں وہ ان کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا تھا حمنا کی بات پر اندھا یقین کر کے اس نے اپنے ہی بہن بھائیوں کو گھر سے نکال دیا 


اب اتنے مہینوں بعد اسے احساس ہو رہا تھا کہ اس نے اپنے ہی بہن اور بھائی کو گھر سے نکال دیا ہے کیوں ؟! کس کی باتوں میں آکر ؟! وہ اتنا بچا تو نہ تھا کہ سچ جھوٹ کا پتا نہ لگا سکے ۔۔۔۔۔۔


وہ اضطراب کی کیفیت میں اپنی کرسی سے اٹھا اور آفس سے باہر نکل کر سڑکوں کی خاک چھاننے چلا گیا وہ بھی اپنے مطلب یعنی اپنے سکون کے لیے ۔۔۔۔۔۔


علیشبہ اور شفق اس وقت مال میں موجود شاپنگ کر رہے تھے شاپنگ کم اور آوازہ گردی وہ دونوں زیادہ کر رہی تھی 


شفق نے عالی کو کچھ نئے ڈیزائن کے کپڑے لے کر دیے جبکہ خود کے لیے اس نے جینز اور شرٹس خریدیں۔۔۔۔ 


اب وہ دونوں تھک کر بھوک سے نڈھال ہو کر کچھ کھانے کے لیے پیزا شاپ میں گئے 


چونکہ عالی کو ارقم نے اسی جگہ میں ملنا تھا تو وہ دونوں پیزا کھا کر آرام سے بیٹھی اب آئس کریم کھا رہی تھیں جب ارقم انھیں ڈھونڈ کر ان کے ساتھ بیٹھا اور عالی سے پوچھا


عالی اگر شاپنگ کر لی ہے تو چلیں مجھے ایک ضروری لام سے جانا ہے ۔۔۔۔۔۔


ہاں بھائی کر لی ہے بس یہ آئس کریم کھالوں پھر چلتے ہیں ۔۔۔۔۔


علیشبہ نے منہ میں آئس کریم ڈالتے ہوئے کہا جبکہ ارقم کے آنے سے شفق خاموش ہی بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔ ویسے بھی وہ ارقم سے بول کر اپنی بےعزتی نہیں کروانا چاہتی تھی ۔۔۔


عالی تھوڑی دیر اور رک جاؤ میرے ڈرائیور نے تھوڑا لیٹ آنا ہے اس نے راستے میں سے ڈیڈ کی کوئی میڈسن لینی ہے۔۔۔۔


شفق نے علیشبہ سے کہا تو عالی جھٹ سے بولی ۔۔۔۔۔


تم فکر مت کرو بھائی اور میں تمھیں گھر چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔کیوں بھائی آپ چھوڑ دیں گے نہ۔۔۔۔۔


ہممم چھوڑ دو گا لیکن پھر تھوڑا جلدی کرو ۔۔۔۔


ارقم اپنے موبائل پر میسج لکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔


لیکن تم لوگوں کو دیر ہوجائے گی تم چلی جاؤ میں انتظار کر لوں گی 


شفق علیشبہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولی اور تو جواب ارقم کی طرف سے آیا۔۔۔


جب میں نے کہہ دیا ہے کہ چھوڑ دوں گا پھر اتنے نخرے کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔۔


عالی میں پارکنگ لاٹ میں تمھارا انتظار کر رہا ہوں اگر تمھاری دوست کے نخرے ختم ہوجائیں تو اسے لے آنا ۔۔۔۔


ارقم اپنی کرسی سے اٹھتا ہوا بولا ۔۔۔


شفق نے اس کی بات سن کر اسے جاتے ہوئے دیکھ ایک گھوری سے نوازا اور کچھ سوچتے ہوئے بولی۔۔۔


عالی چلو میں تم لوگوں کے ساتھ ہی جاؤں گی ۔۔۔۔۔۔ آخر کو تمھارے بھائی کو ابھی نخرے بھی دکھانے ہیں ۔۔۔۔۔


عالی نے اس کی بات سن کر ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھا تو شفق نے اسے چلنے کا اشارہ کیا تو اس کی بات کو نظر انداز کر کے عالی اس کے پیچھے چل پڑی ۔۔۔۔


چونکہ پہلے علیشبہ اور ارقم کا گھر آتا تھا اس وجہ ارقم نے پہلے علیشبہ کو گھر چھوڑنے کا سوچا چونکہ اس گھر میں گاؤں کے ملازم کام کرتے تھے اور وہ سب وفادار تھے اس وجہ سے اسے علیشبہ کو گھر اکیلے چھوڑنے کی فکر نہیں تھی 


گھر کے سامنے آکر ارقم نے گاڑی روکی تو علیشبہ شفق سے مل کر گاڑی سے نکل گئی چونکہ عالی ارقم کے کہنے پر فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی اب عالی کے جانے کے بعد فرنٹ سیٹ خالی ہوئی تو ارقم نے شفق کو آگے آکر بیٹھنے کا یہ کہہ کر کہا کہ وہ اس کا ڈرائیور نہیں اس لیے چپ چاپ آگے آکر بیٹھ جائے وہ بھی خاموشی سے اگلی سیٹ پر آکر بیٹھ گئی۔۔۔۔


 ارقم نے اسے ایڈریس دوبارہ پوچھا تو شفق نے اپنی شرارت سے چمکتی آنکھوں سے اسے جواب دیا 


جو ایڈریس شفق نے دیا تھا وہ ان کے گھر سے ایک گھنٹے کے فاصلے پر تھا مگر وہ یہ سوچ کر پرسکون تھا کہ اس نے وہاں ہی جانا تھا شفق کے بتائے گئے ایڈریس پر ارقم نے گاڑی روکی تو شفق جلدی سے معصوم صورت بنا کر بولی۔۔۔۔


یہ آپ مجھے کہاں لے آئے ہیں میرے گھر یہ تو نہیں بلکہ یہ علاقہ بھی نہیں ہے میرے گھر کا ۔۔۔۔۔


یہ ایڈریس تم نے ہی بتایا تھا اب چلو اترو اور نکلو گاڑی سے باہر 


اس کی بات سن کر ارقم نے اسے خونخوار نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔


یہ جگہ تم نے ہی بتائی تھی اب شرافت سے باہرنکلو اور اپنے گھر جاؤ۔۔۔۔


ارقم کی بات سن کر وہ تھوڑا پریشان ہوگئی کہ اب گھر کیسے جائے گی وہ ارقم کی طرف دیکھ کر معصومیت سے بولی۔۔۔۔


میرا گھر پچھلے بلاک میں ہے پلیزززز۔۔۔۔ مجھے وہاں چھوڑ آئیں ۔۔۔۔۔


پلیز لفظ پر تو خاصا زور دیا شفق نے ۔۔۔۔۔۔


اس کی بات سن کر ارقم نے ایک نظر اپنی گھڑی پر ٹائم دیکھا اور اس سے غصے سے بولا 


اب مجھے صحیح ایڈریس دو اس سے پہلے کہ میں تمھیں گاڑی سے باہر پھینک دوں۔۔۔۔۔۔


شفق نے اس کی غصے سے بھری آواز سن کر اسے جلدی سے اپنے گھر کا صحیح پتا بتایا وہ اسے بس تنگ کرنا چاہتی تھی اور وہ کربھی چکی تھی 


اس کو گھر چھوڑ کر ارقم اپنے ایک دوست زوریز سے ملنے گیا جسے اس نے حور اور حیدر کو ڈھونڈنے کا کہا تھا


ارقم زوریز سے ہاتھ ملا کر اس کے سامنے کرسی پر بیٹھا اور اس سے حور اور حیدر کے متعلق پوچھا۔۔۔۔۔


میں ان کو ڈھونڈنے کی پوری کوشش کر رہا ہوں مگر کسی دارالامان میں بھی ان کا نام و نشان نہیں اور سب سے بڑی بات وہ اپنے کسی دوست کے گھر بھی نہیں گئے اور نہ ہی کسی ہوٹل میں ان کے نام کی اینٹری ہے ۔۔۔۔۔


زوریز بولتا ہوا رکا اور پھر مزید بولا۔۔۔۔


ارقم مجھے ڈر ہے کہ کہیں کسی گینگ وغیرہ نے نہ انھیں پکڑ لیا ہو تم جانتے ہو نہ آج کل کتنا یہ سب کچھ عام ہے اور وہ تھی بھی اکیلی حیدر کے ساتھ۔۔۔


بس ۔۔۔۔ میں یہ فضول باتیں سننا بھی نہیں چاہتا تم ان کو ڈھونڈنے کی کوشش جاری رکھو مجھے امید ہے تم کامیاب ہو جاؤ گے ۔۔۔۔۔


ارقم زوریز کی بات سن کر ضبط سے بولا ورنہ اس کا دل کر رہا تھا کہ ہاشم کو جاکر شوٹ کردے جس نے ایک بھی مرتبہ انھیں گھر ست نکالتے یہ نہ سوچا کہ وہ کہاں جائیں گے ۔۔۔۔۔


تم فکر مت کرو میں نے اپنے جاننے والے لوگوں سے کہا ہوا ہے جیسے ہی ان کی خبر ملے گی میں سب سے پہلے تمھیں ہی بتاؤ گا۔۔۔۔


زوریز اس کا سرخ چہرہ دیکھتے ہوئے بولا 


ہممم ۔۔۔ ٹھیک ہے پھر میں چلتا ہوں بعد میں ملاقات ہوتی ہے جیسے ہی ان کے بارے میں کوئی بھی خبر ملے تم فورا مجھے بتاؤ گے 


ارقم کرسی سے اٹھتا ہوا بولا تو زوریز نے اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے اپنا سر ہلایا ۔۔۔۔۔


ماضی : 


ہاشم حورالعین اور حیدر کے ساتھ تین ماہ بعد ایک چکر حویلی لگا آتا تھا اس کی ملاقات وہاں علیشبہ اور ارقم سے ہوتی تو ان کے ساتھ بھی وہ اچھا وقت گزار لیتا تھا 


علیشبہ آہستہ آہستہ ہاشم کو پسند کرنے لگی اور اپنے احساسات کے بارے میں وہ اپنی ایک ڈائری میں لکھنے لگی مگر ہاشم تو اسے بس اپنی کزن سمجھ کر ہی تھوڑی بات کر لیتا تھا جس سے وہ خوش ہو جایا کرتی تھی 


اسی طرح تین سال گزر گئے تھے ہاشم ایک دفعہ ایک پارٹی میں گیا تو وہاں اس کی ملاقات حمنا سے ہوئی حمنا کونے میں کھڑی تھی جب ہاشم نے اسے پہلی دفعہ دیکھا تھا اسے وہ پہلی ہی نظر میں پسند آگئی تھی 


اس ملاقات کے بعد اکثر جگہوں پر اس کا ٹکراؤ حمنا سے ہونے لگا پہلے دوستی ہوئی اور اس کے بعد کب محبت ہوئی اسے پتا نہ چلا 


پھر اس نے چھ ماہ بعد حمنا کو شادی کے لیے پرپوز کیا جو اس نے اسی وقت قبول کر لیا تھا 


ہاشم نے سب سے پہلے فون کر کے حویلی میں احد صاحب کو اطلاع دی اس بارے میں اور پھر حور کو بتایا کہ وہ جلد ہی شادی کرنے لگا۔۔۔۔


احد صاحب ہاشم کی بات سن کر تھوڑا افسردہ ہوگئے انھوں نے علیشبہ کے لیے ہاشم کو ہی سوچ رکھا تھا 


جب احد صاحب کمرے میں بیٹھے رمنا بیگم کو یہ بتا رہے تو کمرے کے باہر سے گزرتی علیشبہ نے ساری بات سن لی 


ان گزرے ماہ و سال میں وہ ہاشم سے محبت کرنے لگی تھی مگر اسے کیا پتا تھا کہ وہ اس کا نصیب نہیں تھا اس دن وہ اپنے کمرے میں رہ کر بے حد روئی اور اس نے اپنی ڈائری کے آخری صفحے پر اس محبت کا اختتام لکھ کر ڈائری اپنی الماری میں موجود ایک ڈبے کے اندر رکھ دی۔۔۔۔۔


 ہاشم نے احد صاحب سے کہہ کر حمنا کے والدین سے بات کر کے دو ماہ کے دوران ہی شادی کر لی 


ہاشم شادی کے بعد بے حد خوش رہنے لگا اور اب اپنا زیادہ سے زیادہ وقت بھی وہ حمنا کے ساتھ گزارتا حور اور حیدر کو تو وہ جیسے بھول ہی گیا تھا جب وقت ملتا تو ان سے بات کر لیتا ورنہ ہاشم نے انھیں ان کے حال پر چھوڑ رکھا تھا


علیشبہ ہاشم کی شادی کے بعد خاموش ہی رہنے لگی لیکن کیوں یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔


ہاشم کی شادی کے ایک سال بعد جب علیشبہ نے انٹر پاس کر لیا تو اگے پڑھائی کرنے سے انکار کر دیا انھی دنوں میں اس کے لیے دوسرے گاؤں کے سرادار کے بیٹے کا رشتہ آیا جو ان سب کو پسند آیا اور علیشبہ کی رضامندی سے اس کی شادی عمر سے طے پا گئ


احد صاحب کے کہنے پر ہاشم نے حور اور حیدر کو پہلے ہی گاؤں بھجوا دیا تھا اور خود شادی سے ایک دن پہلے حمنا کے ساتھ گاؤں آیا 


علیشبہ کی مہندی تھی جب رمنا بیگم نے حمنا سے علیشبہ کے کمرے میں موجود الماری سے سرخ دوپٹہ لانے کا کہا جو ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی


حمنا نے الماری کھول کر جیسے ہی دوپٹہ نکالا تو اس کے نیچے موجود کپڑوں میں سے ایک ڈائری گری اس نے ویسے ہی وہ اٹھا کر کھولی اور پہلا صفحہ ہی پڑھا تو اس کے تن بدن میں شرارے سے دوڑنے لگے علیشبہ کی ہاشم کے بارے میں محبت جان کر وہ اس سے بلا شبہ زیادہ خوبصورت تھی مگر حمنا نے خود کو زیادہ مینٹین کیا ہوا تھا جس سے وہ خوبصورت دکھتی تھی 


اس نے غصے میں جا کر سب کے سامنے علیشبہ کے کردار پر الزام لگانا شروع کیے اور اسے بدکردار اور پتا نہیں کیا کہنے لگی ارد گرد لوگوں کو اکٹھے ہوتے دیکھ ہاشم حمنا کے پاس آیا اور اس سے وجہ پوچھی تو اس نے سب کے سامنے علیشبہ کے سامنے اس کی ڈائری پھینکی جبکہ ڈائری دیکھ کر ہاشم نے ایک ناگورا نظر علیشبہ پر ڈالی جو مہندی کی دلہن بنی آنسو بہارہی تھی اس نے تو کبھی ایسا نہ سوچا تھا 


حمنا اسے برا بھلا کہہ کر جب خاموش ہوئی تو دوسرے گاؤں سے شگن کی چیزیں دینے آیا لڑکے کے بھائی نے سب سن کر اپنے گھر والوں کو اطلاع دی تو انھوں نے ساتھ ہی رشتہ ختم کرنے کا کہا


احد صاحب نے غصے میں ہاشم اور حمنا کو حویلی سے بے دخل کر دیا جبکہ ساتھ ہی حور اور حیدر کو بھی ہاشم کے ساتھ بھیج دیا 


یہ بات پورے گاؤں میں آگ کی طرح پھیل گئی تھی ارقم کو بھی ہاشم اور اس کی بیوی سے بے حد نفرت محسوس ہوئی وہ تو موقع پر ہی حمنا کو قتل کر دیتا جس نے اس کی بہن پر گھٹیا الزام لگائے تھے مگر اسے احد صاحب نے روک دیا تھا 


اس واقعہ کے بعد علیشبہ اپنے کمرے میں بند ہوگئی۔۔۔۔۔


حال : 


شاہزین نے اپنے کمرے سے انیکسی میں حور کے کمرے کی لائٹ جلتی دیکھی تو اسے دیکھنے کے لیے انیکسی کی طرف جانے لگا۔۔۔


اس نے حور کے کمرے کے قریب جا کر آہستہ سے کمرے کی کھڑکی سے اندر جھانکا تو اسے حور کہیں دکھائی نہ دی وہ واپس جانے کے لیے مڑنے لگا کہ اسے حور واشروم سے نکلتے ہوئے دکھائی دی 


وہ اسے دیکھ کر اپنی جگہ ساکت رہ گیا وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی میک اپ دھونے کے بعد اس کا اصل سفید رنگ دکھائی دے رہا تھا شاہزین نے اس کی آنکھوں کو غور سے دیکھا تو سبز رنگ کی آنکھیں دیکھ کر اس کا دل زور سے دھڑکا 


اس کا شک یقین میں بدل گیا تھا اسے تنگ کرنے کا ارادہ اب اس کا اور پختہ ہوگیا تھا جسے سوچ کر اس کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ نمودار ہوئی اور وہ آہستہ سے کھڑکی سے ہٹ کر گھر کے اندر چلا گیا

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

Lo g shahzain ko pata lg gya.....ab ye kya kare ga us be6ari k saath.....

Next 7 baje aayegi.....

Post a Comment

0 Comments