#Most_Romantic 

#Forced_Marriage

#Rude_hero 

#innocent_heroin 


ستمگر_محبوب_میرا

زنور_رائیٹس

قسط_نمبر_2


💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖


تم چاہتے ہو میں یہ ڈیل چھوڑ دو ۔۔۔۔۔ ایک ایسی وجہ بتاؤ جس کے بدلے میں تمھیں یہ ڈیل دے دوں 


ہاشم نے ٹانگ پر ٹانگ جمائے اپنی کرسی پر بیٹھا سگریٹ پیتے ہوئے اپنے سامنے موجود احمر زمان سے پوچھا 


تم جانتے تھے کہ ہمیں لوس ہو رہا ہے اور ہمارے لیے یہ ڈیل کتنی ضروری ہے مگر پھر بھی تم نے یہ ڈیل لی کم از کم یہ ہی لحاظ کر لیتے کے کبھی ہم دوست بھی تھے اور شاید تم بھول گئے ہو تمھارے مشکل وقت میں میں نے تمھارا کتنا ساتھ دیا تھا اسی احسان کا بدلہ چکانے کے لیے وہ ڈیل ہماری کمپنی کو دے دو 


احمر نے ہاشم کو دیکھتے ہوئے کہا جو کبھی اس کا جگری دوست ہوا کرتا تھا مگر جب دوستی میں اعتبار ختم ہو جائے تو غلط فہمیاں جنم لینے میں دیر نہیں لگتیں ان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا اور مگر اب وہ اسے اپنے سامنے ایک ڈیل کی بھیک مانگنے پر مجبور کر رہا تھا اگر اپنے گھر والوں کی فکر نہ ہوتی تو وہ کبھی بھی یہاں موجود نہ ہوتا مگر وہ پھر بھی اپنی ڈوبتی کمپنی کو بچانے کے لیے پوری کوشش کرنا چاہتا تھا 


مجھے پوری امید تھی کہ تم مجھ سے ضرور ملنے آؤ گے آخر کو یہ ڈیل تمھاری کمپنی کو بچانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے میں کبھی بھی یہ ڈیل تمہیں نہ دیتا مگر تم جیسے کم ظرف انسان نے اپنا احسان یاد دلا دیا ہے تو اس کے بدلے میں یہ ڈیل تمھاری ہوئی مگر آئندہ کے بعد مجھے اپنی شکل بھی مت دکھانا اب دفعہ ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔


ہاشم کی سرد آواز اس کے کانوں میں پڑی تو اس کی ڈیل والی بات سن کر جہاں اسے خوشی محسوس ہوئی وہاں اس کی اگلی بات اسے دکھی کر گئ 


کرسی سے اٹھ کر اپنا سر نفی میں ہلا کر وہ ہاشم کی طرف دیکھتا ہوا بولا 


تم جو مرضی کہہ لو مجھے فرق نہیں پڑتا لیکن اگر زندگی کے کسی بھی موڑ پر تمھیں کسی سہارے کی ضرورت ہو تو یاد رکھنا تمھارا یہ دوست تب بھی تمھارے ساتھ ہوگا اور مجھے یقین ہے جب تمھیں حقیقت کا اندازہ ہوگا تو تم ضرور میرے پاس آؤ گے یہ میرا وعدہ ہے تم سے اللہ حافظ


اپنی بات مکمل کر کے احمر اس کا جواب سنے بغیر باہر چلا گیا 


ہاشم نے اس کی بات سن کر غصے سے اپنے ہاتھ میں موجود پیپر ویٹ زمین پر دے مارا مگر غصہ تھا کہ کم ہی نہیں ہو رہا تھا اس نے جان بوجھ کر یہ ڈیل لی تھی تاکہ وہ اس کے پاس آکر ڈیل لینے کے لیے منتیں کرے اور اس کی آنا کو سکون ملے مگر وہ تو اس کو اور بے چین کر گیا تھا 


وہ کھڑکی میں کھڑی ہلکی ہلکی بارش ہوتی دیکھ رہی تھی اور ہاتھ میں چائے کا کپ پکڑے کھڑی تھی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کھولی کھڑکی سے اس کے وجود سے ٹکڑا رہے تھے اب بارش تیز ہونا شروع ہوگئی تھی اور بارش اسے بھی بگھو رہی تھی بارش کے مسلسل پڑتے قطروں کے وجہ سے وہ کھڑکی کو بند کرکے اپنے بیڈ پر بیٹھ کر ٹیک لگا کر آنکھیں موند گئی


اسے آج پھر اس ستمگر کی یاد آگئی تھی جس نے اس کے وجود کی نفی کرنے میں زرا بھی دیر نہ لگائی تھی اور اس ستمگر کی بیوی نے جو اسے بھرے مجمے میں زلیل کیا اس کی وجہ سے کوئی اس سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ سب کے مطابق وہ لڑکوں پرڈورے ڈالتی تھی اس نے تو کبھی اس ستمگر سے اپنی محبت کا اعتراف بھی نہ کیا تھا ابھی وہ کچھ اور سوچتی کوئی دروازہ کھول کر اس کے کمرے میں آیا


عالی (علیشبہ) میری جان کیا کر رہی ہو؟


رمنا بیگم کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی 


امی جان کچھ بھی نہیں کر رہی میں بس بارش انجوائے کر رہی تھی پھر بارش تیز ہوگئی تو سوچا اب تھوڑی دیر آرام کر لوں آپ کو کوئی کام تھا 


علیشبہ رمنا بیگم سے بولی جو اب اس کے قریب بیٹھ گئ تھیں 


میں نے تمھارے بابا سے بات کی تھی وہ چاہتے ہیں تم اپنی سٹڈی دوبارہ شروع کرو آخر کب تک یوں ہی اس کمرے میں بند رہو گی جو ہوگیا ہے اسے بھول جاؤ عالی اپنی زندگی میں آگے بڑھو بیٹا۔۔۔


اب ایک سال سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے تم حویلی سے کبھی باہر بھی نہیں گئ اور کمرے سے بھی جب بہت ضروری کام ہوتا ہے تب نکلتی ہو میں اور تمھارے بابا تمھارے لیے بہت پریشان ہیں عالی اور تمھارا بھائی ارقم بھی تمھارے لیے فکر مند رہتا ہے وہ بھی چاہتا ہے کہ تم ان سب سے باہر آجاؤ اور اپنی زندگی میں آگے بڑھو۔۔۔۔


رمنا بیگم علیشبہ کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولیں 


ٹھیک ہے امی بھائی کو کہیں میرا ایڈمیشن کروا دیں میں بھی دوبارہ اپنی سٹڈیز شروع کرنا چاہتی ہوں اور آپ لوگ میری فکر مت کیا کریں وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہو جاؤں گی۔۔۔۔۔


علیشبہ رمنا بیگم کی گود میں سر رکھتے ہوئے بولی 


شاباش میری جان میں بہت خوش ہوں تمھارے اس فیصلے سے اور تمھارے بابا اور بھائی بھی سن کر بہت خوش ہوں گے 


رمنا بیگم اس کے ماتھے پر بوسہ دیتی خوشی سے بولی


عینی ہادی کا ایڈمیشن کروا کر ابھی واپس آئی ہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی اس نے اپنے سر پر دوپٹہ ٹھیک کیا اور دروزہ کھولنے چلی گئی دروازہ کھولا تو سامنے ساتھ والے گھر سے اماں جنت کھڑی تھی 


اسلام علیکم بیٹا کیسی ہو ؟ ۔۔۔۔۔


اماں جنت گھر میں داخل ہوتے ہوئے بولیں


الحمداللہ اماں میں ٹھیک ہو آپ کیسی ہیں ؟


 عینی نے جواب دیتے ہی ان سے بھی حال پوچھ ڈالا اور ساتھ ہی ہادی کو اشارے سے جوس لینے بھیجا 


میں بھی ٹھیک ہوں بیٹا ادھر آ میرے ساتھ بیٹھ مجھے تجھ سے ایک بات کرنی ہے 


اماں کی بات سن کر عینی ان کے ساتھ بیٹھ گئی تو اماں بولی 


تم نے بتایا تھا کہ تمھیں پیسوں کے لیے کام کی ضرورت ہے تو میں تمہارا لیے ایک کام لائی ہوں میری ایک جاننے والی ایک بڑے گھر میں کام کرتی ہے ان کے گھر کی چھوٹی بیٹی کی ٹانگ ٹوٹ گئ ہے اس کے کام کے لیے انھیں ایک لڑکی کی ضرورت ہے جواس کے سارے کام کر سکے اور دیکھ بھال کر سکے میں نے تیرا بتایا تھا تو وہ کہہ رہی تھی کہ صبح وہ آئے گی اگر تم نے کام کرنا ہوا تو وہ تجھے ساتھ لے جائے گی اب تو بتا تو کام کرنا چاہتی ہے ؟ کام ستھرا ہے اور پیسے بھی بہت اچھے ملیں گے ۔۔۔۔۔۔


عینی ان کی بات سن کر سوچ میں پڑگئ اسے یہ کام اچھا لگا تھا اس لیے اماں کو فورا بولی 


اماں ٹھیک ہے کل جب وہ آئے گی تو مجھے اپنے ساتھ لے جائے 


اس کے جواب دینے کے بعد ہی ہادی اماں کے لیے جوس لے آیا 


خوش رہ بیٹا اماں جوس پیتی ہوئی بولی وہ کچھ دن پہلے ان سے ملی تھی تب عینی نے انھیں کسی کام کے لیے کہا تھا تعلیم تو اس کی ابھی پوری تھی نہیں جو اسے کوئی نوکری دیتا اسی وجہ سے وہ لوگوں کے گھر کام کرکے اپنی تعلیم دوبارہ شروع کرنا چاہتی تھی اس نے اسی سال بی ایس میں ایڈمیشن لیا تھا مگر اب پیسے نہ ہونے کی وجہ سے وہ پرائیوٹ پڑھنے کا سوچ رہی تھی۔۔۔۔ 


اور سب سے بڑی ٹینشن تو اسے ہادی کی تھی پہلے ہفتے تو وہ یہاں رہ کر بیمار پڑگیا تھا مگر اس نے ایک دفعہ بھی اس سے شکایت نہ کی ابھی وہ ساتویں میں پڑھتا تھا مگر اتنا سمجھدار ضرور تھا کہ کسی بھی چیز کی شکایت نہ کرتا وہ جیسی بھی روٹی بنا کر دے دیتی آرام سے کھا لیتا۔۔۔۔۔ ہادی میں اس کی جان تھی وہ دوجسم اور ایک جاں تھے عمر میں فرق ہونے کے باوجود بھی دونوں کی خوب بنتی تھی


شاہزین جو ابھی یونیورسٹی سے آکر شفق کے کمرے میں آیا تھا اسے روتا دیکھ فورا اس کے قریب آیا 


کیا ہوا ہے شفی کیوں رو رہی ہو ؟ درد ہو رہا ہے تو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔۔۔۔۔


وہ پریشان سا شفق کو روتا دیکھ بولا قریب ہی ملازمہ دوائی ہاتھ میں لیے کھڑی تھی اس سے دوائی پکڑ کر اسے جانے کا کہا


بھائی درد ہو رہا ہے میری ٹانگ میں اور میں آپ سے ناراض ہوں آپ اب آئے ہیں مجھ سے ملنے میں پورے ایک دن ہوسپٹل رہ کر آئی ہوں مگر آپ مجھے دیکھنے نہ آئے 


شفق روتی ہوئی سوں سوں کرتی بولی۔۔۔۔۔۔


بھائی کی جان آج ہی بھائی کو پتا چلا ہے اور میں آپ سے ملنے صبح آیا بھی تھا مگر آپ سوئی ہوئیں تھیں اسی وجہ سے واپس چلا گیا سوچا آکر مل لوں گا اور فورا سے یہ دوائی کھاؤ تاکہ درد کم ہو اور مجھے بتاؤ ڈاکٹر نے کیا کہا


شاہزین اسے اپنے ساتھ لگاتے اس کے آنسوں صاف کرتے بولا ہوئے بولا اور اس کے آگے دوائی اور پانی کیا 


شفق نے برا سا منہ بنا کر دوائی کھائی اور اسے تفصیل بتانے لگی 


ڈاکٹر نے کہا ہے ٹانگ ٹوٹی نہیں مگر گرنے کی وجہ سے زور زیادہ پڑ گیا ہے اور دو جگہ فریکچر بھی آیا ہے اس لیے دو مہینے چلنے پھرنے سے احتیاط کرنے کا کہا اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ بابا نے آپ سے میری ٹانگ ٹوٹنے کا کیوں کہا تو اس کا جواب یہ ہے کہ میں نے ہی بابا سے آپ کو ایسا کہنے کا کہا تھا 


وہ جو اس کی بات سن کر تیمور صاحب کی بات کا سوچ رہا تھا کہ انھوں نے شفق کی ٹانگ ٹوٹنے کا کیوں کہا تو اس کا جواب بھی شفق نے دے دیا اس نے شفق سے مصنوئی غصہ سے کہا 


آپ کو پتا ہے کہ میں یونیورسٹی میں آپ کی وجہ سے پورا دن پریشان رہا ہوں 


ہاں تو آپ بھی تو مجھ سے ملنے نہیں آئے حساب برابر ۔۔۔۔ 


شفق بولی تو اس کی بات سن کر شاہزین نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلایا جیسے کہہ رہا ہو تمھارا کچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔


تیمور صاحب شہر کے جانے مانے بزنس مین ہیں ان کی شادی ان کی پسند کی لڑکی سحر بیگم سے ہوئی ان کے دو بچے ہیں پہلا شاہزین اور اس سے پانچ سالہ چھوٹی شفق ۔۔۔۔۔۔


شاہزین کا گورا رنگ ' براؤن آنکھیں اور کالے بال تھے وہ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھا اور شفق گورے رنگ ، کانچ سی سنہری آنکھیں اور شہد رنگ بالوں کے ساتھ کوئی گڑیا ہی لگتی تھی ساتھ 


جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

Next epi mai hogi Aini in Shah Zain home...😜😜


Soo a66a sa response den ab...