Naik Shagoon Urdu Moral Story ) نيك شكون اخلاقی کہانی


      نيك شكون اخلاقی کہانی

میں ۔ایمن : اکبر بادشاہ نے اپنے دربار میں بہت سے عقل مند اور ذہین لوگوں کو جمع کر رکھا تھا ، جوا سے مشورے دیا کرتے تھے اوراکبر بادشاہ ان کے مشوروں پر مل بھی کیا کرتا تھا۔ یک با راس نے کسی نجومی سے سن لیا کہ صبح سورج نکلنے سے پہلے اگر منڈیر پر دوکے ایک ہی جگہ بیٹھے ہوئے دیکھے لئے جائیں تو ا یہ نیک شگون ہوتا ہے ،یعنی جوا ایک ساتھ دوکو ے دیکھ لے، وہ شخص بہت خوش نصیب ہوتا ہے ۔ با دشاہ کواس آسان اور بلکل مفت ملنے والے نیک شگون سے فائدے اٹھانے کا شوق پیدا ہو گیا ۔اس کے دربار میں سب سے زیادہ ذہین درباریوں کی تعدا د نو تھی ۔جنہیں ” نورتن“ کہا جا تا تھا ۔ان میں ایک رتن بیر بل کے نام سے سے مشہور ہے ۔ یہ بادشاہ کی ہاں میں ہاں بھی بہت ملایا کرتا تھا اوراگر با دشاہ کا کوئی حکم غلط بھی ہوتا تو وہ سے کسی نہ سی طرح درست ثابت کر دیتا تھا۔ چنانچہ بیربل کے ہوتے ہوئے کسی میں ہمت بھی کہ وہ بادشاہ کے

کسی عمل یا کسی حکم کو غلط کہنے کی جرات کر سکے ۔ بادشاہ نے جب یہ سنا کہ صبح سویرے سورج نکلنے سے پہلے کسی منڈیر پر ایک جگہ دو کے ایک ساتھ بیٹھے دیکھے جائیں تو یہ نیک شگون ہوتا ہے تو اس نے بیر بل کو حکم دے دیا کہ وہ اپنا بست محل میں ہی لگا لے، یہیں سویا کرے۔ اس کے ذمے داری ہے کہ وہ صبح سورج نکلنے سے پہلے بیدار ہو، با دشاہ کی خواب گاہ کے قریب ترین دوکو ے تلاش کرے، جونہی اسے دو کوے دکھائی دیں وہ فوراً با دشاہ کو بیدار کرے اور انہیں بھی یہ منظر دکھائے ، تا کہ با دشاہ سلامت اس نیک شگون‘ سے اپنے نصیب اچھے کر سکے ۔

بیر بل عقل مند بھی تھا اور وہ بادشاہ کی طبیعت سے اچھی طرح واقف بھی تھا، اس لئے اس حکم کا مطلب بھی اچھی طرح جانتا تھا کہ صبح ہی صبح با دشاہ کو کچی نیند سے بیدار کر نے پر بادشاہ کو غصہ بھی آ سکتا ہے ، جگانے والے کی جان

بھی جاسکتی ہے ۔ بیر بل کو ذہنی طور پر اس کیلئے تیار بنا ہوگا۔ بیر بل نے اپنے گھر میں کہہ دیا کہ وہ کچھ دنوں کیلئے گھر سے بے گھر رہے گا، کیونکہ اس کی رات کی ڈیوٹی لگ گئی ہے، اب جب تک صبح سورج نکلنے سے پہلے بادشاہ کو دوکو ے ایک ہی جگہ بیٹھے ہوئے نہیں دکھا سکے گا ، اس کی کوئی رات گھر پر نہیں گزرے گی ۔ وہ بادشاہ کے محل میں ہی سویا کرے گا ۔ رات کو جلدی سوئے گا، تا کہ نیند پوری ہونے

ر صبح جلدی بیدار بھی ہو سکے ۔ اس کے باوجود بیربل ( جو ہندو تھا) نے احتیاطاً محل کے ایک مسلمان ملازم کی ڈیوٹی لگا دی کہ وہ جب فجر کی نماز کیلئے اٹھے تو اسے بھی بیدار کرے، یہ سن کر وہ ملازم خوش ہو گیا کہ بیر بل بھی مسلمان ہو گیا ہے ، یہ بھی فجر کی نماز ھے گا ۔

ب وہ ملازم بیر بل کو سویرے سویرے جگا دیتا تھا ۔ بیربل کی کوشش ہوتی کہ بادشاہ کی خواب گاہ کے قریب ترین ہی کہیں دو کوے ایک ساتھ بیٹھے ہوۓ دیکھے، تا کہ با دشاہ کو اس نیک شگون کے حصول کیلئے دور نہ جانا پڑے، لیکن اسے ایسا موقع نہیں میں رہا تھا۔ بادشاہ روزا نہ اس سے پوچھتا:” کیوں بھئی! کیا ہوا؟ اب تک ہم ان نیک شگون سے محروم کیوں ہیں؟“

بیر بل جواب دیتا: "حضور! میری کوشش یہ ہے کہ آپ کی خواب گاہ کے نزدیک ہی دوکوے تلاش کیے جائیں تا کہ

آپ کو صبح ہی صبح دور نا جانا پڑے ۔“

اس کی تسلی سے بادشاہ خوش ہو جا تا ۔ آخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں ۔ ایک صبح بادشاہ کی خواب گاہ کے گے قریب ترین مقام پر پیر بل کو دوکو ے ایک ساتھ بیٹھے دکھائی دئے گئے ، وہ دوڑا دوڑا بادشاہ کی کوب گاہ تک آیا ۔ دروازہ بند تھا ،کھٹر کیاں بھی مضبوطی کے ساتھ بند تھیں ۔ پیر بل نے دستک دی کوئی جواب نہ آیا تو پھر زور زور سے دستک دی ۔ چند لمحے انتظار کیا،کوئی جواب نہ پا کر اور زور سے دروازہ بجایا ۔

آخر دروازہ کھلا اور بادشاہ شدید غصے کی حالت میں ننگے پیر انکھیں ملتا ہوا باہر آیا ۔ بیر بل کواتنی صبح ہی صبح اپنی خواب گاہ کے دروانے رپ دیکھ کر وہ حیران بھی ہوا ۔ اسے قطعی یا نہیں تھا کہ بہر بہل نے اسے اتنی صبح کیوں بیدار کر دیا ہے اور یہ کہ وہ صبح ہی صبح محل میں آیا کیسے؟ بیر بل بھی سمجھدار تھا ، اگر وہ ذراسی بھی دیر کرتا تو اسے اس کا انجام معلوم تھا فورا بولا: حضور! جلدی چلیے ، آپ کے

حکم پر دوکو ے ایک ہی منڈیر پر بیٹھے ہوئے پائے گئے ہیں ۔

بادشاہ کی نیندفو را ا ڑگئی ،اسے سب کچھ یا دا گیا تھا کہ نیک شگون سے فائد اٹھانا ہے ۔ وہ ننگے پیر ہی اپنا شب خوابی

لباس سنبھالتا ہوا بیر بل کے ساتھ ساتھ ہولیا۔ ایک جگہ پہنچ پر بیر بل رک گیا ۔ یکا یک اس کے شہرے کا رنگ بدل


Post a Comment

0 Comments